top of page

گلگت بلتستان اور آئینی حقوق (آخری قسط)

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Apr 1, 2020
  • 6 min read

تحریر: ایس ایم موسوی

روزنامہ سلام، بیدار 19 اکتوبر 2018


گذشتہ سے پیوستہ

ان کا گناہ یہ ہے کہ وہ بد ترین لوڈ شیڈنگ، علاقے میں جاری کرپشن، غیرمعیاری ترقیاتی کام کے خلاف اور قدرتی آفات کے نتیجے میں متاثر ہونے والی آبادیوں کی امداد و بحالی کے حق میں صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کا حصہ ہونے کی بناء پر ایک متنازعہ علاقہ ہونے کے ساتھ خطے میں بڑی طاقتوں کے مفاداتی ٹکراؤ کا مرکز بھی بن رہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اس علاقے کا شمار دنیا کے حساس ترین علاقوں میں کیا جاتا ہے۔ ایک ایسے خطے میں حکومت کا مقامی لوگوں کے ساتھ سلوک ذمہ دارانہ اور محتاط ہونا چاہیے۔عوامی حقوق کی لڑائی لڑنے والوں کو جبر سے خاموش کرانے کی بجائے ان کی محرومیوں کا ازالہ کرنا چاہیے۔ لیکن حکمران اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے عہدہ برآء ہونے کی بجائے ظلم و جبر اور روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے جس کی وجہ سے ریاست کے خلاف لوگوں میں مزاحمت کے جذبات فروغ پاسکتی ہیں۔ جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومتی سطح پر عوامی پسماندگی کو دور کرنے اور ان کی مسائل حل کرنے کی طرف توجہ دیں۔ لیکن مسائل کو حل کرنے کے بجائے حق کے لئے بلند کی جانے والی ہرآواز کو دبایا جاتا ہے۔ قوم پرست اور ترقی پسند تحریکوں اور ان کے کارکنان کو بزور طاقت خاموش کرانے کی بجائے ریاست عوامی مسائل کے حل پر توجہ دے تو صورت حال قدرے بہتر ہوگی۔ اس سے لوگوں میں نہ ریاست مخالف جذبات فروغ پائیں گے اور نہ ہی دیگر ممالک کو دخل اندازی کا موقع ملے گا۔ لیکن ہمارے حکمرانوں نے شاید تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔عوامی جدوجہد بزورطاقت کچلنے سے نہ صرف لوگوں میں بغاوت کے جذبات ابھرتے ہیں بلکہ ہمسایہ ملکوں کو بھی حقوق کی پامالی کے نام پر ہرزہ سرائی اور شورش زدہ علاقوں میں مداخلت کرنیکا موقع مل رہا ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم، بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اور امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بلوچستان اور گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے دیئے گئے بیانات اس بات کی واضح مثالیں ہیں۔چونکہ گلگت بلتستان کی قدرتی خوبصورتی اور منفرد جغرافیہ کی وجہ سے دنیا میں اپنی ایک پہچان ہے تاہم اس جنتِ نظیر خطے میں جاری استحصال اور عوام پر مسلط ریاستی جبرکی شکل میں بھی ایک نئی پہچان بھی بن رہی ہے۔ دکھ اس بات کی ہے کہ پاکستان کے مشہور کالم نگار اور صحافی حضرات جو قومی ایشوز پر قلم اٹھاتے رہتے ہیں ان کی نگاہوں سے بھی اس بے آئین خطے کی مسائل ہمیشہ اوجھل رہا ہے، جس کے باعث یہاں کے عوام ستر سالوں سے بنیادی حقوق کے حصول میں ناکام ہیں چونکہ کسی بھی معاشرے کی ترقی و تعمیر اور مسائل حل کرنے یا بڑھانے میں میڈیا اور خصوصا اہل قلم کا کردار بھی اہم ہے کیونکہ قلمی طاقت تیز تلوار کی طاقت پر بھی بھاری ہوتی ہے اب یہ اہل قلم کی منشاء پر موقوف ہے کہ وہ اس عظیم طاقت کو کس راہ میں استعمال کرتے ہیں مظلوم کے دفاع میں یاظالم کی حمایت میں وہ اسے قوم کو شعور دینے میں استعمال کرتے ہیں یا اسے غفلت کی ابدی نیند سلانے کیلیے وہ اسے انسانیت کی خدمت کیلیے استعمال کرتے