زندان میں رہبر معظم پر کیا گزری۔ خود رہبر کی زبانی سنئیں
- S M Mosavi
- Mar 28, 2020
- 2 min read
زندان کا واقعہ
ميرى گرفتارى رجب کے مہينے کے آخر يا ماه شعبان کے شروع ميں ہوئى تهى۔ دن گزارتے گئے اور رمضان المبارک قریب آگیا۔ میں نے بر آمدے میں تفتیش کاروں کے سربراہ کے چلنے کی آواز سنی۔۔۔ جب وہ قریب آیا اور میری کوٹھڑی کے نزدیک ہوا تو میں نے اسے آواز دی۔۔ اس نے دروازہ کھولا اور مجھے سے حال احوال پوچها۔ وہ مجھے شیخ کہہ کر پکارتے تهے۔ جبکہ عام طور پر مجھ جیسوں کو سید کہہ کے پکارا جاتا ہے۔
میں نے اس سے کہا: رمضان المبارک کا مہینہ نزدیک ہے اور میرے لیے کوٹھڑی میں نماز، روزہ اور دعا جیسی عبادات انجام دینا ممکن نہیں، لہذا اس مہینے میں مجهے یہاں سے نکالیں۔
اس نے کہا: حيرت ہے، رمضان آرہا ہے؟ روزے کے لئے یہ بہترین جگہ ہے۔ یہ مسجد ہے(اس نے کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا) اور یہ حمام ہے۔ (اس نے جیل کے حمام کی طرف اشارہ کیا) یہیں رہو،نماز پڑھو۔ روزے رکھو۔
مجهے پتا تها وه مجهے یہاں سے آزاد نہیں کریں گے۔ لیکن میں نے اس سے ایک بڑا مطالبہ کیا۔ تاکہ وہ میرا چہوٹا مطالبہ پورا کردے۔
ميں نے فوراً کہا: ٹھیک ہے، پھر مجھے قرآن ساتھ رکہنے کی اجازت دے دیں۔ اس نے کہا: ٹهيک ہے.
اس نے قرآن ساتھ رکهنے کى اجازت دے دى. ميرے گهر سے ايک قرآن لايا گيا.!
مکمل تاريکى ميں قرآن پڑهنا ممکن نا تها.
ميں نے نگهبان سےکہا: ميں قرآن پڑهنا چاہتا ہوں لٰہذا تهوڑا سا دروازه کهول دو.
وه گيا اور اس نے اجازت مانگى. انهوں نے دس سينٹى ميٹر تک دروازه کهولنے کى اجازت دے دى.
قرآن پڑهنے کے لئے اتنا فاصلہ کافى تها. ميں نے اس مہينے ميں بہت زياده قرآن پڑها اور جتنا ممکن تها قرآن حفظ کيا.! اس طرح مجهے قرآن مل گيا_!🍂
جيل ميں تشدد کے علاوه تلاوت اور روزوں کى وجہ سے ميرى نظر اور زياده کمزور ہو گئى..
از کتاب
زندان سے پرے رنگِ چمن
رهبرِ معظم کى ڈائرى





Comments