چہلم امام حسینؑ دنیا کیلئے امن کا پیغام
- S M Mosavi
- Apr 1, 2020
- 6 min read
تحریر: ایس ایم موسوی
smmosavi512@gmail.com
روزنامہ سلام، بیدار 29/10/2018
نواسہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) حضرت امام حسین علیہم السلام کی مظلومانہ شہادت کے خون کی سرخی نے واقعہ کربلا کے دامن پر وہ نقش چھوڑے ہیں،کہ جن کی سرخی نے تاریخ کی ہر جنگ کی رونق کو چھین کر لوگوں کے ذہنوں سے ہر معرکہ کو محو کردیا اور اس وقت جب بھی کسی مظلوم کا تذکرہ ہوتاہے تو مظلومیت حسین ذہنوں کے سامنے دکھائی دینے لگتی ہے یہاں تک کہ نواسہ رسولؐ کی مظلومانہ شہادت نے انسانیت کے دل ودماغ پر ایسا اثر چھوڑا ہے کہ مورخ وشاعر کا قلم یہ لکھنے پر مجبور ہے حسینیت زندہ باد یزیدیت مردہ باد، اس لئے کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور اپنے اصحاب یہاں تک کہ اپنی اولاد کی قربانی پیش کرکے کلمہ توحید کو بچاتے ہوئے انسانیت کو نجات دی جسے خواجہ معین الدین چشتی نے اپنے لفظوں میں یوں بیان کیا:
شاہ است حسین بادشاہ است حسین، دین است حسین دین پناہ است حسین
سرداد نداد دست دردست یزید حقہ کہ بناء لاالہ است حسین
یہی وجہ ہے کہ امام حسینؑ کی اس عظیم قربانی کو ہر سال نئے انداز اور نئے جذبے کے ساتھ منایا جاتاہے،ورنہ دنیا میں کسی قوم میں یہ رواج نہیں کہ اگر ان کے اپنے عزیز چاہیے جتنی ظلم وستم کے ساتھ اس دنیاسے چلے جائیں کچھ سالوں کے بعد اس کی اس قدر یادمنائے بلکہ ہر سال اس کی یادوں میں خاصا کمی آجاتی ہے لیکن چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی آج مولاحسینؑ اور ان کے اصحاب کی یاد کو ہر سال اس انداز میں منایا جاتا ہے جیسے یہ واقعہ ابھی پیش آیا ہواور دنیا میںیہ شرف بھی صرف مولا حسینؑ کو ہی حاصل ہے جن کی ہر سال برسی کے ساتھ چہلم بھی منایا جاتا ہے ورنہ ممکن ہے کسی اور معصوم کی برسی توہر سال مناتے ہوں مگر چہلم صرف ایک دفعہ مناتے ہیں لیکن حسینؑ اور اصحاب حسینؑ کے چہلم بھی ہر سال منایا جاتا ہے اور ہرسال ان کی یاد منانے والوں میں بلا تفریق رنگ و نسل،مذہب و قومیت اضافہ ہوتی جارہی ہے، چونکہ واقعہ کربلا در حقیقت حیات جاودانی کا نام ہے، واقعہ کربلا تلوار پر خون کی کامیابی کا نام ہے ،واقعہ کربلا ظلم کے خلاف ایک مستحکم تحریک کا نام ہے، واقعہ کربلا جہالتوں پر علم کے غلبے کا نام ہے ،واقعہ کربلا ظلم اور ظالم کے سامنے ڈٹ جانے کا نام ہے، واقعہ کربلا خواب غفلت سے بیدار کرنے کا نام ہے، واقعہ کربلاتوحید کی سربلندی اور کفر ونفاق کی نابودی کا نام ہے۔اس عظیم واقعہ نے دنیا کو متزلزل اور بڑی بڑی چٹانوں کو پانی کردیا اور عالم اسلام میں ایسا انقلاب لایا کہ جس کا اثر آج بھی پوری دنیا میں موجود ہے اسلئے کہ آج بھی جتنی تحریکیں کامیابی سے ہمکنار ہورہی ہیں انہوں نے کربلا والوں کو اپنا آئیڈیل بنایا ہے۔