ہیں یا مختصر رقوم وصول کرکے حکمرانوں کی خوشامدی اور چاپلوسی کی راہ میں،چونکہ ملکی ،قومی اور معاشرتی مسائل کی درست نشاندہی کراکے ان کی گھتیاں سلجھانے کی کوشش کرنا ہی صحافیوں کا منصبی فریضہ ہے البتہ مانتا ہوں کہ یہ بہت ہی دشوار اور سخت کام ہے،لیکن میدان صحافت میں وارد ہونے کے بعد چاہے نہ چاہے بحرصورت اس فریضے پر عمل کئے بغیر صحافی اپنے ہدف تک رسائی نہیں کرسکتے،اس خطے کے حوالے سے میڈیا کی مجرمانہ خاموشی تو دائرہ تعجب سے خارج نہیں کیونکہ ان کو یہاں سے کچھ ملنے کی توقع نہیں، لیکن اہل قلم سے سکوت مطلق کی توقع نہیں کی جاسکتی،کیونکہ یہ طبقہ پڑھا لکھا اورباشعور ہوتا ہے،جن کا وظیفہ ہی متنوع مجہول مسائل پر تجزیہ و تحلیل کرکے انہیں معلو م میں بدلنا ہوتا ہے،جس کا بنیادی ہدف قومی ،لسانی اور مذہبی تعصبات سے بالاتر ہوکر ظلم و ستم کے خلاف قیام کرنا ہوتا ہے مگر اس کے باؤجود گلگت بلتستان کے گوناگوں مسائل کے حوالے سے ان کی بے توجہی واقعا تعجب ہے،چونکہ ہمارے اہل قلم حضرات دنیا جہاں میں کہیں بھی ظلم و ناانصافی اور عدم مساوات کے حامل افعال اور حرکات کا مشاہدہ کریں تو فورا اپنی تحریروں کے ذریعے ان کا نوٹس لیتے ہوئے فورا ناانصافی و ظلم کے خلاف اپنی قلمی طاقت سے جہاد کرتے ہیں مگر خطہ بے آئین پاکستان کا وہ واحد خطہ ہے جس کے مسائل پر ہمارے لکھنے والوں کی توجہ بہت کم رہی ہے، میں یہاں پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ اہل قلم اور میڈا ہاوسز کوبھی شریک جرم سمجھتاہوں اگر ان کی جانب سے معمولی بھی کوشش ہوتی تو آج ہم اس حالت میں نہ ہوتے، لہذا ملک کے معروف کالم نگاروں سے التماس ہے کہ کبھی بھولے سے ہی سہی اپنی تحریروں میں دو سطریں اس بے آئین خطے کا بھی ذکر کریں چونکہ ہمارے دانشمند طبقے اچھی طرح جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام ستر سالوں سے طرح طرح کے مظالم کے شکارہیں اورانسانی بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں،پاکستان کے معروف کالم نگار جاوید چودھری صاحب بیشتر اوقات فرضی کہانیاں،قصے یا سفری روداد انتہائی خوبصورت انداز میں لکھ کر قارین کو مفید نتائج دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں،مگر انہیں گلگت بلتستان کے زندہ حقیقی اور مسائل کبھی نظر نہیںآیا، عطاء الحق قاسمی جیسے زبردست سینئیر کالم نگار نااہل قرارا پانے کے بعد بھی نواز شریف کی مدح و ستائش میں زمین وآسمان کے قلابے ملاتے ہوئے نہیں تھکتے،لیکن نہوں نے یہاں کے مسائل پہ کبھی قلم اٹھانے کی زحمت نہیں کی ،وسعت اللہ خان بابرصاحب دنیا جہاں کے مسائل کو کبھی مزاحیہ تو کبھی طنزیہ انداز میں پیش کرتے ہوئے ان پر مکمل گفتگو کرتے ہیں لیکن یہاں کے مسائل پر آخر انہوں نے کبھی اپنے قلم کو جنبش نہیں دی،اور اسی طرح دیگر مشھور کالم نگار جن کی ایک کالم سے لوگوں کے مقدر تبدیل کرسکتے ہیں یہاں کے مسائل ان کی نظروں سے کیوں اوجھل ہے؟کیا ہمارے مفاد پرست حکمرانوں کی طرح صحافی برادری کی نظر میں بھی گلگت بلتستان کی کوئی اہمیت نہیں؟کیا یہاں کے عوام ظلم کی چکی میں نہیں پس رہے؟ کیا یہاں کے مسائل انسانی مسائل نہیں؟کیا اس خطے کے باسی پاکستان سے محبت نہیں کرتے؟ کیا انہوں نے پاکستان کی حفاظت کرنے میں کوئی کوتاہی کی ہے؟کیا یہاں کے عوام آئین پاکستان کو نہیں مانتے؟کیا یہ خطہ امن کے بجائے فساد کا گہوارہ ہے؟کیا یہاں کے عوام کو حقوق ملنے سے پاکستان کے دیگر شہری کے حقوق میں کمی آنے کا خوف ہے؟