کواردو میں تعلیمی مسائل۔۔۔از قلم: رسول میر
- S M Mosavi
- Apr 1, 2020
- 7 min read
خصوصی ایڈیشن روزنامہ ترجمان 25 جنوری 2020
کواردو کے تعلیمی مسائل کو اپنے مدد آپ حل کرنے کے لئے ایک جامع روٹ میپ
قوموں کی زندگی میں اتار چڑھاؤ اور ترقی و تنزلی کے لمحات آتی رہتی ہے تعلیم کے علاوہ دیگر معاشرتی امور میں مختصر کوششوں سے قوموں کی بگڑی ہوئی تقدیر اور عظمت رفتہ کو دبارہ بحال کیا جا سکتا ہے ۔ جب پسماندگی ،غربت ،افلاس اور ظلم کی چکی میں پسی ہوئی عوام بیدار ہوتی ہے تو نا امیدیوں اور اندھیری راتوں کا سینہ چیر کر امید کی روشنی پیدا کر لیتی ہے لیکن تاریخ انسانیت گواہ ہے کہ جن اقوام نے اپنی نئی نسل کی تعلیم و تربیت مین غفلت اور کوتاہی کا مظاہرہ کیا ان کو تباہی سے دنیا کی کوئی طاقت نھیں بچا سکے۔ تعلیم جہاں دنیا وی ترقی و کامرانی کا واحد زریعہ ہے وہاں آخرت سنوارنے اور انسان کو انسانیت کے اعلی اقدار سے روشناس کرنے کا وسیلہ بھی ہے۔ علاقہ کواردو قیام پاکستان سے لیکر اب تک کی قومی زندگی میں ایک نہایت اہم موڑ پر کھڑی ہے
٭ تاریخ میں پہلی مرتبہ حلقے کی سیاسی قیادت اور اختیارات کاچو امتیاز حیدر خان کی صورت میں آپ کے ہاتھ میں ہے۔
٭ تاریخ میں پہلی مرتبہ علاقے کی تعلیمی رہبری اور قیادت بھی ایک قابل اور با اثرشخصیت استاد محترم جناب غلام حیدر کی صورت میں آپ کو میسر ہے۔
٭آج شعبہ صحت ،تعلیم ، سیاست ، انتظامیہ ، مذھبی جماعتوں , این ۔جی۔ اوز الغرض ہر جگہے میں آپ کے فرزندان صف اوّل میں ہے
اگر اس عھد زرین سے استفادہ کرتےہوئے ہم نے اپنی غربت , افلاس ، جہالت اور تعلیمی پسماندگی کو دور نہیں کیا تو تاریخ ہمیں ستر سال پیچھے دھکیل دے گی۔ کواردو کی تعلیمی پسماندگی اور انحطاط کا ہم سب زمّہ دار ہے۔ کسی خاص شخص یا گروہ کو مورد الزام ٹھہرانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔
روڈ, پانی ,بجلی ، صحت اور دیگر میگا پروجکٹ تو اپنی جگہ لیکن تعلیم کے بنیادی مسائل حل کرنے میں ابھی تک ناکامی ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ ہائی سکول کواردو علاقے کا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ ہے اس میں بھی اساتید کی کمی پھرستم بالائے ستم انہی کی بار بار تبادلہ اور نااہل افراد کو اس مادر علمی پر پے درپے تھوپ کر نظام تعلیم کو ناگفتہ بہ بنا دیا ہے ۔ باقی اداروں میں تعلیم کاروبار اور نئی نسل کی زندگی کھیل بن چکی ہے ۔امراء اور صاحبان اختیار اپنے بچوں کو شہر منتقل کرچکے ہیں ۔غریبوں کے فرزند غربت کی سزا جہالت کی صورت میں بھگت رہے ہیں ۔ معیاری تعلیم کے نعرے فلگ بوس اور سکولوں کی حالت زمین بوس ہوتی جا رہی ہیں۔ کچھ گزارشات اور تجاویز ہے اگر تلخ لگے تو میری درد دل اور بے ساختہ آہ سمجھ کر معاف کردے۔
٭منتخب عوامی نمائندہ سے گزارش:
ہماری عوام روڈ ،کول، تالاب ، واش روم اور کلوٹ زدہ ہے ان کو تعلیم کی قدر نہیں ہے۔ یہ منتخب عوامی نمائندے کی زمہ داری ہے کہ تعلیمی شعبے کو ترجیح دے کر نئی نسل کو تباہی سے بچائے اگرچہ پانچ سال گزر چکے کچھ ماہ پھر بھی آپ کے پاس ہے بے شک آپ ہمیں کچھ دے یا نہ دے کم از کم سکولوں حالت زار پہ توجہ ضرور دیں
محکمہ تعلیم سے گزارش۔
محکمہ تعلیم کے زمہ داران کو متوجہ کرنا چاھتا ہوں کہ کئی سالوں سے خالی ہیڈ ماسٹر کی سیٹ پہ جب مشکل سے ایک قابل اور اہل بندہ ایڈجسٹ کیا ہے تو بڑی ستم ظریفی ہے کہ سکول بھی کواردو میں پوسٹ بھی کواردو کا اور فرزند بھی کواردو کے اس کے باوجود سر فیض محمد صاحب کا اپوائنمنٹ گمبہ میں ہونا علاقے کے ساتھ زیادتی ہے لہٰذا چھٹیوں کے اختتام سے پہلے ان کا تبادلہ کواردو ہائی سکول میں نہ ہوا تو عوام سخت ردعمل دکھانے پہ مجبور ہوجائینگے اساتید کی کمی کو پورا کریں برائے نام سائنس کلاسس اور مایوس کن نتائج کا سدباب کرکے معیار تعلیم کو بہتر کریں تاکہ غریبوں کے بچے غربت کی سزا جہالت کی صورت میں بگھتنے پر مجبور نہ ہو ۔
