گلگت بلتستان والوں کو71 ویں یوم آزادی مبارک ہو۔
- S M Mosavi
- Apr 1, 2020
- 6 min read
تحریر: ایس ایم موسوی
روزنام سلام، بیدار
یکم نومبر 2018
ایک اور سال بیت گئے آزادی کی راہ میں،یکم نومبر کا روزِ سعید ہر سال گلگت بلتستا ن کے باشندوں کے لیے ان گنت خوشیوں اور مسرتوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ گذشتہ چھے دہائیوں سے گلگت بلتستان کے ہر ایک شہری کا تعلق اس کے شاندار ماضی سے جوڑے ہوئے ہے۔وہ ماضی جو بیک وقت خوشی و شادمانی کا پیامبر بھی ہے اوردعوت غور و فکر بھی دیتا ہے کہ اہل شمال اپنے ماضی اورحال کے موازنے سے مستقبل کی پیش بندی کریں اور اپنے سماجی و اجتماعی رویوں میں سچائی،حق گوئی،جذبہ آزادی اور وطن پرستی کے جذبوں کو فروغ دینے کی اپنی سی کوشش کریں۔ یہی بے لوث جذبے تھے جنہوں نے چند سو بے یار ومدد گار و بے سروسامان آزادی کے متوالوں کو آتش و آہن سے بھر دیا اور وہ قوت عطا کی کہ وہ د نیا بھر کی قوموں کے لیے شاندار مثال قائم کریں کہ جذبہ آزادی و حریت سے سرشار قومیں اپنی منزلوں کا نشاں کھوجنے کس حد تک جاسکتی ہیں۔آج سے ستربرس قبل گلگت بلتستان کی سرزمین پر غلامی کی تاریک شب کا سایہ تھااور یہ تاریکی اس سرزمینِ بے آئین کے ہر ایک باشندے کے قلب و روح میں منجذب تھی۔مطلق العنان حکمرانی کی ننگی شمشیرتلے رعایا پابہ زنجیر تھی اور ریاستی ظلم و جبر کے بدترین دور سے گزر رہی تھی۔سلطنتِ برطانیہ کی طرف سے مبلغ سات روپیہ فی کس قیمت پر بکنے کے بعد وہ عزتِ نفس اور خودی کا جوہر بھی کھو چکے تھے۔گردشِ ایام نے ان کی قسمت میں مجبوری و محرومی کا نہ ختم ہونے والا باب لکھ دیا تھا۔ جبر و استبداد، ظلم وبربریت، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور ماورائے آئین و قانون قتل و غارت گری ایسے جرائم نے اس نام نہاد ریاستی حکومت و عمل داری کو مضبوط بنیادیں اور اساسیت فراہم کررکھی تھی۔خوف وہ واحد جذبہ تھا جسے وقت کے اولی الامر کی جانب سے پنپنے اور اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی کامل آزادی تھی۔بھاری ٹیکسوں کی ادائیگی اور ریاست سے غیر مشروط وفاداری کا عوض جان کی امان کی صورت مل سکتا تھا۔گلگت بلتستان کے لوگ اس ظلم و ستم کی زندگی سے یکسرعاجز تھے، مگر المیہ یہ تھا کہ وہ سرے سے یہ شعور ہی نہ رکھتے تھے کہ وہ کبھی آزاد شہری کی حیثیت سے زندگی گزار سکتے ہیں اور معاشرے میں عدل وانصاف، انسانی حقوق اور برابری کے مواقع سے مستفید ہو سکتے ہیں۔سالہا سال کی غلامی اور مایوسی کے دبیز اندھیروں نے ان سے امید کی آخری لو بھی چھین لی تھی، مگر ہر رات کے دامن میں سپیدہ سحر موجزن رہتا ہے اور ہر سیاہ بادل رخِ خورشید کا نقاب بن کر سرک ہی جاتا ہے۔گلگت بلتستان کی آزردہ و پژمردہ مٹی سے آزادی کے متوالوں کا خمیر اُٹھا، جنھوں نے اپنی بہادری،جوش، ولولے اور عزم سے ریاستی جبر و استبداد کا خاتمہ کر دیا۔گلگت سکاوٹس کے جان نثاروں نے غلامی و مایوسی کے اس مشکل دور میں یقین کی حدیں پھلانگ کر،علاقے کے عوام کو ان کی تقدیر سے ملادیا۔