گلگت بلتستان میں انتخابی تاثرات (۱)
- S M Mosavi
- Mar 31, 2020
- 4 min read
تحریر: ایس ایم موسوی
15 اپریل 2015
روزنامہ کےٹو
گلگت بلتستان پاکستان کا ایک ایسا خطہ ہے جہاں سے حکومت پاکستان کو مسلسل فائدہ پہنچ رہا ہے اس کے باوجود حکومت پاکستان کی طرف سے اس خطے کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے یعنی گلگت بلتستان مسلسل محرومیت کا شکار رہا ہے جب کہ گلگت بلتستان کے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت ظالم و جابر حکمرانوں سے آزاد کراکر اس خطے کا الحاق حکومت پاکستان کے ساتھ کردیا اورایک طرح سے یہ علاقہ پاکستان کا رگِ حیات ہے کیونکہ پاکستان میں بہنے والے بڑے دریا اسی علاقے سے بہہ کر آرہے ہیںاور دنیاکے دوسری بڑی چوٹیK2بھی اسی علاقے میںہےاور اس کے علاوہ بھی کئی خصوصیات کا حامل ہے جس سے حکومت پاکستان کو مسلسل فائدہ ہورہا ہے ۔اس وجہ سے حکومت پاکستان نے وفاقی حکومت کے ذریعے اس پر کنٹرول کیا جاتا رہا لیکن ہمارے لیئے کوئی معقول سیٹ اپ نہیںدیا جس کی وجہ سے یہ علاقہ کی محرومیت کا باعث بناہوا ہے صدیوں کی محرومیت کے بعد اگر چہ 2009 میں کسی حد تک ایک حثیت دی گئی ہے مگر ابھی بھی اس کو واضح صوبائی حثیت سے تعین نہیں کیا گیابہر کیف یہاں پر انتخابات ہوئے اور ایک لوکل انتظامیہ وجود میں آئی لیکن ان کو کوئی قانونی و آئینی اختیارات نہیں دیئے گئے ۔ اس علاقے کی تعمیر و ترقی کیلئے نعرے تو بہت لگائے گئے مگر عملی میدان میں یہاں کچھ بھی نہیں کیاگیابہت سی پارٹیاں اور گروہ صرف اپنے مفادات کے پیشِ نظر اس علاقے کے متعلق اظہار نظر کرتے ہیں حقیقت میں ان کو اپنے اقتدار سے مطلب ہے نہ ہی یہ لوگ عوام کے ساتھ مخلص ہیں نہ ہی اس علاقے کے ساتھ، یہ لوگ صرف اپنے اقتدار کی خاطر یہ نعرے لگاتے ہیں تمام سیاسی پارٹیوں کا ایک ہی منشور ہوتا ہے ،یہ کئی ناموں سے بنی ہوئی ہے دائیں بازو کی ہوں یا بائیں بازو کی،مختلف دینی جماعتیں ہوں یا غیر دینی ان سب کاایک ہی منشور ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر قیمت میں اقتدار میں آنا ہے اس کے لیئے انہیں جو بھی قیمت ادا کرنا پڑے وہ ادا کرنے کو تیار ہیں یہ الگ الگ نام کے بنے ہوئے ہیں حقیقت میں بہت ساری چیزوں میں باہم شریک ہوتے ہیں اور جو ان کے آپس کے اختلافات ہیں وہ جزوی اور صرف عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے ہیں جیساکہ روزمرہ کے مشاہدات میں ہمیں نظر آتا ہے کہ جہاں مل بیٹھنا ہو خود آپس میں مل بیٹھتے ہیں مگر عوام کو تقسیم کردیتے ہیں۔