سرکردگان سے گزارش ہے
آپ علاقے کا وقار اور ماتھے کا جھومر ہے ماضی میں کواردو کے سرکردگان نے اپنی فہم و فراست ، قابلیت اور تعلیم دوستی کا لوہا منوایا ہے جس کا ایک منہ بولتا ثبوت قومی سطح پر مشہور تعلیم و تربیت کا مثالی ادارہ جامعہ طوسی بلتستان کی میزبانی اور آپ سرکردگان کی تعاون سے سید علی طوسی کی سر زمین کواردو میں اس تاریخی و الٰہی ادارے کا قیام ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکردگان زاتی اور اپنے گاؤں کے مفادات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف تعلیمی ترقی کے ایجنڈے کو لیکر آگے بڑھے۔ اگر تعلیمی مسائل حل ہوں تو آپ کے دیگر سارے مسائل حل ہونگے۔اگردیگر سارے مسائل حل ہو اور تعلیم میں پیچھے رہ گئے تو علاقہ صفحہ ہستی سے مٹ جائیگا
سکولوں کے اساتید سے گزارش
آپ قوم کے معمار ہے یہ بچے آپ کے گود میں پلے بڑے ہے آپ کس طرح ان کے مستقبل کی تباہی کا تماشا دیکھ سکتے ہیں بے شک آپ کسی گورنمنٹ یا کسی پرائیویٹ ادراے سے تنخواہ لیتے ہونگے لیکن یہ کسب معاش کا زریعہ نہیں ایک مقدس پیشہ ہے اس کی تقدس کا تقاضا ہے کہ آپ سرکاری ٹائم اور زمہ داریوں کے علاوہ بھی معیار تعلیم کو بلند کرنے کے لئے ٹائم دے دیں ۔
*علماء سے گزارش:
ہمارے سروں کے تاج علماء اور آخوند حضرات سے گزارش ہے کہ رسومات سے نکل کر ھدایت و رہبری کے آفاقی زمہ داری کو ادا کرتے ہوئے تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں باب علم کے مانے والوں کا تشخص بھی علم ہونا چاہئےنبی کریم صلّ اللہ علیہ وآل سلم نے صرف معلم ہونے پر فخر کیا ہے
٭یونیورسٹیز میں زیر تعلیم طلّاب سے گزارش ہے
کہ آپ اس علاقے کے شب دیجور میں ٹمٹماتا ھوا چراغ اور امید کی آخری کرن ہےآپ کا پاکیزہ کردار اور اعلٰی نظریات ہی معاشرے کو بدل سکتا ہے اپنے کردار اور تعلیمی کیرئیر کی حفاظت کریں۔ علاقے کے عوام اور آپ کے والدین کا مضطرب اور شکستہ دل آپ کے ایک کامیاب انسان بن کر پلٹنے کا منتظر ہے دنیا کی رعنایوں میں کھو نے کے بجائے قوم کی امیدوں پہ اتر نے کی کوشش کریں
1- ایجوکیشن کمیٹی کا قیام:
منتخب سرکردگان ،سماجی شخصیات اور تعلیمی ماہرین پر مشتمل ایک با اختیار , غیر جانب دار اور فعال تعلیمی کمیٹی کا قیام جو ایک طرف کواردو کے سارے پرائیو یٹ اور سرکاری سکولوں کے مسائل کی حل کے لئے گورنمنٹ اور مختلف این جی اوز سے رابطہ کا کام انجام دے دوسری طرف ان تمام اداروں میں نظم و ضبط اور تعلیمی معیار پر کڑی نظر رکھے۔
2- علاقائی تعلیمی بورڈ کا قیام
یہ ایک سراسر تعلیمی سرگرمی ہے لھذا اس میں ہر سکول کے پرنسپل کے صوابدید پر کواردو کے تعلیمی یافتہ نوجوانوں کا ایک غیر جانب دار کمیٹی تشکیل دی جائے جو وقتاً فوقتاً سکولوں کے درمیاں ٹسٹ ،کویز پروگرام اور دیگر مقابلہ جات کا اہتمام کریں تاکہ ہر سکول کی میرٹ کھل کر سامنے آئے۔
3- کواردو این جی اوز نیٹ ورک کا قیام
تمام گاؤں میں اور کواردو کے سطح پر کام کرنے والے تمام تنظیموں کی زاتی حثیت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک اجتماعی پلیٹ فارم کا قیام عمل میں لائی جائے جو تقسیم کار کے زریعے ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائے۔
4- پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کا قیام:
نجی سکولوں میں ہم آہنگی کے فروغ کے کئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کی تشکیل جو ایک ضابطہ اخلاق طے کریں تاکہ سکولوں کے درمیان کھینچا تانی کے بجائے ہم آہنگی اور تعاون کی فضا قائم رہے تاکہ نصاب اور نظام تعلیم و تربیت کے حوالے سے ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہوسکے۔ اس حوالے سے پنک کا پلیٹ فارم کسی حد تک اچھی کاوش کر رہے ہیں لیکن یہ ناکافی ہے
5- دینیات سنٹر کو فعال کرنا
ہر گاؤں میں موجود قرآن سنٹرز کو اپگریٹ کرکے Educational resoure cenre کا درجہ دیا جائے جہاں دینی تعلیم کے ساتھ تربیت اور جدید علوم کے حوالے سے بھرپور ماحول فراہم کیا جائے جس کے لئے گاؤں کی سطح پر معلم قرآن کے ساتھ کم از کم ایک ٹیچرز کو بھی ہائیر کیا جائے تاکہ سیکنڈ ٹائم پہ بچے ضیاع وقت اور فاسد ماحول سے بچ سکے
6- پرائمری سکولوں کا ہائی سکول میں انضمام
اگرچہ یہ امر مشکل محسوس ہوتا ہے لیکن بھت زہادہ فروٹ فل ہے تمام سرکاری بوائز پرائمری اور مڈل سکولوں کو عارضی اور تجرباتی طور پر ہائی سکول منتقل کیا جائے تاکہ اساتید کی کمی اور وسائل کی بےجا استعمال کا روک تھام ہو جائے اور میرٹ بھی بلند ہو مشکل کی صورت میں دور دراز کے طلاب کے لئے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیا جائے تاکہ بچے آسانی سے آ جا سکے
7- ایجوکیشنل فنڈز کا قیام
ہر گاؤں کے عوام اور تمام تنظیموں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنا پنا ایجوکیشن فنڈز قائم کریں جو گاؤں کے کسی بھی قابل طالب علم کو ضرورت پڑنے پر قرض حسنہ یا سکالر شب کے عنوان سے دیا جائے۔
8- نقل کی روک تھام
سکولوں میں نقل کے برھتے ہوئے رجحان نئی نسل کے لئے زہر قاتل ہے اس کا مکمل طور پر روک تھام کیا جائے۔
9- کواردو ایجوکیشنل فورم کا قیام
انہی خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کواردو ایجوکیشنل فورم کے نام سے ایک رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہےجس میں کواردو کے اعلی تعلیم یافتہ افراد اور یونیورسٹیز میں زیر تعلیم طلباء شامل ہے ۔جو ابتدائی طور پر مندرجہ زیل امور انجام دے رہے ہیں
1 -ملک کے نامور تعلیمی اداروں کے وزٹ اور نظام سے آشنائی اور انفارمیشن کا حصول۔
2-اساتید کے لئے تربیتی ورکشاب کا انعقاد۔
3-میٹرک کے طلاب کے لئے کیرئیر گائڈنس پروگرام کا انعقاد۔
4-محدود پیمانے پر تعلیمی قرضہ جات اور سکالرشپ کی فراہمی۔
5-عوام میں تعلیمی شعور کو اجاگر کرنے کے لئے تعلیمی سیمنارز،جلسوں کا اہتمام۔
6-انٹر لیول کے طلباء سے ملاقات اور ملک کے اعلی تعلیمی اداروں میں داخلے کے حوالے سے رہنمائی حوصلہ اور شوق دلانا۔
7-مختلف میڈیکل اور انجینیرنگ کالج اور یونیورسٹیز موجود سیٹس کی تفصیلات اور داخلے کے طریقہ کار سے آگاہی۔
8- نو مینیشن کے اصول و ضوابط اور طریقہ کار کے متعلق ہدایات اور معلومات فراہم کرنا۔
9- تعلیمی و تربیتی ٹورز کا اہتمام۔
10- سکولوں کی دورہ جات اور نقائص کو حل کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنا
11-علاقے میں معیار تعلیم کو بلند کرنے کے لئے NGOs اورCBOs کو منظم کرنا
12- مختلف محکموں میں آنے والی جابس اور علاقائی سیٹس کے متعلق اگاہی فراہم کرنا اور آواز بلند کرنا۔
ہم کواردو کے اندر معیاری تعلیم کے راستے میں اٹھنے والے ہر قدم کی بھر پور حمایت کرتے ھیں اور تعمیری کاموں میں ہر کسی کا دست و بازو بنے کے لئے تیار ہے۔
تحریر :- رسول میر منیجنگ ڈائریکٹر جامعہ طوسی بلتستان





Comments