top of page

کواردو میں تعلیمی مسائل۔۔۔از قلم ذاہد حسین ایم فل

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Apr 1, 2020
  • 6 min read

خصوصی ایڈیشن روزنامہ ترجمان 25 جنوری 2020


کواردو میں تعلیمی پسماندگی کی وجوہات اور اس کا حل ۔ تحقیقاتی رپورٹ۔

کواردو میں معیاری تعلیم کے موضوع پر بندہ حقیر کی طرف سے کیا گیا ایک تحقیق کے چند محاصل پیش کررہا ہوں۔۔ جس کا مقصد کسی بھی ادارے یا فرد پر تنقید کرنا نہیں بلکہ تنقید برائے تعمیر کے نگاہ سے اہل علم کے سامنے حقائق پیش کرنا کے، تاکہ ہم مل کر ان کمزوریوں کو دور کیا جا سکیں۔

👈کواردو میں کل 22 سکول ہے جس میں اکثریت پرائیویٹ سکولوں کی ہے۔ یعنی 60 فیصد پرائیویٹ، 10 فیصد سیمی گورنمنٹ اور کمیونٹی سکول اور باقی 30 فیصد سرکاری سکولز ہیں ۔ مجموعی طور پر کلاس نرسری سے دہم تک 2200 طلباء و طالبات ان 22 سکولوں میں زیر تعلیم ہے۔ جن میں ٪44 طالبات (گرلز) اور ٪56 طلباء (بوائز) پر مشتمل ہیں۔

مجموعی طور پر ان 2200 طلباء کو پڑھانے کئلئے110 اساتید اپنے خدمات سر انجام دے رہے ہیں، اس حساب سے 20 طلباء کو پڑھانے کئلئے ایک استاد میسر ہے جو کی بین اقوامی میعار سے بھی آگے ہیں۔ ان 22 سکولوں میں کل 105 کلاس رومز ایسے ہے جن میں کلاس لیا جا سکتا ہے، اس حساب سے کلی طور پر 19 طلباء کے لئے ایک کمرہ جماعت میسر ہے اور یہ بھی بین اقوامی معیار سے متصادم نہیں۔۔، تحقیق کی رو سے گورنمنٹ سکولوں کی حالت کچھ حد تک مختلف پایا گیا۔، جس میں پرائیمری سطح پر نہایت نا گفتہ بہ حالت دیکھا یعنی اکثر پرائمری سکولوں میں ایک یا دو کلاس رومز میں نرسری سے چوتھی اور کچھ میں نرسری سے پانچویں تک بھی تھے۔ گورنمنٹ سیکٹر میں جو کی گزشتہ سالوں میں کافی بہتری لایا گیا حالت یہ ہیں کہ کسی بھی پرائمری سکول میں دو سے زیادہ استاد میسر نہیں ہیں۔ مجموعی طور پر طلباء کی حساب سے میسر کلاس رومز اور اساتید کی تعداد کو دیکھ کے میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ یہ دونوں فیگر کے حساب سے معیاری تعلیم بہت آگے ہے، یعنی اساتذہ کی شرح 1:20 ہیں اسی طرح میسر کلاس رومز اور طلباء کی شرح 1:19 ہیں ۔

لیکن میرے تحقیق کے دوسرا رخ دیکھ کے آپ بھی حیران ہو جائیں گے جس میں کچھ ایسے حقائق سامنے آئے جو عام طور پر لوگوں کی نظروں میں نہیں ہوتی۔ یعنی لوگ کسی بھی ادارے کو اس نگاہ سے نہیں پرکھاتے، مثلا

1👈-کسی سکول میں طلباء کو ٹیسٹ یا انٹرویو کی بنیاد پر داخلہ نہیں دیا جاتا، یعنی جتنا گڑاتنا میٹھا،

2👈-سکولوں میں کوئی بھی طلباء فیل نہیں ہوتا، (خاص کر پرائیویٹ سکولوں میں) اکثر اے اور بی گریٹ رزلٹ لیتا ہے،

3👈-اکثریت میں اساتید کے پاس گورنمنٹ اداروں کو چھوڑ کے سادہ بی اے یا کوئی پروفیشنل ڈگری موجود نہیں ہے۔

4-👈ہم نصابی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہے۔

5-👈اکثر پرائیویٹ سکولوں میں ٹیچر کی بھرتی ٹیسٹ یا انٹرویو کی بنیاد پر نہیں ہوتی اور نہ ہی سال میں ایک آدھا کوئی ٹریننگ ہوتی ہے،