لیکن ہم امام حسین علیہ السلام کا حق اسی وقت اد اکرسکتے ہیں جب آنحضرت کے اس عظیم مقصد کو پورے عالم تک پہنچائیں اور اس کا دفاع بھی کریں، اسی مقصد امام حسین علیہ السلام اور آپ اور آپ کے اصحاب کی قربانی کی یاد تازہ کرنے کا ایک نمونہ ان مقدس ہستیوں کے چہلم کی یادمنانا ہے جس کی سنت ایک جلیل القدرصحابی رسول جناب جابر بن عبد اللہ انصاری کے عمل سے پڑی جنہوں نے سینکڑوں میل پیدل چل کر۲۰صفر المظفر کو نواسہ رسول کی زیارت کا شرف حاصل کیا ۔لہذا آج ہماری بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس روز امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے جائیں اور پیدل چل کر زیارت کرنے کی سنت کو زیادہ زیادہ ترویج کریں تاکہ یوں نواسہ رسول (ص)کے حق کو ادا کیا جا سکے۔اس موقع پر ایک خاص رسم جو حالیہ برسوں میں بہت زیادہ نمایاں طور پر سامنے آئی ہے اور ہر سال اسکی رونق میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے وہ کربلا کی جانب حسینی پروانوں کا ہجوم ہے جو پاپیادہ راہ کربلا کی طولانی مسافت کو طے کرکے اپنے مولا کے حضور اپنی لبیک درج کراتے ہیں۔پاکیزہ جذبات اور معنویت و روحانیت سے لبریز یہ عالیشان رسم گزشتہ صدیوں کے دوران بھی رائج رہی ہے، لیکن کچھ سالوں سے جو شکل اس رسم نے اختیار کی ہے اسکی نظیر نہیں ملتی۔جہاں دنیا بھر سے کروڑوں لوگ شریک ہوں وہاں ان کی خاطر خواہ تواضع کے ساتھ انہیں مکمل تحفظ بھی فراہم کی جاتی ہے ،جب کہ دنیا اس وقت دہشت گردی کے دہانے پہ کھڑی ہے جس جگہ دیکھیں لوگ امن کے لیے ترستے نظر آتے ہیں خصوصا عراق کو امن کے حوالے سے پرامن ملک نہیں سمجھا جاتا لیکن یہ حسینؑ کی کرامت ہے کہ چہلم کے دوران اتنے بڑے مجمع میں نہ کسی کو کوئی خراش لگتی ہے نہ کسی کو کسی سے کوئی شکوہ ہوتا ہے دنیا میں ہم نے لیتے ہوئے ہاتھوں کوتو بہت دیکھا ہے، نہ ملنے پر شکایت کرنے والوں کو دیکھا ہے لیکن کربلا میں دینے والے اور نہ لینے پر شکایت کرنے والوں کو دیکھا اگر کوئی ان کی جانب سے پیش کردہ چیز نہ لے تو وہ لوگ اسے اپنی بدقسمتی سمجھتے ہیں ایسی مہمان نوازی صرف ہمیں کربلا میں نظر آتی ہے،جہاں پیادہ چلنے والوں کی خدمت کیلیے ہر قدم پر میزبان موجود ہوتے ہیں جو اپنے مہمانوں کے جوتوں کی تحفظ سے لیکر پاؤں دھلانے تک خدمات کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں،اگر کسی نے حقیقی امن اور انسانیت کی خدمت دیکھنی ہو تو زندگی میں ایک مرتبہ اربعین کے دوران ضرور کربلا کا رخ کریں اور اس عظیم عبادت(مشی) میں شامل ہوجائیں،یہ مولا حسینؑ کے اس عظیم کارنامے کا نتیجہ ہے کہ جب آپ۲ محرم الحرام کو کربلا پہنچے تو سرزمین کربلا کو خریدنے کے بعد دوبارہ متعلقہ مالکان کوہبہ کردیا اور کہاکہ یہاں آنے والے میرے زائرین کا خیال رکھیں عراق والے آج بھی مولاحسینؑ کی اس وصیت پر عمل پیرا ہیں، ماضی میں بھی سید الشہدا علیہ السلام کے چاہنے والے چہلم کے موقع پر پاپیادہ کربلا مشرف ہوتے رہے ہیں۔متعدد علما اور مراجع کرام کی سوانح حیات میں یہ تذکرہ ملتا ہے کہ یہ حضرات گذشتہ صدیوں میں بھی اپنے اعزاء و اقارب یا مریدوں کے ہمراہ اس روح پرور اور معنوی رسم پر خود بھی عمل پیرا رہے ہیں اور ساتھ ساتھ مومنین کو بھی اس میں شریک ہونے کی ترغیب دلائی ہے۔