ان چند سو جانثاروں نے بے سروسامانی کی حالت میں اپنے سے کئی سو گنا طاقتور اور جدید اسلحے سے لیس دشمن کے خلاف جو کارنامہ سرانجام دیا، وہ دنیا بھر کے عسکری ماہرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ایسی کامیابی عزمِ راسخ،پختہ یقین اور اللہ تعالی کی ذات پر کامل ایمان ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔گلگت سکاوٹس کے جوانوں نے نہایت منظم حکمت عملی سے دشمن کے خلاف پے در پے کامیابیاں حاصل کیں۔انھوں نے اپنا لائحہ عمل اس طرح ترتیب دیا کہ ان کی محدود افرادی قوت اور وسائل کی کمی بھی ان کے رستے میں حائل نہ ہو سکی۔انھوں نے زنگ آلود بندوقوں، کلہاڑوں اور لاٹھیوں کے ساتھ برف زاروں میں ننگے پاؤں ہمارے بقا کی جنگ لڑی اور فتح یاب ہوئے۔ان کی بہادری،دلیری اور بے خوفی لازوال ہے۔غیرت و حمیت تو قبائل کی گھٹی میں ہے،ان لوگوں نے جس طرح مستقبل کی پیش بینی کی اورقومی زندگی میں آزادی و خود مختاری کی اہمیت و افادیت کا ادراک کیا،اس سے ایک خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔آج کا دن ان تمام غازیوں اور شہدا ء کے جذبہ آزادی کو خراج عقیدت پیش کرنے کا دن ہے،جنھوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے مایوسیوں سے لتھڑے ہوئے کل سے ہمارا روشن آج تراشا۔یہ آزادی بہت ہی بیش قیمت ہے اور ہمیں اس کے تحفظ کے لیے یک دل ہو کر سعی کرنا چاہیے۔آزادی کی قدرو منزلت کا اندازہ ان قوموں کی تکالیف و اضطراب سے لگایا جاسکتا ہے،جنھیں یہ آزادی کی نعمت حاصل نہیں۔ گلگت بلتستان کے ہر ایک فرد کو یاد ہونا چاہیے کہ آج اگر وہ معاشرے کا ایک آزاد و خود مختار فرد ہے،تو اس کی قسمت کی یہ روشن لکیر ہمارے آبا کے لہو سے کندہ ہے۔لہٰذا یہ قوم کے ہر اک فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ مساعی جمیلہ سے حاصل شدہ نعمت کی قدر کرے اور اس کی مضبوطی واستحکام کے لیے اپنا فریضہ بہ احسن نبھائے۔کہنے کو آج یکم نومبر یوم آزادی گلگت بلتستان کا دن ہے۔مگر یہ کیسی آزادی ہے سمجھ نہیں آرہا یہاں کے عوام نے اپنی مدد آپ ڈوگروں سے آزاد کراکر اس خطے کو پاکستان کے حوالے کیا اور خود ستر سالوں سے آئینی حقوق کے لیے ترستے رہ گئے۔یہاں کے عوام اپنی مقدر کا فیصلہ خود نہیں کرسکتے،یہاں کے عوام کو پاکستان کے کسی بھی حکومتی ادارے میں نمائندگی کا حق نہیں،اور نہ ہی پاکستان کے آئین میں ان کی کوئی شناخت ہے،شائد مفتہ مال کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اگر اس خطے کی آزادی میں حکومت کو کچھ قربانی دینی پڑتی تو آج ہم اس حال میں نہ ہوتے لیکن ہمارے بزرگوں نے اس وقت کے حکمرانوں کو زحمت سے بچاکر خود نے زحمتیں کی جس کے نتیجے میں آج ستر سالوں سے ہم زحمت اٹھانے پر مجبور ہیں، اگر اس دن کو ہم اپنے غازیوں کو یاد کرتے ہوئے یوم تجدید عہد کے طور پر منا لیں تو بہتر ہے،اگر اس مرتبہ سطحی و رسمی تقریبات و خطبات میں احساسِ ذمہ داری و تشکر کی گھلاوٹ بھی ہو تو سمجھنا چاہیے کہ یوم آزادی کو ہم نے یوم تجدید عہد کے طور پر منالیا۔