6-👈سکولوں میں والدین یا کمیونٹی کی مداخلت نہ ہونے کے برابر ہے،

8-👈اکثر سکولوں کے درودیوار سے کوئی تعلیمی ماحول نظر نہیں آیا۔

9-👈اکثر پرنسپل سکول میں جاری نصاب سے متفق نہیں تھے۔ یعنی وہ مجبوری میں نافذ کئے ہوے تھے۔

اور باؤجود ان مسائل کے

10👈-اساتید اور پرنسپلز سکول کے نظام سے مطمن اور خوش تھے۔

11-👈 ایک دو سکولوں کو چھوڑ کے باقی کسی بھی سکول میں پلے گراونڈ، سائنس لیب، کمپیوٹر لیب یا لائبریری، واش روم، پینے کا صاف پانی وغیرہ موجود نہیں ہیں۔

12👈- گورنمنٹ پرائمری سکولوں میں ٹیچر کی کمی در اصل اکثر کی پی سی فور نہ ہونا اور ان ایپروڈ ہونا ہے جس کی وجہ سے ہائی سکول کواردو سے اساتذہ ان سکولوں کو دیا ہوا ہے۔

13- 👈ہر گاؤں والوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنے گاؤں میں سرکاری سکول ہو، بیشک وہ گسے پٹے ہی کیوں نہ ہو۔

14-👈اور ساتھ ہی اکثریت میں پڑھے لکھے شخصیات اور صاحب استطاعت لوگ اپنے بچوں کو سکردو شہر منتقل کئے ہوے ہیں۔

یہ 14 پوائنٹ ایک سوال نامے کے زریعے ہر سکول کے پرنسپل کی رائے سے جمع کیا ہے ، اور میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کی یہ 13 پوائنٹس وہ وجوہات ہے جس کی وجہ سے کواردو تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہے۔ اور بلتستان کے اعلٰی تعلیمی اداروں (کیڈٹ کالج، پبلک سکول اینڈ کالج)، کمیشن، میڈیکل یونیورسٹی، انجنیرنگ یونیورسٹی اور باقی پروفیشنل ادارہ جات میں سیٹ لینے کی شرخ 0.008 سے بھی کم ہے. مختصر کر کے بیان کروں تو اکثر مسائل وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں ہے، بلک ایک اچھے نظم و نسق (مینیجمینٹ) کے ساتھ چلانے میں ہے۔

ان مسائل کا حل :

*(حصہ اول گورنمنٹ سکولوں کی بہتری کے لئے چند تجاویز)*

👈 گورنمنٹ / کمیونٹی سکول سوائے چند گاؤں کو چھوڑ کے کواردو کے تمام گاؤں میں موجود ہے، لہذا پہلے ہر گاوں میں جو پرائمری سکول ہے اس میں جماعت اولسے دوسری تک رکھا جائے، تا کہ چھوٹے بچے اپنے گھر کی دہلیز پہ پڑھ سکیں۔ اور ایک دو اساتذہ کے ساتھ چلا سکیں۔ اور لوگوں کے گاؤں میں سکول ہونے کی زد بھی پورا ہو جائیں۔

👈اس کے بعد ایک رسد میں یعنی 4 گاؤں سطح پہ ایک پرائمری یا میڈل سکول یعنی کلاس تیسری سے پانچویں یا اگر ممکن ہوا تو آٹھویں تک رکھا جائے۔ تا کہ دوسری سے اوپر کے بچے وہ بھی نسبتا اتنے بڑے نہیں ہوتے اپنی رسد کے کسی بھی سکول سے میڈل یا پرائمری پاس کر سکیں گے۔

👈اسی طرح کواردو سطح پہ ہائی سکول میں آٹھویں سے دہم تک رکھا جائے۔

👈اس طرح ہر گاوں کے پرائمری سکول پہ بھی بوجھ نہیں ہوگا اور ہر رسد میں ایک میڈل سکول ہونے کی وجہ سے ہائی سکول پہ بھی بوجھ نہیں پڑے گا۔

👈گاؤں سطح پہ سکولوں کو فعال بنانے کے لیے سکول *منیجمنٹ کمیٹی CMC* بنایا جائے جس میں گاؤں کے ہر چولہے کا سربراہ ممبر ہو اور اس کمیٹی کو چلانے والا اسی گاؤں کے عالم دین اور سکول ہیڈ ماسٹر کو رکھا جائے۔

👈رسد وائز جو *مڈل سکول* ہوگا اس کو فعال رکھنے کے لیے رسد سطح پہ سکول *منیجمنٹ کمیٹی CMC* بنایا جائے جس میں ہر گاوں سے تین یا چار سر کردہ ممبر ہوگا اور وہ ہیڈ ماسٹر اور ان چاروں گاؤں کے سب سے فعال عالم دین کے زیر ماتحت چلایا جائے۔

