top of page

کواردو میں تعلیمی مسائل۔۔۔از قلم شیخ بشیر دولتی

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Apr 1, 2020
  • 4 min read

خصوصی ایڈیشن روزنامہ ترجمان 25 جنوری 2020


اہل علم و دانش نے انسان کی مختلف تعریفیں کی ہیں جن کے مطابق انسان اچھائیوں اور برائیوں کا ایک مجموعی پیکر ہے۔ لیکن جنھوں نے انسان کی فقط مثبت پہلو اور خصوصیات کو بیان کیا ہے انکے مطابق انسان تمنا کرنے والا، عہد اور ذمہ داری کو ادا کرنے والا، مستقبل کے بارے میں سوچنے والا، آزاد اور خود مختار، اجتماعیت پسند، نظم و ضبط، انصاف اور سچاٸی کو چاہنے والا، وجدانی صفت رکھنے والا، ایجاد کرنے والا، عقیدہ پرست اور معنویت کے حامل مخلوق ہیں۔ اگر ہم ان تمام مثبت امتیازات کو دو لفظوں میں سمونا چاہیں تو وہ یہ ہے کہ انسان ایسا موجود ہے جو" علم و ایمان " رکھتے ہیں ۔ قرآن پاک نے بھی انسان کو اہل علم اور جاہل میں تقسیم کرتے ہوے فرمایا کہ اے پیغمبر تم پوچھو کہ بھلا جاننے والے اور نہ جاننے والے لوگ برابر ہوسکتے ہیں (سورہ زمر آیت 9)

اس انسان ساز، معاشرہ ساز، اور عاقبت ساز، کتاب قرآن مجید کا آغاز لفظ اقرأ سے ہوتا ہے۔

یہ لفظ قرآن کے تقریبا اٹھتر ہزار الفاظ میں سے پہلا لفظ یے جو پروردگار عالم نے اپنے پیارے حبیب رحمت اللعالمین کے قلب مطھر پہ نازل کیا۔

اسلام میں جہاں علم کو اہمیت و فضیلت حاصل ہے وہاں معلم یعنی استاد کی فضیلت بھی زیادہ بیان ہوئی ہیں اور اسے کار انبیا قرار دیا گیا ہے۔

ایک حدیث مبارکہ کے مطابق جو شخص کسی کو کوٸی علم سکھائے تو اسے قیامت تک اس پر عمل کرنے والے کے برابر اجر ملے گا۔ اسی لیے اساتید کو نہ صرف محسن ملت کہا جاتا ہے بلکہ معمار قوم و ملت بھی کہا جاتا ہے۔ چونکہ کسی بھی قوم یا علاقے کی تعمیر و ترقی اور اصلاح میں اساتید کرام کا کلیدی کردار ہوا کرتے ہیں۔ علاقہ کواردو کی تعمیر وترقی اور اصلاح میں بھی یہاں کے سابق اور بزرگ اساتذہ کرام کا بنیادی کردار ہیں۔ جسے آج کے اساتید کرام بھی ابھی تک بخوبی قوام دینے کی سعی و کوشش کررہے ہیں۔ ان مخلصانہ کوششوں کی اجرا کے لیے جہاں پرائمری اسکول بالا جیسے چند قدیمی پرائمری اسکولوں نے کردار ادا کیا وہاں چیٸرمین و رئیس کواردو مرحوم و مغفور حاجی حسین المعروف ترنگپہ حسین صاحب کی جدوجہد کے نتیجے میں بننے والی مڈل اسکول (جو کواردو میں ہائی اسکول کے نام سے معروف ہے) کا خاص کردار ہے جو بدقسمتی سے تین عشرے گزرنے کے بعد بھی علاقاٸی و زمینی تقاضے کے باوجود ابھی تک ہائی اسکول اور ہاٸی اسکول کے تقاضوں اور سہولیات کا حامل ادارہ نہیں بن سکا ہے۔ اس ہائی اسکول اور یہاں کے بزرگ اساتید کے مخلصانہ کاوشوں کے سبب آج کواردو میں شرح خواندگی پہلے کی نسبت بھتر ہوئی ہے اور پورے بلتستان میں علاقے کی ایک خاص پہچان بنی ہے۔ یہاں کے سبھی اساتید بڑے درد مند اور مخلص تھے جو کہ آج کل کے جدید اساتید کے لیے بھترین رول ماڈل ہیں۔بعض اساتید مرحوم ہوچکے ہیں جن میں مرحوم ماسٹر بشیر سترنگدونما، الحاج ماسٹر عباس، الحاج ماسٹر غلام نبی اور الحاج ماسٹر علی نقی قابل ذکر ہیں۔ خدا ان سب کی درجات میں بلندی عطافرمائیں۔ علاقے کے لیے انکی بڑی خدمات ہیں۔ انکے بعد خدا سلامت رکھے محترم ماسٹر عبداللہ چمنگ، اور دونوں الحاج ماسٹر عباس صاحبان ڈھنگ، الحاج قبلہ ماسٹر رضا، محترم ماسٹر اسماعیل چمنگ اور محترم ماسٹر محمد علی یرکھور کو جنکی بےلوث کوششوں نے ایک باشعور اور مھذب و دیندار قوم بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا چونکہ ہمارے یہ اساتید اسکول کے اساتید ہونے کے ساتھ ساتھ معلم الاخلاق مثل عالم دین اور بھترین قاریان قرآن بھی تھے۔۔۔ مجھے یاد ہے جب میں چھوٹا تھا اور مرحوم اپو بواشیخ (شیخ محمد جو) کے ہاں رمضان المبارک میں قرآنی مقابلہ کے لیے جاتا تھا تو ایک طرف صرف بزرگ اساتید کرام ہوا کرتے تھے جن میں مرحوم ماسٹر علی نقی اور محترم ماسٹر رضا محترم ماسٹر اسماعیل محترم ماسٹر علی محترم ماسٹر عباس صاحبان ہوا کرتے تھے۔ اور یہ شخصیات تاریخ اسلام عقاٸد اور فقہی احکامات پر بھی ید طولی رکھتے تھے جو طلاب کے اخلاقی۔ عقیدتی و اسلامی تربیت بھی کیا کرتے تھے۔ انکے خلوص اور قوم کی خدمت کے جذبے کا یہ عالم تھا کہ سردیوں کی چھٹیوں میں بھی رضا کارانہ طور پہ اپنے گھروں میں ٹیویشن پڑھا لیا کرتے تھے۔

