گلگت بلتستان اور آئینی حقوق۔۔۔ پہلا قسط
- S M Mosavi
- Apr 1, 2020
- 7 min read
تحریر: ایس ایم موسوی
روزنامہ سلام، بیدار
17 اکتوبر 2018
قارین محترم! آئیں ایک مرتبہ ہم بھی گلگت بلتستان کے آئینی حقوق اور اس راہ میں مشکلات اور رکاوٹوں پر نظر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ بے آئین خطہ گلگت بلتستان، ملک عزیزپاکستان کا رگ حیات کی مانند ہے لیکن خدا جانے ہمارے حکمران سمیت آزاد صحافی حضرات اس خطے کے حوالے سے کن مصلحتوں کا شکار ہیں، جو انہیں آئینی حقوق دینے اور دلانے میں کوشاں نظر نہیں آتے۔ ستر سالوں سے ملک کے عزیز کے ساتھ وفاداری کے باؤجود یہاں کے عوام کو اب تک آئینی حقوق حاصل نہیں اور نہ ہی یہاں کے عوام کی کوئی شناخت نظر اتی ہے پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں رہنے والے اس خطے سے بلکل لاعلم ہے چونکہ ہمارے میڈیا نے کبھی غلطی سے بھی یہاں کے مسائل کا ذکرنہیں کیا۔ یہ خطہ ارض مملکت خداداد پاکستان کے شمال میں واقع ہے جو حسن و جمال اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے گلگت بلتستان کے نام سے جنت نظیرمنظر پیش کررہی ہے، گلگت بلتستان تہذیب و ثقافت کے لحاظ سے اپنا ہی ایک پہچان رکھتا ہے، کہیں ندی نالے تو کہیں پہاڑی علاقہ جودروں اور گھاٹیوں کے سبب پزیرائی کے قابل بنا۔ گلگت بلتستان پاکستان کا شمالی علاقہ ہے۔ جو1848 ء میں کشمیر کے ڈوگرہ سکھ راجا نے ان علاقوں پر بزور قبضہ کر لیا اور جب پاکستان آزاد ہوا تو اس وقت یہ علاقہ کشمیر کے زیرِ نگیں تھا۔ 1948 ء میں اس علاقے کے لوگوں نے خود لڑ کر آزادی حاصل کی اور اپنی مرضی سے پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ آزادی کے بعد سے یہ علاقہ ایک گمنام علاقہ تھا جسے شمالی علاقہ جات کہا جاتا لیکن 2009 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں صدرآصف زرداری صاحب نے اس خطے کو نیم صوبائی اختیارات دیے اگرچہ یہاں کے لوگ مکمل صوبائی حیثیت چاہتے ہیں۔ یہ پاکستان کا واحد خطہ ہے جس کی سرحدیں تین ملکوں ( چین، بھارت اور افغانستان) سے ملتی ہیں نیز پاکستان پڑوسی ملک بھارت سے تین جنگیں 48 کی جنگ،کارگل جنگ اور سیاچین جنگ اسی خطے میں لڑا ہے جبکہ سن71 کی جنگ میں اس کے کچھ سرحدی علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں جس میں کئی پاکستانی دیہات بھارتی قبضے میں چلے گئے اس وجہ سے یہ علاقہ دفاعی طور پر ایک اہم علاقہ ہے ۔نیز یہیں سے تاریخی شاہراہ ریشم بھی گزرتی ہے۔ یہ خطہ معدنیات سے مالامال علاقہ ہے لیکن یہاں کے عوام زندگی کے تمام تر بنیادی حقوق سے محروم ہیں ۔شمالی علاقہ جات کی آبادی کم و بیش 22 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جبکہ اس کا کل رقبہ 72971مربع کلومیٹر ہے‘ اردو کے علاوہ بلتی اور شینا یہاں کی مشہور زبانیں ہیں ان کے ساتھ یہاں کے دیگر مختلف علاقائی زبانین بھی بولی جاتی ہیں۔ گلگت بلتستان کا نیا مجوزہ صوبہ دوڈویژنز بلتستان اور گلگت پر مشتمل ہے۔ اول الذکر ڈویژن سکردو ،گانچے اور شگرکے اضلاع پر مشتمل ہے جبکہ گلگت ڈویژن گلگت،غذر،دیا میر، استور اورہنزہ نگر کے اضلاع پر مشتمل ہے۔ شمالی علاقہ جات کے شمال مغرب میں افغانستان کی واخان کی پٹی ہے جو پاکستان کو تاجکستان سے الگ کرتی ہے جب کہ شمال مشرق میں چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کا ایغورکا علاقہ ہے۔ جنوب مشرق میں مقبوضہ کشمیر، جنوب میں آزاد کشمیر جبکہ مغرب میں صوبہ خیبر پختونخوہ واقع ہیں۔ اس خطے میں سات ہزار میٹر سے بلند 50 چوٹیاں واقع ہیں۔