گلگت بلتستان کے عوام کا آج اس یوم آزادی کے موقع پر یہ عہد ہونا چاہیے، کہ ہم اپنے بزرگوں کی پیروی کرت ہوئے اس خطے کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے کوششیں کرتے رہیں گے۔ روا داری، مذہبی ہم آہنگی،پرامن بقائے باہم، برداشت اور صلہ رحمی کو فروغ دیں گے اور ایسے افعال اور امور کو فروغ دینے سے اجتناب برتیں گے،جن سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہوں اور علاقہ دشمنوں کے لیے تر نوالہ ثابت ہوسکے۔لیکن آج گلگت بلتستان کے طول و عرض میں یومِ آزادی منایا جارہا ہے،یہ بات درست ہے کہ یکم نومبر کو اس وقت کے گورنرگھنسارا سنگھ کو گرفتار لرلیا تھا جس سے گلگت کی آزادی ہوگئی ،البتہ یہ آزادی شاید دنیا کی مختصر ترین آزادیوں میں سے ایک ہے جو صرف اکیس دنوں تک قائم رہ سکا۔ڈوگروں سے آزادی کے اکیس دن بعد ہی چند مبھم معاہدوں کے ذریعے پاکستان سے الحاق کا اعلان ہوگیا۔ مگراس وقت بلتستان میں ڈوگروں کی راج تھی جو قریبا اس آزادی کے آٹھ ماہ بعد تک جاری رہی،لیکن پاکستان سے الحاق کے بعد بھی گلگت بلتستان کو اپنا شناخت نہیں دیا گیا۔کبھی اس خطے کو کشمیر سے جوڑ دیا جاتا تو کبھی اسے متنازعہ علاقہ کہ کر نظر انداز کرتے رہے.جسے اپنوں کی نادانی سمجھیں یا پھر غیروں کی سازش ۔جتنی بھی وفاقی پارٹیاں ہیں وہ الیکشن کے وقت یہاں آکر بلند و بام دعوے کرتے ہیں مگر جیسے ہی الیکشن ختم ہوجاتی ہے تو یہ گیا وہ گیا کوئی نظر تک نہیں آتا۔وفاقی موسمی پرندوں کی بات تو چھوڑیں انھوں نے تو گلگت بلتستان کو حقوق نہ دینے کی قسم کھائی لیکن یہاں کے منتخب نمائندے بھی عوام کو حقوق دینے میں یکسر ناکام نظر آتی ہیں۔اگر کسی نے ہمت کر کے حقوق مانگی بھی توان کو کبھی فورتھ شیڈول کی نظر کر دیا جاتا ہے تو کبھی اینٹی پاکستان کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔جبکہ ہم بھی پاکستان سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی پاکستان کی دوسرے صوبوں کے لوگ کرتے ہیں نہ ہم نے کبھی پاکستان سے الگ ریاست کی ڈیمانڈ کی ہے،اورنہ ہی کبھی پاک فوج اور عدلیہ کے خلاف کوئی نعرہ لگائی ہے بلکہ گلگت بلتستان والے ہمیشہ سے صوبائی حقوق دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ان کا بنیادی حق۔گلگت بلتستان کے لوگ نہ کبھی ریاست پاکستان کے خلاف تھے اور نا ہی آئین پاکستان کیخلاف، اگر خلاف ہیں تو نام نہاد آتی جاتی حکومتوں کی جو 70 سالوں سے یہاں کے لوگوں کی جذبات کو پرکھ رہے ہیں۔آج ایک طرف یہاں کے لوگ اپنی آزادی کا جشن منانے کی تیاریوں میں ہیں تو ایک طرف سپریم کورٹ سے یہاں کے باسیوں کی مقدر کا فیصلہ ہونے کا شدت سے انتظار کررہے ہیں اگر آج یوم آزادی کے دن سپریم کورٹ سے یہاں کے عوام کے لیے آئینی حقوق دینے کا فیصلہ آجائے کتنا اچھا ہوگا کہ ستر سالوں سے محروم عوام کی خوشیاں دوبالا ہوجائے گی، امید ہے چیف جسٹس اس حوالے سے بہتر فیصلہ صادر فرمائیں گے اور یہاں کے محروم اور باوفا عوام کو اپنی شناخت دے کر عدالت عظمیٰ کی حقیقی فرض نبھائیں گے۔اور یہاں کے عوام کو مزید ذہنی اذیت میں مبتلا نہیں رکھیں گے۔





Comments