گلگت بلتستان اور آئینی حقوق۔۔۔۔۔(۲)
- S M Mosavi
- Apr 1, 2020
- 7 min read
تحریر: ایس ایم موسوی smmosavi512@gmail.com
روزنامہ سلام، بیدار 18 اکتوبر 2018
گزشتہ سے پیوستہ
اس وقت تمام انتظامی و عدالتی اختیارات اس فرد واحد(سردار عالم خان) کو حاصل تھا۔ کہانی کا رخ 28 اپریل 1949 میں آکے تبدیل ہونے لگا جب گلگت بلتستان کے فیصلہ کشمیر کے سردار ابراہیم خان اور چوہدری غلام عباس حکومت پاکستان کے نمائندہ مشتاق گورمانی کے ساتھ معاہدہ کراچی کے نام سے کیا۔جب کہ اس معاہدے کے دوران گلگت بلتستان کا کوئی نمائندہ موجود نہ تھاجو اپنے حقوق کی دفاع کرسکے۔معاہدہ کراچی کے بعد 1960 میں صدر ایوب خان نے گلگت بیسیک ڈیموکریٹیک نام سے ایک نظام متعارف کرویا جو کہ 1971 تک رہا 1971 میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایف سی آر یعنی خیبر پختون خواہ انتظام کو ختم کر کے بادشاہ سلامت پولیٹیکل ایجنٹ کو برقرار رکھا 1975 کو ایک بار پھر بھٹو صاحب نے ناردرن ایڈوائزر کونسل قائم کیا جس میں آٹھ ممبر GB کے اور آٹھ وفاق سے اور کونسل کے چیف وزیر امور کشمیر و شمالی علاقہ جات کو بنایا۔ یہ تسلسل جاری رہا 1981 کے بعد اس تسلسل کی نسبت میں کافی بہتری دیکھنے کو ملے۔1981 کو ضیا الحق صاحب نے ناردرن ایریاز میں سیٹزن شیپ ایکٹ لگایا۔ کچھ عرصہ بعد 1994 میں بینظیر بھٹو نے گورنینس آرڈر دیا، ساتھ ہی ساتھ 1999 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ رکنی بنچ نے فیصلہ صادر کیا گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھی پاکستان کے شہری تسلیم کیا جائے۔لیکن سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے اس فیصلہ پرتاحال کوئی عملدرامد نہ ہو سکا۔ اس حوالے سے موجودہ چیف جسٹس جناب ثاقپ نثار صاحب کی سربراہی میں دوبارہ اس کیس کی سماعت کے سلسلے میں اب سات رکنی فل بینچ تشکیل دی ہے جو یکم نومبر کو یوم آزادی گلگت بلتستان کے موقع پر فیصلہ متوقع ہے، امید ہے اس دفعہ کوئی اچھا فیصلہ ہو اور اس پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جائے۔لیکن اس کیس کی سماعت کا جیسے ہی فیصلہ ہوا کشمیری اخبارات میں مختلف سرخیاں لگنا شروع ہوا ہے ساتھ ہی ہمارے چند لوگ بھی کشمیری زبان بولنے لگے ہیں خدا کرے کہ اس دفعہ ستر سالوں سے محروم عوام کی بھلا ہو۔ 2000 میں مشرف نے ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو اور سپیکر کا عہدہ متعارف کروایا اور ساتھ کونسل کو بھی آٹے میں نمک کے برابر اختیارات نصیب ہوئے۔ 2007 میں ایک بار پھر سے مشرف نے کچھ ترمیم کیا قانون ساز کونسل کا نام قانون ساز اسمبلی رکھا گیا ساتھ ہی چیف ایگزیکٹو کا عہدہ بھی قیام عمل میں لایا۔اگرگلگت بلتستان سیلف گورننس آرڈیننس کی بات کرئے تو 2009 کو گلگت بلتستان کی تاریخ میں ایک لولا لنگھڑا سا نظام پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے نوازا گیا جس میں برائے نام ایک اسمبلی اور کونسل تو قیام عمل میں لایا لیکن یہ بھی پچھلے 70 سالوں کی طرح ایک لولی پاپ تھا فرق بس اتنا کہ اس بار لولی پاپ رنگ میں الگ تھے۔دور حاضر میں گلگت بلتستان میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی طوطی بولی جاتی ہے۔ بہت سر گرم تھے گلگت بلتستان کے آئینی اصلاحات کے حوالے سے کبھی سرتاج عزیز کی سبراہی میں اجلاس تو کبھی وزیر اعظم پاکستان کے زیر نگرانی لیکن حالیہ آرڈر 2018 کے کچھ خبریں عوامی حلقوں میں گردش کر رہے اس تو یہ ظاہر ہو رہا ہے انہوں نے بھی GB کے لوگوں کو بے قوف بنا کے ایک دفعہ پھر سے لولی پاپ تھما دئے ہیں۔