جناب ذاکر ایڈوکیٹ صاحب
- S M Mosavi
- Jun 16, 2020
- 2 min read

متوقع امیدوار پاکستان تحریک انصاف حلقہ دو سکردو
اعلی تعلیم یافتہ، قانون دان و نوجوان قیادت جناب ذاکر ایڈوکیٹ صاحب کا تعلق علی آباد گمبہ سکردو سے ہے۔ آپ نے ایم اے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وکالت سے وابسطہ ہونے کے ساتھ 2010 سے سماجی سرگرمیوں میں پیش پیش ہیں۔ جبکہ 2011 میں آپ نے باقاعدہ سیاسی کارکن کے طور پر میدان میں قدم رکھا۔ آپ پاکستان تحریک انصاف کا نظریاتی کارکن ہے۔ اس لیے آپ کا شمار بلتستان میں عمران خان کا سپاہی اور حلقہ دو میں تحریک انصاف کے بانیان میں ہوتا ہے۔ چونکہ آپ مذہبی جماعتوں اور مذہبی لوگوں سے نالاں نظر آتا ہے اس لیے سن 2015 کے انتخابات میں آپ نے تحریک انصاف کی ٹکٹ سے اپنی سیاست کا آغاز کیا مگر مدمقابل میں ایک مضبوط مذہبی جماعت ہونے کی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکا۔ 2018 میں آپ نے سول جج کےلیے امتحان دیا جس میں کامیابی حاصل ہونے کے باوجود آپ نے سیاست کو فوقیت دی۔ ایڈوکیٹ صاحب سے پہلی ملاقات جوار امام الرضا ع مشھد مقدس میں ہوئی۔ اگرچہ اس سے پہلے آپ کے بارے میں غائبانہ تعریفیں سن رکھی تھی مگر جب ملاقات ہوئی تو توقع سے زیادہ آپ کو علاقے کا درد مند پایا بہت ساری معاملات پہ بحث و مباحثہ اور سوال و جواب کا سلسلہ رہا جس کا انہوں نے اطمینان بخش جواب دیا۔ گزشتہ الیکشن کے دوران حلقہ دو میں پی ٹی آئی کا نام لینے والا بھی نہ تھا اور جیتنے کی کوئی امید بھی نہیں تھی لیکن اس وقت بھی انہوں نے بڑی ہمت سے اپنی مدد آپ تحریک انصاف کی سیٹ پر الیکشن لڑ کے نظریاتی کارکن ہونے کا ثبوت دیا۔ اس بار بھی آپ اسی ٹکٹ کا امیدوار ہے مگر اس دفعہ وفاق میں پی ٹی آئی حکومت دیکھ کر کچھ پرانے سیاست دانوں نے تحریک انصاف میں چھلانگ لگائے ہیں اور کچھ ابھی شارٹ کٹ کے ذریعے ٹکٹ حاصل کرکے جیت کا سہرا اپنے سر سجانے کی خواب دیکھ رہے ہیں۔ البتہ امید ہے تحریک انصاف اپنی نظریاتی کارکنوں کے ساتھ ناانصافی نہیں کرے گی اگر پی ٹی آئی اپنے نظریاتی کارکنوں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہی تو پھر یہ انصاف اور تبدیلی کے سارے نعرے جھوٹے اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ اس ملاقات میں ایڈوکیٹ صاحب نے اپنا موقف بھی واضح کیا تھا کہ ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں اپنی پالیسی کے مطابق الیکشن لڑوں گا۔ انہوں نے کیا پالیسی اپنا رکھی ہے یہ وقت ہی بتا سکتا ہے۔ میرے خیال میں اب پرانے سیاست دانوں کے بجائے نئی قیادت کو موقع ملنا چاہیے جنہوں نے دس دس سال اقتدار ملنے کے باجود علاقے کےلیے کچھ نہیں کیا تو اب کیا کریں گے؟ الیکشن کے نزدیک آتے ہی یہ سارے نعرے اور ہمدردیاں محض حکومت اور کرسی تک رسائی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ اب کچھ بصیرت سے کام لیں اور نوجوان قیادت کو سامنے آنے کا موقع فراہم کریں چونکہ معصومین کا فرمان ہے آزمائے ہووں کو آزمانہ جہالت کی انتہا ہے۔ لہذا اس وقت تحریک انصاف کی قیادت بھی ٹکٹ کے حوالے سے کشمکش میں ہے۔ اب ٹکٹ کا فیصلہ ان کی قیادت نے کرنی ہے اور ووٹ کا فیصلہ عوام نے کرنی ہے۔ ہم نے دیکھنا ہے کس میں ہے کتنا دم💪



Comments