لیکن ان سینٸر اساتید کے ریٹائرمنٹ کے بعد اگرچہ کچھ سینٸر اساتید اور نوجوان اساتذہ کرام اپنی انتھک کوشش کررہے ہیں مگر ان حضرات کے ریٹائر منٹ کے بعد کواردو میں تعلیم و تربیت کے حوالے سے ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔ جسے پر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ آج بھی قابل اساتید کی کوئی کمی نہیں مگر قدیم اساتید کے مخلصانہ و والہانہ اور علاقے کے ساتھ دردمندانہ روش کو زندہ رکھنے کی بھت اشد ضرورت ہے۔ علاقہ کواردو میں جدید تعلیم کا نظام المصطفی پبلک اسکول کی مرہون منت ہے۔ آج اگر ہمیں نٸی نسل میں کوئی ٹیچر ڈاکٹر یا انجینٸر نظر آتے ہیں تو وہ اس ادارے کی مریون منت اور انکے اساتید کی کوششوں کا ثمر ھے۔ مگر افسوس گزشتہ دس پندرہ سالوں سے یہ ادارہ بھی روبہ زوال ہے۔ اگرچہ کواردو میں کئی پرائیویٹ ادارے مختلف محلوں میں کھل گٸے ہیں جس کی وجہ سے شرح خواندگی بھتر سے بھترین کی طرف تو جارہی ہے مگر کوئی بھی المصطفی پبلک اسکول جیسا ادارہ نہیں بن سکا۔ اس ادارے کی زوال کے اسباب پہ جب پرنسپل المصطفی محترم سر حسین سے میری بات ہوئی تھی تو بڑی افسوسناک وجوہات بیان کیے۔ جنھیں رقم کرنے کے لیے ایک الگ کالم کی ضرورت ہے۔ علاقے میں تعلیمی میدان میں بہتر پیشرفت کیلیے لازم ہے مڈل اسکول کو ہاٸی اسکول اپرو کرکے اساتید کی کمی کو پورا کیا جائے۔ہاٸی اسکول کے تمام سہولیات کو مہیا کیا جاۓ اور جتنے اساتید کواردو کے ایل سی پی پر ہیں انھیں علاقہ کواردو میں تعینات کیا جائے۔اگر وہ نہیں آتے تو خود کواردو کے قابل اساتید جو دور دراز علاقوں میں ہیں انھیں کواردو میں لایا جائے اور جامعہ طوسی پبلک اسکول اور المصطفی پبلک اسکول سمیت تمام پرائیویٹ اداروں میں مثبت کمپیڈیشن کو راٸج کیا جائے۔تاکہ اسکولوں کی کارکردگی میں بھتری آسکے۔

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page