جبکہ گذشتہ کئی سالوں سے اس ملک (عراق)میں قبیلوں، خاندانوں، گھروں اور حتی بھائیوں کے درمیان خونی ٹکراو رہا ہے اس کے باؤجود ملک بھر کے ان تمام قبیلوں اور خاندانوں کے افراد ایک ساتھ چہلم امام حسین علیہ السلام کے اس پیدل مارچ یا مشی کے دوران اکٹھے آتے ہیں اورپانچ سو کلومیٹر لمبے راستے میں جگہ جگہ ایسے افراد کے بوٹ پالش کرتے ہیں جنہیں وہ بالکل نہیں جانتے۔ اسی طرح ایسے افراد کی منتیں کر کے انہیں اپنے گھر لے جاتے ہیں اور ان کی خاطر تواضع اور خدمت کرتے ہیں جن سے ان کی کوئی جان پہچان نہیں ہوتی۔یہ افراد اپنے باپ دادا کے ہمراہ چہلم سید الشہداء علیہ السلام کے قریب کم از کم بیس دن تک یہ عمل انجام دیتے ہیں اور اس عمل کے ذریعے ایسے افراد سے محبت اور مہربانی کرنے کی مشق کرتے ہیں جنہیں وہ بالکل نہیں جانتے اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ وہ شیعہ ہے یا سنی، عیسائی ہے یا یہودی۔ وہ سب کو امام حسین علیہ السلام کے زائر اور مہمان کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہ مشق صرف ایک سال تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ تمام پڑھے لکھے اور ان پڑھ جوان، بوڑھے، بچے اور خواتین ہر سال اپنا یہ درس دہراتے رہتے ہیں اور اس محبت آمیز عمل اور مہربانی کی مشق کرتے رہتے ہیں۔ یہ ان کیلئے ایسا سیمسٹر ہے جسے پاس کرنے کا فائدہ صرف ایک سال تک ہی ہے اور اگلے سال انہیں دوبارہ اپنے سیمسٹر کو دہرانا ہوتا ہے۔کیا دنیا کا کوئی اور اسکول یا یونیورسٹی اس انداز میں محبت اور مہربانی کا درس دے سکتی ہے؟ چہلم امام حسین علیہ السلام درحقیقت اقوام عالم کی ویکسینیشن ہے تاکہ ان کی اولاد داعشی نہ ہو۔ ایسا داعشی جو جانے پہچانے اور انجانے افراد کا کوئی سوال پوچھے بغیر سر قلم کرتا ہے۔ اس ویکسینیشن میں ان کی ثقافت اور اقدار کی اصلاح کی جاتی ہے۔ میں دوبارہ آپ سے پوچھتا ہوں کہ دنیا میں اور کون سا ایسا ملین مارچ ہے جہاں اس انداز میں شرکت کرنے والوں کو محبت اور مہربانی کا درس دیا جاتا ہے؟چہلم امام حسین علیہ السلام پر نظر آنے والے مناظر سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح عراقیوں کے دلوں میں ایران سے آٹھ سالہ جنگ کے کینے کی جگہ ان کی مہمان نوازی نے لے لی ہے۔ جی ہاں، ہم چہلم سید الشہداء علیہ السلام پر انسانوں سے محبت کا درس حاصل کر کے یزید اور شمر کی سوچ اور ثقافت سے زبردست انتقام لیتے ہیں۔ یہ ایسا انتقام ہے جو قوموں کو محبت کا درس دیتا ہے اور انہیں ایک دوسرے کے بارے میں ایسا اطمینان فراہم کرتا ہے جو انہیں آپس کے خوف کے باعث مغربی طاقتوں سے اسلحہ خریدنے کا ارادہ ترک کر دینے پر مجبور کر سکتا ہے۔دوسری اہم بات یہ کہ اس دوران دنیا کے جتنے ممالک سے لوگ شرکت کرتے ہیں وہ اپنے اپنے ملک کے پرچم لہراتے ہوئے آزادی کے ساتھ لبیک یاحسینؑ کی بلند صداؤں کے ساتھ پرچم حسینی کے تلے جمع ہوجاتے ہیں جس میں بلاتفریق دنیا کے تمام و مذاہب کے لوگ اپنے آپ کو حسینی کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین





Comments