جناب کاچو امتیاز حیدر خان صاحب
- S M Mosavi
- Jun 16, 2020
- 3 min read

اب تک کے آزاد امیدوار برائے حلقہ دو سکردو
کاچو صاحب کا تعلق علاقہ کواردو سے ہے تاہم آپ سکردو علی آباد میں مقیم ہیں۔ کاچو صاحب کی تعریف کےلیے اتنا کافی ہوگا کہ آپ پچھلے الیکشن میں پورے بلتستان سے بھاری اکثریت کے ساتھ جیتنے والا واحد نمائندہ ہے جس کی وجہ واضح ہے میں زیادہ تفصیلات میں جانا نہیں چاہتا۔ کاچو صاحب سے تمام تر نظریاتی اختلافات کے باوجود کوئی بھی آپ کی قابلیت سے انکار نہیں کرسکتا۔ جی بی اسمبلی کے موجودہ تمام اراکین میں آپ کو سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور قابل نمائندہ مانا جاتا ہے۔ سابقہ انتخابات میں آپ مجلس وحدت مسلمین کی ٹکٹ سے الیکشن جیت کر اسملبی تک پہنچ گئے مگر بعد میں پارٹی اور ان کی نظریاتی اختلاف کی وجہ سے پارٹی کو خیرباد کہنا پڑا البتہ اس اختلاف کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑا۔ الیکشن جیتنے کے بعد تقریبا تین سال کا عرصہ کاچو صاحب بلکل عوام سے دوری اختیار کرکے خود ساختہ قرنطینہ میں رہے اب الیکشن نزدیک آتے ہی دوسرے نمائندوں کی طرح سیاسی بھاگ دوڑ شروع کیا ہے۔ اس وقت آپ کا تعلق ظاہرا کسی بھی سیاسی یا مذہبی پارٹی سے نہیں۔ اگرچہ سیاست میں آنے سے قبل غیر ملکی مختلف این جی اوز سے مربوط ہونے کی بناپر آپ پہلے سے ہی مذہبی جماعتوں اور مذہبی افراد سے سخت نالاں تھے لیکن پچھلی الیکشن میں عوامی دباو کی وجہ سے مجبورا مجلس وحدت المسلمین کا سہارا لینا پڑا تھا جس کا نتیجہ بعد میں اختلافی صورت میں سامنے آیا۔ مجلس وحدت کی رکنیت معطل ہونے کے بعد سے اب تک آپ نے کسی اور پارٹی میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا لیکن وقتا فوقتا آپ کی کاوش جاری رہی کسی طور بھی ایک مضبوط سیاسی جماعت کا سہارا حاصل کرسکے۔ اگرچہ ان کے چاہنے والوں کا دعوی ہے کہ عین موقع پر پاکستان تحریک انصاف کی ٹکٹ کاچو کو ملےگی اور کاچو ایک مرتبہ پھر بھاری اکثریت سے جیت جائےگا۔ تاہم اس حوالے سے خود کاچو صاحب کا کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا بلکہ ایک دفعہ ٹیلی فونک رابطے پر ان کا کہنا تھا نون لیگ کی جانب سے وزیر اعلی اور سینیٸر وزیر حاجی اکبر تابان نے باقاعدہ آفر کی ہے لیکن میں نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ اب کاچو صاحب کسی پارٹی کے ساتھ میدان میں اتریں گے یا آزاد الیکشن لڑیں گے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ لیکن موجودہ صورت حال اور مشاہدات سے لگ رہا ہے آپ ضرور کسی سیاسی پارٹی کی حمایت حاصل کریں گے یا پھر اس دفعہ ان کو دوسری مذہبی جماعت کا کندھا میسر ہوگا۔ چونکہ سیاسی جماعتوں کے حوالے سے صورت حال اس نہج کو پہنچی ہے کہ اب تمام راستے بند ہوکر صرف نون لیگ کا دروازہ کھلا رہ گیا ہے جو کہ عوام کےلیے ناقابل قبول پارٹی ہے اس لیے کاچو صاحب کو حلقے میں اس بار کافی ساری چیلنجز کا بھی سامنا ہوگا۔ کیونکہ کاچو صاحب کا اپنا ہوم اسٹیشن کواردو جس کی ووٹ کسی بھی نمائندے کی جیت کی علامت سمجھی جاتی ہے یہاں سے بھی اس بار متفقہ طور پر مکمل ووٹ ملنا مشکل ہے چونکہ یہاں کے ووٹ بھی اب مختلف گروپس میں تقسیم ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ لیکن اگر کاچو صاحب نے کچھ علاقوں میں تعمیراتی کاموں اور دیگر اسکیموں کے ذریعے عوامی دل جیت لیے ہیں تو وہاں سے ان کےلیے ووٹ ملنے کا امکان ہے۔ کاچو صاحب کی پانچ سالہ دور حکومت میں اگرچہ کبھی تفصیلی ملاقات کا موقع نہیں ملا لیکن سوشل میڈیا پر دیکھنے والی کارکردگی اگر صرف فیس بک کی حد تک نہ ہو تو پچھلے سارے نمائندوں کی نسبت کچھ تعمیراتی کام سوشل میڈیا پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ لیکن جتنا سوشہ فیس بک پہ چھوڑ رہا ہے عملی میدان میں ایسا نظر نہیں آرہا۔ کاچو صاحب کے پانچ سالہ دور میں ان کی اپنی اے ڈی پی سے اب تک کواردو میں میرے گاوں (سید آباد) اور منتظر آباد گاوں کےلیے 50kw کا ایک ایک ٹرانسفارمر ملا ہے۔ یرکھور علی آباد میں ہزار فٹ کا روڈ مکمل ہوا ہے۔ باقی شیخ نثار کے دور میں رکھا ہوا ایک گرلز مڈل سکول کا فنڈ بھی کاچو نے ریلیز کیا ہے جو اب تکمیلی مراحل میں ہے۔ اس کے علاوہ جتنے بھی پروجیکٹس کی باتیں ہورہی ہیں وہ یا تو ابھی کاغذی پروسیس میں ہے یا پھر فیس بک والا کواردو میں انجام پایا ہے۔ البتہ کاچو صاحب کی اپنی ذاتی کاوشوں سے اے ڈی پی کے علاوہ بھی بہت سارے پروجیکٹس کی منظور ہونے کی خبر ہے۔ جن پر بہت جلد عمل درآمد بھی متوقع ہے۔ خدا کرے کاچو صاحب کو حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کا موقع ملے۔ ہماری دعائیں اور نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہیں۔



Comments