اور اب پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے ایک اور آرڈر جاری ہونے کی توقع ہے،تاریخ کے ان تمام حقائق سے یہ بات ظاہر ہوتی کہ ستر سالوں سے گلگت بلتستان کے عوام کو سوائے لولی پاپ کے کچھ نہی دیا گیا یقیناًاس ہٹ دھرمی کے پیچھے پاکستان کے سیاسی ارباب اختیار کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے عوام بھی شامل حال ہیں انہوں نے کبھی اپنے حقوق کے لے خاطر خواہ کوشش نہیں کی۔لیکن خوشی اس بات کی ہے موجودہ حالات میں گلگت بلتستان کے عوام ایک پیج پر متحد ہوئے ہیں تمام تر اختلافات سے بالا تر ہو کے سب کا یہی مشترکہ آواز ہے گلگت بلتستان کے عوام کو ان کا آئینی حق دیا جائے۔70 سالو ں سے ہمیں بنیادی حقوق سے محروم رکھاگیا ہے مزید یہ بوجھ ہم سے اٹھایا نہیں جاتا۔کچھ عقل کے آندھے جب بھی GB کے حقوق کی بات آتی تو کہتے ہیں اس سے تو مسلہ کشمیر پہ اثر پڑے گا ارے عقل کے بادشاہو! آزاد کشمیر کے نظام سے مسلہ کشمیر کو کوئی فرق نہی پڑتا ہے تو گلگت بلتستان کے عوام کو ان کا حق دینے سے بھی قیامت نہیںآئے گی۔ قصہ مختصریہاں کے محروم عوام کا یہی مطالبہ ہے کہ ہر حال میں ہمیں ہماری شناخت دیا جائے۔کیونکہ پاکستان کے کسی بھی ادارے میں دیکھاجائے تو گلگت بلتستان کے لوگ اول صف میں نظر آتے ہیں جس میں پاک فوج سمیت دیگر اہم ادارے شامل ہیں جہاں گلگت بلتستان کے باسیوں کی کوئی کمی نہیں بلکہ مادر ملت کی تحفظ کے خاطر جان ہتھیلی پر رکھ کے سب سے آگے نظر آتے ہیں دوسری جانب ملت پاکستان اور خصوصا پاکستانی حکمرانوں کو جتنا فائدہ گلگت بلتستان سے ملتا ہے شائد ہی کوئی دوسری جگہ ہو، یہاں کے لوگ ستر سالوں سے تمام ترانسانی حقوق سے محروم رہنے کے باؤجود سب کچھ ملت کے خاطر نچھاور کرتے ہیں،جب اس غیر آئینی اور متنازعہ علاقہ کہلانے والے خطہ سے تعلق رکھنے والے کوئی جوان ملت کی تحفظ کے خاطر اپنی جان نچھاور کرے تو اس وقت اسے پاکستانی فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایا جاتا ہے اور اس کے قبر پر بھی پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے،تو ہمیں یقین ہوجاتا ہے کہ ہم بھی پاکستانی ہیں لیکن جب ہمارے حکمران اس شھید کے ماں باب اور بچے کو پھر سے متنازعہ اور غیر آئینی قرار دیتے ہیں تو ہمیں دکھ ہوتا ہے ،اوراگر یہاں کے باسیوں میں سے کوئی کسی بھی لحاظ سے عالمی ریکارڈ قائم کرے تو وہ فوراً یہی حکمران انہیں قومی القابات اور ایوارڈ سے نوازتے ہیں، سی پیک جیسی راہداری منصوبہ لینا ہوتو گلگت بلتستان کوریاست کا حصہ بنایاجاتا ہے، کے ٹو اور دریائے سندھ کا ٹیکس وصول کرنا ہے تو گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ سمجھا جاتا ہے ،اسی خطہ سے گزرکر پورے پاکستان کو سیراب کرنے والا والا دریا سندھ سے اگر دیامر،بادشاہ اور مہمند ڈیم بنانا ہوتویہ خطہ پاکستان کے حصے میں آتا ہے،اور سیاحوں سے ٹیکس لینا ہوتو... خیر ایسی بہت ساری مثالیں ہیں جن کا یہاں ذکر کرنے کی گنجائش نہیں لیکن جب یہاں کے عوام اپنی حقوق کی بات کرے تو ہمارے نام نہاد حکمران اوردیگر سیاسی جماعتوں کے نظر میںیہ خطہ فورا غیر آئینی اور متنازعہ بن جاتاہے۔