اس طرح کے ہزاروں سوالات ہمارے ذہنوں میں ہیں جن کا شائد کسی کے پاس کوئی جواب نہیں،اس خطے کے مکینوں کے ساتھ جو سب سے بڑا ظلم ہوا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستانی حکمران ابھی تک اسے آئینی حقوق دینے سے انکار ہے۔لیکن صرف وفاق سے شکایت نہیں بلکہ ہمارے یہاں کے مقامی حکومت بھی وفاق کے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ظلم و ناانصافی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ،اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ گلگت بلتستان میں ریاست عوام کو صحت، تعلیم، روزگار، تفریح اور دیگر سہولیات کی فراہمی میں ناکام ہوچکی ہے۔ بے پناہ قدرتی وسائل کی موجودگی کے باوجود اکثریتی آبادی غربت اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ بیوروکریسی، سیاست دان اوردرباری مُلّا، ٹھیکیدار سمیت سرکاری وظیفہ خور اور مراعات یافتہ طبقات عوام کے وسائل پر شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ایسی صورِت حال میں عوامی سطح پر نظام کے خلاف مزاحمت تو ہوگی، استحصال کا شکار اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقات آخر کب تک خاموش رہیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ جب لوگوں کی محرومی کے خلاف آواز بلند ہوتی ہے تو اُسے عوامی حمایت بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ بس انہیں باتوں کو کچلنے اور آئنی حقوق کے خاطر اٹھنے والی آوازوں دبانے کے لیے یہاں اس قسم کی ہزاروں حربے اور پریس کانفرنسیں ہوتی ہے جسے میڈیا بڑے شوق سے کوریچ بھی دیتے ہیں،جب کہ اسی میڈیا کو ستر سال سے انسانی بنیادی حقوق سے محروم خطہ نظر نہ آتا، جس میڈیا نے کبھی گلگت بلتستان کے شہدا کا نام نہ لیا ہو، جس میڈیا کو (17) منفی گریڈ میں اکیس(21) دن کا دھرنا نظر نہ آیا ہو، جس میڈیا کو ستر سالوں میں ایک میڈیکل، انجینئرنگ، کالج کا نہ ہونا نظر نہ آیا، جس میڈیا کو لاکھوں لوگوں کا اینٹی ٹیکس مارچ نظر نہ آیا، جس میڈیا کو سالوں سے نظر بند سیاسی ورکر کی خبر نہ ہو، جس میڈیا کو شیڈول فور جیسے کالے قانون سیاسی، سماجی ورکروں کے خلاف استعمال ہونا معلوم نہ ہو، ایسے میں ایک سابق تنظیم ممبر کو اتنا کوریج اور سارے میڈیا ہاوسز کا پہنچنااس بات کی دلیل ہے کہ اس پریس کانفرنس کے پیچھے بھی یقیناًبہت کچھ ہیں۔۔۔خیر بات لمبی ہوجائے گی لہذا میں اس مختصر آرٹیکل کے ذریعے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم ،چیف آف آرمی اسٹاف،اوراقوام متحدہ کی داعلیٰ عہدہ داروں سے اپیل کرتا ہوں کی یہاں کے بائیس لاکھ عوام کو مزید ذہنی اذیت میں مبتلا نہ رکھیں ستر سال صبر کیا ہے اب تو ہمیں اپنی شناخت دیں،کہ ہم پاکستانی ہے یا کشمیری ہے یا پھر کوئی الگ ریاست ہے؟ستر سالوں سے وفا کرنے والوں کو اپنائے،اور یہاں کے لوگوں کو احساس محرومی کی اس دلدل نے نجات دلائیں،ایسا نہ ہوکہ دشمنون کے ناپاک عزائم کام کرجائے،یہاں کے لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے اور وہ کچھ ہوجائے جو ہم نہیں چاہتے،چونکہ ہمارے دشمن ممالک خصوصا بھارت جیسے ناپاک عزائم رکھنے والے اس تاک میں ہے کہ کسی طرح پاکستان میں امن خراب ہو اس کے لئے مختلف حربے استعمال کررہے ہیں لہذا ان دشمنوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کا یہی ایک راستہ ہے جسے اپنانا وقت کا تقاضہ ہے اور مملکت خداداد پاکستان کی ضرورت بن چکی ہے۔

پاکستان زندہ باد گلگت بلتستان پائندہ باد

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page