کواردو میں تعلیمی مسائل۔۔۔از قلم راجہ اقبال مقپون
- S M Mosavi
- Apr 1, 2020
- 3 min read
خصوصی ایڈیشن روزنامہ ترجمان 25 جنوری 2020
کواردو میں تعلیمی مسائل اور ان کا ممکنہ حل
تحریر راجہ محمد اقبال مقپون
گزشتہ دنوں کواردو کا معروف نوجوان صحافی سید مرتضیٰ موسوی نے سوشل میڈیا کے ذریعے مجھ سے رابطہ کر کے کواردو میں تعلیمی مسائل کے حوالے سے ایک کالم لکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو مشہور عربی محاورہ الامر فوق الادب کے تحت یہ کالم نذر قارئین کر رہا ہوں امید ہے کہ کواردو کے باشعور عوام اپنی قیمتی آراء سے آگاہ کریں گے۔ویسے بھی تاریخ کے حوالے سے کواردو کی سرزمین کو اہل علم کی سرزمین کہاجاتا ہے۔ماضی،مستقبل اور حال میں بھی کواردو کی علمی شخصیات معاشرے میں نمایاں مقام پر فائز ہیں۔ماضی میں کواردو میں ایران سے مشہور عالم و فاضل سید علی طوسی اور ان کے برادران تبلیغ اسلام کے سلسلے میں برصغیر کی مختلف راستوں سے گزرتے ہوئے علاقہ کواردو پہنچے تو اس وقت پورے بلتستان میں بدھ ازم عروج پرتھا۔سید علی طوسی اور ان کے برادران نے کواردو اور بلتستان کے دیگر علاقوں کو اسلام کی روشنی سے مالا مال کیا۔اس حوالے سے کواردو کے مشہور عالم دین شیخ محمد اسماعیل نجفی امام جمعہ و جماعت مرکز ی جامع مسجدکو اردو کہتے ہیں کہ سفر طوسی برادران کے نام سے ایک نایاب کتا ب بھی شائع ہو چکاہے جو کہ احقر کو کافی تلاش کے باوجود اب تک نہیں ملا ہے۔اس کے بعد کواردو کے دیگر علمی شخصیات نے اخون غلام حسین مرحوم، علامہ شیخ محمد جو مرحوم (اجتہاد و مجتہد) اخون خدایا ر مرحوم، اخون ہبتہ اللہ مرحوم، شیخ محمد جو صغیر مرحوم، شیخ علی فاضلی مرحوم اور شیخ حسن مرحوم (گلشن آباد) شامل تھے۔جب کہ اس وقت کوارد و کے علمی شخصیات میں شیخ محمد اسماعیل نجفی(ماہر علوم فق)،شیخ حسن فخر الدین (کئی اسلامی کتب کے مصنف) شیخ اکبر علی مخلصی پرنسپل جامعہ طوسی، شیخ بشیر دولتی اور دیگر علماء اکرام شامل ہیں۔جب کہ دنیاوی علوم میں ماہر موجودہ شخصیات میں پروفیسر حشمت علی کمال الہامی (پی ایچ ڈی اردو)،ڈاکٹر باقر رضا (سائینسدان ایٹمی پلانٹ)، رکن اسمبلی کاچو امتیاز حیدر، کاچو سجاد حیدر (ڈائریکٹر فارن آفس)، ایڈیشنل آئی جی گلگت بلتستان فرمان علی، ڈائریکٹر ایجوکیشن کاچو عارف حسین،ایم ایس گانچے ڈاکٹر حیدر نسیم،ماسٹر وزیر غلام حیدر ماہر تعلیم،ماسٹر محمد فیاض ماہر تعلیم اور دیگر بڑے اور چھوٹی شخصیات سول اور سرکاری ادارو ں میں مختلف عہدوں میں سر انجام دے رہے ہیں۔میری رائے کے مطابق کواردو جیسے اہل علم کی سرزمین میں اس وقت کوالٹی ایجوکیشن کی کمی، معاشرے میں تعلیمی شعور و آگہی سے دوری، اکیسویں صدی میں بھی سرکاری طور پر سخت ممانعت کے باوجود بچوں پر تشدد اور میٹر ک کے امتحانات میں نقل کا بڑھتا ہوا رجحان،تعلیمی اداروں میں تعلیم یافتہ اساتذہ کی کمی،کواردو کی تاریخ میں پہلا مدرسہ جامعہ طوسی پر بھی سیاست اور سرکاری تعلیمی اداروں میں وسائل کی کمی وغیرہ شامل ہیں۔اس سلسلے اعلیٰ تعلیم یافتہ رکن صوبائی اسمبلی کا چو امتیاز پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کواردو میں کوالٹی ایجوکیشن کے فروغ کے لیے کام کرے اور سرکاری اداروں میں تعلیم پر زیادہ سے زیادہ فنڈ مختص کر ے مگر اس میدان میں بھی خاطر خواہ کام نہ ہوسکا اور اگلے الیکشن بھی قریب ہیں۔ اس سلسلے عوام کو چاہیے کہ آئندہ کاچو امتیاز ہو یا کوئی اور امیدوار ہو جو تعلیمی میدان میں کام کر کے نئی نسل کا مستقبل سنوار سکے ووٹ اس کو دیا جائے۔جبکہ اگر کواردو میں میٹر ک کے امتحانات میں نقل کا بڑھتا ہوا رجحان کی بات کی جائے تو بند ہ حیران رہ جاتا ہے کہ اس عمل میں ناصرف طلبہ وطالبات شامل ہیں بلکہ اساتذہ بھی نقل کروانے میں معاونت کرتے ہیں اور اس کی روک تھا م کا کوئی اہتمام نہیں کیاجا سکا ہے۔اس سلسلے میں احقر نے کئی سال پہلے مقامی اخبارات میں کواردو سینٹر میں کھلے عام نقل کی خبر شائع کیا تو اس وقت قراقرم بورڈ کا انچارج اقبال شہزاد اور کواردو کے طلبہ و اساتذہ نے مجھے ہراساں کیا۔چونکہ اب تو میں صحافتی خدمات اسلام آباد میں سرانجام دے رہا ہوں۔اس سلسلے میں بلتستان کی میڈیا میں کام کرنے والے افراد کو چاہیے کہ میٹر ک کے امتحانات میں کواردو سینٹر کا بھی دورہ کرے۔جب کہ اس وقت کواردو میں جامعہ طوسی ملکی صف اول مدارس کی سطح پر کامیابی سے ہمکنار ہوتا جارہا ہے۔مگر کچھ ملک و قوم کے دشمن عناصر اس مدرسے پر بھی سیاست کر کے متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ در ست نہیں ہے۔اس سلسلے میں جامعہ ہذا کے مسؤلان سے گزارش ہے کہ جامعہ ہذا کو ہر قسم کی سیاست سے بالا طاق رکھتے ہوئے گلگت بلتستان بھر کے حصول علم کے مستضعفین اور حصول علم میں معاونت کرنے والے تمام افراد کے لیے جامعہ ہذا کا دروازہ ہر وقت کے لیے کھلا رکھیں اور والدین ابھی اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں۔یہی وقت کا اہم تقاضا ہے۔انشاء اللہ روشن مستقبل آپ کے بچوں کا منتظر رہے گا۔





Comments