ان تمام حالات کے پیش نظر یہاں کے عوام کو اب تک مملکت خدادا پاکستان کا باقاعدہ حصہ بناکر حقوق نہ دینا حکمرانوں کی بدنیتی کا منہ بولتا ثبوت ہے نہ جانے اس کے پیچھے کونسی راز پوشیدہ ہے جس کی بناپر حکمران طبقہ یہاں کے عوام کو پاکستانی نہیں سمجھتے جبکہ یہاں کے لوگ چیخ چیخ کر کہہ ہے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستانی ہونے پر فخر کرتے ہیں مگر اس بات کا احساس ضرور ہے کہ"کسی کو ہم نے ملے اور ہمیں تو نہ ملا" اور دل میں یہی خواہش اور امید لئے بیٹھے ہیں کہ کسی دن تو ہم پاکستانی بنیں گے، لیکن نہ جانے ہمارے مفاد پرست حکمرانوں کایہ کیسا منطق ہے کہ گلگت بلتستان میں موجود دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو پاکستان کو پاکستانی سمجھتے ہیں ، بلند ترین محاظ سیاچن پاکستان کے حصے میں آتا ہے، ملک بھر کو سیراب کرنے والا دریائے سندھ پاکستان کا، بلند ترین خوبصورت ترین قدرتی پارک دیوسائی پاکستانی، یہاں کے خوبصورت اور دلفریب سیرگاہیں پاکستانی، سب سے بجٹ والی بادشاہ ڈیم پاکستانی، سب سے بڑی ڈرائی پورٹ سست پاکستانی، سب سے نفع بخش شاہرا قراقرم پاکستانی، سب سے بڑا ذریعہ آمدن ٹورزم پاکستانی، خوبصورت سیرگاہ ننگا پربت،شنگریلا،ھنزہ ویلی پاکستانی، تین بڑے پہاڑی سلسلہ قراقرم، ہمالیہ، ہندوکش پاکستانی، اب تک کے مہنگا ترین محاذ جنگ کارگل پاکستانی،مگر ان کی نظر میں ان سب کا منبع و ماخذ سرزمین گلگت بلتستان بے آئین و متنازعہ ہے، یہاں کے باسی غیر آئینی اور متنازعہ، پاکستانی آئین میں ان کیلئے کوئی جگہ دینے کو تیار نہیں،اسمبلی اور سنیٹ میں ان کی کہیں نمائندگی نہیں،ان کیلئے سپریم کورٹ کے دروازے بھی بند ،اورسب سے مزے کی بات یہ ہے کہ یہاں کے لوگ متنازعہ اور غیر آئینی ہونے کے ناطے پاکستان کے وزیراعظم اور صدر کی انتخاب میں ان کو ووٹ دینے کا بھی حق نہیں لیکن اسی وزیر اعظم کو یہاں کے مختار کل بنایا جاتا ہے اور لوگوں کے تقدیر کا فیصلہ بھی انہیں کے ہاتھوں طے پاتا ہے دوسری بات یہاں کے زمینوں پر بھی حکومت کی جانب سے قبضہ جاری ہے جبکہ یہ خطہ اگر غیر آئینی ہے تو زمینوں کو کس قانون کے مطابق حکومتی بنایا جارہا ہے؟ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ملک میں دہشت گردی اور غداری کے خلاف بنائے گئے قوانین کا یہاں دہشت گردوں اور غداروں سے زیادہ قوم پرستوں اور سماجی وسیاسی کارکنوں پر اطلاق ہوتاہے۔ ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم کے پہاڑی سلسلوں میں واقع ان علاقوں میں سیاسی صورت حال نوآبادیاتی دور کے جبر سے مماثل ہے۔ سماجی انصاف اور بنیادی حقوق کے لئے اُٹھنے والی ہر آواز کو ریاست مخالف قرار دے کر کچلا جارہا ہے۔ آج کل پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف سازش کے نام پر مقامی سیاسی کارکنان کے خلاف مقدمات کا اندراج اس تاثر کو تقویت دینے کا باعث بن رہا ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ مختلف مقدمات کے تحت گرفتار کئے جانے والے قومی،عوامی اور ترقی پسند تحریکوں سے وابستہ کارکنان کے ساتھ بہیمانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے۔اور انہیں اپنے جائز سیاسی و معاشی حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کی پاداش میں لمبے عرصے کیلئے سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کا عمل بھی جاری ہے۔چونکہ یہاں کے باسیوں کا قصور یہ ہے کہ وہ پاک چین اقتصادی راہداری میں نظرانداز کرنے، زمینوں پر حکومتی قبضے، جغرافیائی سرحدوں میں تبدیلی اور سیاسی و معاشی محرومی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ (جاری ہے۔۔۔)





Comments