شاہراہ قراقرم پرگلگت اور جگلوٹ کے درمیان یہ ایک حیرت انگیز مقام ہے کہ جہاں دنیا کے تین بلند ترین اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش یہاں آمنے سامنے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہوا ہے کہ یہاں وادیغذر کی طرف سے آنے والا دریائے گلگت اور اسکردو کی طرف سے آنے والا دریائے سندھ آپس میں ملتے ہیں اوردریاؤں کا یہ سنگم انگریزی حرف Y کی شکل اختیار کرتے ہوئے اپنے اطراف میں موجود پہاڑی سلسلوں کی حد بندی کر دیتا ہے۔ کوہ ہمالیہ اس مقام سے نیپال تک چلا گیا ہے جہاں اس کی چوٹی ایورسٹ دنیا کا بلند ترین پہاڑ ہے، جبکہ پاکستانی حدود میں اس کی چوٹی نانگا پربت کو دنیا کا سب سے خطرناک پہاڑ کہا جاتا ہے۔ دریائے سندھ اور دریائے گلگت کے بیچ میں کوہ قراقرم کا سلسلہ ہے جو کہ چین تک چلا گیا ہے۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو اسی سلسلے میں پاکستانی حدود میں واقع ہے۔ جبکہ کوہ ہندوکش یہاں سے افغانستان تک چلا گیا ہے جس کی بلند ترین چوٹی ''ترچ میر'' پاکستانی حدود میں چترال کے قریب واقع ہے۔ اس مقام پر شاہراہ قراقرم بھی کوہ ہندوکش کے دامن میں ہے۔اسی طرح دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی اسی خطے میں واقع ہے۔ جب کہ دنیا کے تین سب سے بڑے گلیشیئرز بھی اسی خطے میں واقع ہیں۔ساتویں صدی سے انیسویں صدی کے درمیان مختلف خاندانوں نے گلگت بلتستان میں اپنا سکہ جمائے ہوئے تھے۔ ان میں گلگت کے تراخان، نگر کے مغلوٹ، ہنزہ کے عیاشو، پونیال کے بروشے، یاسین کے خوش وقت، سکردو کے مقپون، شگر کے انچن اور خپلو کے یبگو زیادہ مشہور تھے جبکہ چلاس داریل تانگیر میں جرگہ سسٹم تھا۔نویں صدی عیسوی میں یہ علاقہ تبت کے زیرِ تسلط آیا۔ تبتی دور حکومت میں بلتیوں اور تبتیوں نے مل کر چینی فوج کو گلگت کے مقام پر شکست دی۔ تبت کی ثقافت کا اثر آج بھی گلگت بلتستان پر واضح ہے، بلتی زبان تبتی زبان کی ہی ایک شاخ ہے۔تبتی سلطنت کے خاتمے کے بعد گلگت بلتستان مختلف حصوں میں بٹ گیا اور گلگت، چلاس میں دردستان، ہنزہ اور نگر میں بروشال جبکہ بلتستان میں شگر، خپلو اور سکردو کی ریاستیں وجود میں آئیں۔ اسی طرح سولہویں صدی عیسوی میں سکردو کے مقپون خاندان کے ایک چشم و چراغ راجہ علی شیر خان انچن (جنہیں مغل تاریخ دان علی رائے تبتی کے نام سے یاد کرتے ہیں) نے پورے گلگت بلتستان کو ایک بار پھر متحد کیا اور چترال سے لے کر لداخ تک حکومت قائم کی۔ اس حکومت کی شان و شوکت خپلو، شگر اور کھرمنگ میں موجود قلعوں سے ظاہر ہوتی ہے۔(اور ابھی گلگت بلتستان کا موجودہ گورنر راجہ جلال حسین مقپون انہیں کے خاندان سے ہیں) کہا جاتا ہے کہ ہنزہ میں موجود بلتت اور التت قلعے بلتی بادشاہ نے اپنی شہزادی کے لیے بنائے تھے جس کی شادی ہنزہ میں ہوئی تھی۔ گلگت کے قریب ایک پولو گراونڈ بھی ہے جسے مقپون پولو گراونڈ کہتے ہیں، یہ بھی اسی دور میں بنایا گیا تھا۔ سکردو میں قلعہ کھرپوچو، گنگوپی نہر، سدپارہ جھیل پر بنایا گیا بند اور چین کے ساتھ تجارتی شاہراہ براستہ مزتغ بھی اسی دور کی یادگاروں میں شامل ہیں۔علی شیر خان کا زمانہ مقپون خاندان کے عروج کا زمانہ ہے۔ انچن کی وفات کے بعد ان کے بیٹوں آدم خان اور عبدل خان میں جھگڑا ہوگیا جس کے بعد مقپون خاندان کا زوال شروع ہوگیا اور گلگت بلتستان پھر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گیا۔ اس کے بعد کے عرصے میں وقتاً فوقتاً یہاں مختلف خاندان حکومت کرتے رہے۔ جموں و کشمیر کے ڈوگرہ راجوں کے زمانے میں ہمالیہ کی جانب زورآور سنگھ کی قیادت میں فوج کشی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔ اٹھارہویں صدی کے آخری اور انیسویں صدی کے ابتدائی برس گلگت بلتستان کے لیے بے حد تکلیف دہ سال تھے اور یہاں شدید سیاسی عدم استحکام رہا۔ 1840 ء میں بھی زور آور سنگھ نے بلتستان پر حملہ کیا۔ ڈوگرہ اقتدار کے خلاف مزاحمت ہوئی لیکن کچھ خاص کامیابی نہ مل سکی۔ 12 دسمبر 1841 ء کو زور آور سنگھ قتل ہوگیا تو احمد شاہ اور دیگر نے سکردو اور بلتستان میں بغاوت کا علم بلند کیا مگر آزادی کی یہ جدوجہد کامیاب نہ ہوسکی اور بلتستان 1842 ء میں پھر ڈوگرہ حکومت کے قبضے میں چلا گیا۔ انگریزوں نے مہاراجہ گلاب سنگھ کے ساتھ امرتسر کے معاہدے پر دستخط کرتے وقت گلگت بلتستان کو کشمیر کے ساتھ گلاب سنگھ کے حوالے کیا۔ بلتستان پر ڈوگرہ فوج پہلے ہی قابض ہوچکی تھی، اس قبضے کے خلاف دیامر، گلگت اور غذر میں عوام نے گلاب سنگھ کی فوجوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ راجہ گوہر امان، ملک امان میر ولی نے مہاراجہ کے خلاف شدید مزاحمت کی۔ تانگیز، داریل اور چلاس کے لوگوں نے بھی ڈوگرہ راج کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا۔ بھوپ سنگھ پڑی میں اس مزاحمت کی یادگار موجود ہے ڈورکھن، مڈوری اور گلگت کے قلعوں میں شدید جنگیں ہوئیں۔ 1860 میں گوہر امان کی وفات کے بعدگلاب سنگھ کے بیٹے رنبیر سنگھ نے دوربارہ گلگت کا اقتدار قبضے میں کر لیا۔ 1890 میں ڈوگروں نے اس علاقے پے اپنا قبضہ جمایا۔حکومت برطانیہ نے 1935 کو میر اف ہنزہ کے غداری کے شک میں یہاں پہ کرنل ڈیورنڈ کو پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کیا۔بعد میں جب تقسیم ہند ہوا تو یہی علاقہ مہاراجہ کے حوالہ کر دیا گیا۔ 1891 میں انگریزوں کی مدد سے ڈوگرہ افواج نے نگر اور ہنزہ پر بھی کافی مزاحمت کے بعد قبضہ کر لیا۔ اورکرنل مرزا حسن خان کی سربراہی میں ان سکاوٹس اور مقامی مزاحمت کاروں نے ڈوگرہ گورنر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کیا اور یکم نومبر 1947 کو بونجی چھاونی پر حملہ کر کے ڈوگروں کو گلگت سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔چند ایک مزاحمتی کاروائیوں کے باوجود گلگت بلتستان پر ڈوگرہ حکومت نومبر انیس سو سنتالیس تک رہی۔ تقسیم ہند کے بعد گلگت سکاوٹس نے کرنل مرزا حسن خان کی قیادت میں ان علاقوں کو ڈوگرہ راج سے آزاد کرایا، اس مقامی مزاحمتی تحریک نے گلگت اور استور کے علاقے بھی آزاد کرا لیے۔ اسی بغاوت کے دوسرے مرحلے میں بلتستان کے راجاوں نے بے سروسامانی کے عالم میں کرگل تک کے علاقے کو آزاد کیا۔ایک طرف سے یہ حصہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان متنازعہ نوعیت کا سبب بننے لگا۔اورپاکستان کی آزادی کے بعد 1948 کو گلگت بلتستان کے لوگوں نے علم بغات کو بلند کر کے بریگیڈر گھنسارا سنگھ کوگرفتار کرکے سترہ دن تک راجہ شاہ رئس خان کے زیر سربراہی میں ایک آزاد ریاست کہ شکل میں رکھ کے وطن عزیز پاکستان کے ساتھ الحاق کر دئے۔چنانچہ یکم جنوری 1948 کو تنازعہ مسلہ کشمیر لیکر اقوام متحدہ (چیپٹر 6آرٹیکل 34) پہنچا جس کے لپیٹ میں گلگت بلتستان بھی آگیا۔اور ساتھ ہی ساتھ گلگت بلتستان کے عدالتی اور انتظامی حوالے سے تبدیلیاں آتے گئے ۔یہیں سے داستان عشق شروع ہوا اور اس راہ روی کے پہلے نام ہے جناب سردار عالم خان جس نے 13 دسمبر 1948 کو پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پے علاقے کا نظم ونسق سنبھال لیا۔ (جاری ہے۔۔۔)





Comments