لہذا ان سیاسی پارٹیوں کی مداخلت سے گلگت بلتستان کیلئے سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ جہاں لوگ پہلے بھائیوں کی طرح ایک دوسرے سے مل جل کر بیٹھتے تھے اب سیاسی وابستگیوں کے اندر تقسیم ہورہے ہیں ،دوسرا نقصان یہ ہے کہ گلگت بلتستان جو کہ ایک دینی معاشرہ ہے یہ سیاسی جماعتیں اس معاشرے کی کلچر کوآہستہ آہستہ ختم کر کے یہاں ترقی کے نام پر ماڈرن یعنی بے دین معاشرہ بنا رہی ہیں ،اور تیسرا بڑا نقصان لوگوں کی شناخت بھی ختم ہورہی ہے اس وقت گلگت بلتستان کے عوام اپنی ایک شناخت رکھتے ہیں ہماری مخصوص اور معین شناخت ہے جو ہمیں باقی ملک سے منفرد رکھے ہوئے ہے ہماری یہ شناخت پامال ہونے کا شدید خطرہ ہے اور اس کا نمونہ دیکھنا ہو تو افغانستان میں موجود ہے جو افغانی معاشرے سے آگاہ ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں ۔ جس طرح افغانستان میں آزادی اور جمہوریت کے نعرے لگارہے تھے اسی طرح یہ عمل گلگت بلتستان میں بھی شروع کیا گیا ہے اور یہ سیاسی جماعتیں بھی ان نعروں کے ساتھ اس علاقے میں داخل ہورہی ہیں حقیت میں یہ جو آذادی کے نعرے لگاتے ہیں یہ سب صرف اس علاقے میں داخل ہونے کے لیئے راستہ ہموار کرنا ہے۔گلگت بلتستان خصوصاً بلتستان جو کہ اس وقت امن کا گہوارہ بنا ہوا ہے مگر ہمارے کچھ لوگوں کے نادانی کی وجہ سے کچھ ایسی سیاسی پارٹیاں اس علاقے میں داخل ہوگئی ہیں جن کا منشوردہشت گردی اورقتل و غارت گری پر مبنی ہے جو کہ ہمارے مستقبل کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے لہذا ہمیں بصیرت سے کام لینا چاہیے اس وقت یہاں جوایک تبدیلی آئی ہے یعنی جو عمل انجام پایا ہے اس عمل سے نقصان بھی اٹھایا جاسکتا ہے اورفائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے اگر ہم سادگی دکھائے تو دوسرے اس فرصت سے فائدہ اٹھالیں گے اور اگر ہم نے بصیرت سے کام لیا تو ہم فائدہ اٹھا لیں گے دوسرے شائد نقصاں اٹھائیں یا دوسروں کے مقاصد پورے نہ ہوں لیکن ہم اس وقت اپنے مقصد تک پہنچ سکتے ہیں جب ہم ان سیاسی پارٹیوں سے واضح و روشن اہداف و مقاصد معین کروائیں اس کیلئے ہمیں معلوم ہونا چاہیئے کہ ہمیں اپنے علاقے کیلئے سیاسی پارٹیوں سے کیا چیز چاہیے اور کس طرح سے اسلامی معاشرہ کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں؟ہم چاہتے ہیں کہ اس علاقے میں ترقی ہو ترقی سے مراد تعلیمی مراکز، یونیورسٹیز، مختلف شعبوں کے کالجز ،مرد و خواتیں کے لئے الگ الگ تعلیمی ادارے بنیں ،اگر تمہیں کوئی کام کرنا ہے تو سڑک بنائو،بجلی لائو،گیس لائواور اس سیاحتی علاقے میں سیروسیاحت کیلئے سہولتیں ایجاد کی جائیں جس میں لوکل لوگوں کو بزنس ملے تاکہ یہ لوگ یہاں سے ہجرت کر کے دوسرے علاقوں میں نہ جائے اور یہیں پر اچھی زندگی بسر کرے اورہمارے کلچر کو ہاتھ نہ لگائے ہماری آبادی کے تناسب کو نہیں چھیڑنا ہماری شناخت اور تشخص نہیں مٹانا ہمارے دین و مذہب میں داخل اندازی مت کرنایہ سارے مطالبات ہمیں ان سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کے سامنے رکھنا چاہئیں ایسا نہ ہو کہ الیکشن کے دنوں پانی بجلی کا نعرہ لگائیںلیکن حقیقت میں یہ یہاں گھسنے کا بہانہ ہو اور خدانخواستہ اگر یہاں غفلت برتی گئی تو اس کے بہت ہی تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے ۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





Comments