top of page

شیخ نثار حسین سرباز صاحب

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Jun 16, 2020
  • 3 min read


متوقع امیدوار پاکستان تحریک انصاف حلقہ دو سکردو

شیخ صاحب تو سب کی جانی پہچانی شخصیت ہے تعریف کی ضروت نہیں۔ البتہ آپ کے متعلق اتنا کہوں گا کہ حلقہ دو کی سیاسی میدان میں آپ کا کوئی ثانی نہیں۔ آپ کو حلقہ دو کی سیاست کا بےتاج بادشاہ کہوں تو بےجا نہ ہوگا کیونکہ آپ سیاسی میدان میں انتہائی ہوشیار اور شاطر کھلاڑی ہے۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ 2009 کے انتخابات میں آپ کے مدمقابل آنے والے سید محمد علی شاہ جوکہ خود پی پی کا نظریاتی کارکن اور جیالہ ہونے کے باوجود اتنا بڑا دھچکا دیا کہ وہ بےچارہ اب تک دوبارہ اٹھنے کے قابل نہیں بنا ہے۔ اسی طرح یہی ٹوٹکا اس دفعہ ذاکر ایڈوکیٹ پر آزمانے جارہے تھے تاہم سیاسی رخ بدلتا ہوا دیکھ کر شیخ صاحب نے بھی اپنا ارادہ فورا بدل لیا ہے اب وہ ٹکٹ کے بجائے کسی اور تک دو میں لگے ہیں۔ ابتداء میں شیخ صاحب سپاہ محمد کے صف اول کا مجاھد تھا تاہم بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی کا جیالہ بنا اور اب پاکستان تحریک انصاف کا چمپین بننے جارہے ہیں۔ آپ نے سیاست میں قدم رکھنے کےلیے سپاہ محمد کے پلیٹ فارم سے تحریک نصاب کا سہارا لیا اور ساتھ ہی ریڈو پر علی ولی اللہ اجراء کرنے کا نعرہ بھی بلند کیا۔ انہی نعروں سے عوامی لہو گرماتے ہوئے الیکشن جیت کر آپ ہاتھوں ہاتھ اسمبلی تک پہنچ گئے۔ مگر اقتدار کی حصول کے بعد آپ عوام سے کیے گئے وعدے اور لگائے گئے تمام نعروں کو بھلاکر اپنی دنیا میں مست ہوگئے۔ المختصر یہ میری بدقسمتی ہے یا خوش قسمتی کہ مجھے ابھی تک شیخ صاحب سے باضبطہ طور پر ملاقات کا کبھی موقع نہیں ملا۔ چونکہ شیخ صاحب کا شمار بڑی شخصیات میں ہوتے ہیں اور میں بڑے لوگوں سے ذرا بچ کے رہتا ہوں۔ شیخ صاحب دس سال اقتدار میں رہے اور اقتدار کی حصول میں آپ نے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ آپ کی دس سالہ حکومت میں کچھ عرصہ وزیر تعلیم کے فرائض انجام دینے کی بھی اطلاع ہے تاہم اپنی دور حکومت میں تعلیمی اداروں میں کیا گل کھلایا سب ہی جانتے ہیں۔ سپاہ محمد کے مجاہدانہ دور ختم ہونے کے بعد آپ نے پی پی ٹکٹ پر دوبارہ میدان مار لیا اور پیپلز پارٹی سے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے مرنے کے بعد خود کو پارٹی جھنڈے کے ساتھ دفنانے اور قبر پر پارٹی جھنڈہ لگانے کی وصیت بھی کی۔ البتہ صورت حال کے پیش نظر اسی جھنڈے میں پارٹی کو لپیٹ کر خود نے پی ٹی آئی میں چھلانگ لگائی۔ یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ حلقہ دو سے کسی بھی نمائمدے کو اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کےلیے کواردو قمراہ کا ووٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ لہذا آپ کو مطلوبہ کرسی تک پہنچانے کےلیے یہاں کے عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جس کے بدلے میں آپ نے اپنی دس سالہ دور میں کواردو کے مختلف مقامات پر کلی طور 9 کلومیٹر لنک روڈ کے ساتھ ہائی اسکول میں تین اضافی کمرے، گندم گودام اور آخری اے ڈی پی میں ایک گرلز مڈل سکول کا تحفہ دیا۔ اس کے علاوہ کواردو والوں کے لیے آپ کی طرف سے کچھ نایاب جملے بھی ہیں جو یہاں ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ آپ کی دور حکومت میں جس قدر میرٹ کی پائمالی ہوئی وہ ناقابل بیان ہے۔ خصوصا محکمہ تعلیم کو جس قدر بےرحمی سے نقصان پہنچایا تھا اس کا خمیازہ ہماری آنے والی کئی نسلوں تک بھگتیں گے۔ اس کے علاوہ حلقے کے دوسرے تمام نمائندوں کی نسبت آپ نے زیادہ عرصہ اسمبلی میں گزارنے کے باوجود حلقے کی حالت آج بھی ہم دیکھ رہے ہیں۔ آپ کے متعلق اکثر کی یہی شکایت ہے آپ نے عوامی مفاد کے بجائے گروہی کاموں پر زیادہ توجہ دیا ہے۔ اب آگے عوام نے خود فیصلہ کرنا ہے میں تو کم ز کم کسی کے متعلق کوئی رائے قائم نہیں کرسکتا۔ کیونکہ میں فقد اپنے ایک ووٹ کا مالک ہوں۔ جسے اپنی حق جمہوریت کی بناپر میری نظروں میں بہتر سمجھنے والے نمائندے کو دینے کا حق رکھتا ہوں۔

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page