👈ہائی سکول کی سکول *منیجمنٹ کمیٹی* میں پورے کواردو کے ہر گاوں سے ایک سرکردہ ممبر بنایا جائے اور اس کمیٹی کو ہیڈ ماسٹر ہائی سکول اور امام جامعہ کواردو کے ماتحت چلایا جائے۔

👈تمام سکولوں کو سرکاری سکولز کے دائرے سے ہٹ کے *کمیونٹی سکول* بنایا جائے ۔ تا کہ لوگ مل کے سکولوں کی بہتری کے لئے کام کرے۔

*(پرائیویٹ سکولوں کی بہتری کے لئے)*

تمام پرائیویٹ سکولوں کو ایک نیٹ ورک کے انڈر چلایا جائے جو کہ انہوں نے خود پنک *PINC* کے نام سے بنایا ہے، اس کے کام کے دائرے کو بڑھایا جائے۔

👈پنک (پرائیویٹ انسٹیوشن نیٹ ورک) کی دو حصے بنایا جائے ، جس میں ایک *ایکیڈمک* ہو اور اس شاخ میں سکول کے پرنسپل اور مالکان ہوں۔

دوسرے حصے کو *پروفیشنل* بنایا جائے جیسے *کہ کواردو ایجوکیشنل فورم* موجود ہے۔ اس میں پہلے سے ہی کواردو کے تعلیم یافتہ شخصیات شامل ہے۔ پروفیشنل ادارہ یعنی *کواردو ایجوکیشنل فورم* مل کے پنک *PINK* کے لئے رہنما اصول مرتب کریں، جس میں سکولوں کے سلیبس، نظام امتحانات، سکول چلانے کے طریقے وغیرہ پر ایک معیاری اصول دیں اور تمام سکول ان رہنما اصولوں کے تحت کام کریں گے۔

👈پروفیشنل ادارہ *کواردو ایجوکیشنل فورم* سالانہ بنیادوں پر سکولوں کا دورہ کریں اور انکی رہنمائی کریں، اور 👈اسی طرح ٹیچرز کی تربیت کے لئے *ورکشاپس* رکھیں۔

سال میں کم از کم ایک دفعہ کواردو سطح پہ *تعلیمی کانفرنس* رکھا جائے جس میں گورنمنٹ سکول اوپر بیان کئے ہوے سٹرکچر کے مطابق اپنی پرفارمینس پیش کریں گے ، اور اسی طرح پرائیویٹ سکول بھی اپنا کارکردگی پیش کریں گے۔

یوں تمام سکول ایک نظام میں آئیں گے اور سالانہ انکی جانچ پڑتال بھی ہوگا اور کار کردگی بھی بہتر ہوگا۔

👈 ایجوکیشنل فورم سالانہ بنیادوں پر طلباء کے لئے تعلیمی رہنمائی کے لئے سیمینارز مرتب کریں۔

👈 ایجوکیشنل فورم سالانہ بنیادوں پر طلباء کے لئے ہم نصابی و غیر نصابی سر گرمیاں مرتب کریں، جیسے با ہمی مقابلے، کھیل وغیرہ۔

*حکومت یا عوامی نمائندہ کیا کرے*

👈اس ضمن میں جتنے بھی ان اپروٹ سکول ہے یا جن کے پی سی فور نہیں بنے ان کو ایپروڈ اور پی سی فور بنایا جائے۔ تا کہ اساتذہ کی کمی پورا ہو سکیں۔

👈سکولوں کے بنیادی ضروریات کو پورا کرے ، جیسے پینے کے پانی، واشرومز، گراؤنڈ، لیب، لائبریری وغیرہ۔

👈ان تمام ورکنگ باڈیز کو چلانے کے لئے مالی معاونت۔

👈گورنمنٹ سکولوں کی سٹرکچر کو علاقے کی ضرورت کے مطابق تبدیل کرنے (جیسا کہ اوپر بیان کر چکا ہوں ) کے لئے سر کاری سطح پہ اجازت نامہ جاری کریں۔

تعلیم ایک دن کا کام نہیں ہے بلکہ اس کے لئے کئی صدیاں درکار ہوتی ہے لیکن اگر ہم آج نتیجہ نہ دے سکیں تو اس نتیجہ کے لئے بنیاد تو ڈال سکتے ہیں۔

آئیں آج مل کر آغاز کریں۔

تحقیق کو نہایت اختصار کے ساتھ بیان کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔

کالم نگار: زاہد حسین ایم فل ریسیرچ سکالر دی یونیورسٹی اف لاہور، ڈیپارٹمنٹ آف منیجمنٹ سائنسز۔

03472043310، zahidhussainskd@gmail.co

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page