top of page

میں ووٹ کس کو دوں؟🤔

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Jun 16, 2020
  • 5 min read


#تحریر: ایس ایم موسوی

روزنامہ سلام، بیدار، ترجمان، نیوز مارٹ اور پناہ

16 جون 2020


الیکشن نزدیک آتے ہی ہر کسی کے ذہن میں یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ مجھے ووٹ کس کو دینا چاہیے۔ اس لیے گذشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ہمارے حلقہ ٢ سکردو کے تمام نمائندوں سے متعلق تعارفی پوسٹ کا سلسلہ جاری تھا تاکہ ووٹرز اپنے نمائندوں کو پہچان لیں۔ آج سوچا ووٹ کی شرعی حیثیت اور بہترین انتخاب پر چند جملے لکھوں تاکہ قارئین کو یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہوجائے کہ ووٹ کس کو دینا چاہیے۔ ووٹ ایک امانت ہے جسے ہم جمہوری حق رائے دہی کے مطابق اپنی نظر میں بہترین نمائندے کے انتخاب کےلیے استعمال کرتے ہیں۔ پہلے زمانے میں ووٹ کا کوئی تصور نہیں تھا بلکہ جو بھی حاکم بنتا تھا اس کی بیعت کرکے اس کا حکم ماننا ضروری سمجھا جاتا تھا تاہم جمہوری نظام میں حکمرانوں کے انتخاب عوامی رائے کے مطابق کرنے کےلیے ووٹ کا نظام متعارف ہوا۔ جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے، اسی بناپر ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے کا انتخاب ہوتا ہے۔ اب ہمیں پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ ووٹ کی شرعی اور قانونی حیثیت کیا ہے؟ جمہوری ملک میں ووٹ کی کئی حیثیتیں ہیں۔ شرعی لحاظ سے دیکھا جائے تو ووٹ کو شہادت اور گواہی کی حثیت حاصل ہے یعنی آپ جس ممبر کو ووٹ دے رہے ہیں اس کے بارے میں گواہ ہیں کہ اسکو ملک و قوم کے لئے مفید اور خیرخواہ سمجھتے ہیں۔ اسی طرح قانونی نگاہ سے دیکھا جائے تو ووٹ کو مشورہ کی حثیت حاصل ہے کہ وہ حکومت اور نظم و نسق کے سلسلے میں اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے کہ کون زیادہ بہتر اور ایماندار و ذمہ دار ہو سکتا ہے۔ تیسرے نمبر پر ووٹ کو سفارش کی حیثیت بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے اس امیدوار کے لیے ایک اہم عہدہ اور ذمہ داری کی سفارش کرتا ہے اور چوتھی حیثیت وکیل نامزد کرنے کی ہے کہ وہ سیاسی مسئلہ میں اسکو اپنا وکیل اور نمائندہ نامزد کرتا ہے۔ ووٹ کی ان حیثیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے وطن کے موجودہ حالات میں ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم سب خود بھی ووٹ ڈالیں اور اپنے متعلقین کو بھی ترغیب دلائیں۔ لیکن موجودہ دور کی سیاست نے الیکشن اور ووٹ کے الفاظ کو اتنا بدنام کردیا ہے کہ یہ الفاظ سنتے ہی مکر و فریب، جھوٹ، رشوت اور دغا بازی کا تصور ذہن میں آجاتا ہے، اسی لیے اکثر شریف لوگ ووٹ دینے کی جھنجھٹ میں ہی نہیں پڑتے ہیں، اسی طرح بعض لوگ دین کو صرف نماز و روزے کی حد تک محدود سمجھتے ہیں اور سیاست معیشت کاروبار اور تجارتی کاموں کو دین سے بلکل الگ تصور کرتے ہیں، ایسے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن اور ووٹوں کا دین و مذہب سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ مگر یہ بات یاد رکھیں کہ انتخابات اور ووٹ خالصتا دنیاوی معاملہ نہیں، بلکہ ووٹ ایک شہادت ہے۔ قرآن و حدیث کی گواہی کے متعلق تمام احکام اس پر لاگو ہوتے ہیں۔ ووٹ کو ضائع کردینا دین داری کا تقاضہ نہیں بلکہ ووٹ کا زیادہ سے زیادہ درست اور بر محل استعمال کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ یوں بھی سوچنے کی بات ہے کہ اگر شریف دیندار اور معتدل مزاج لوگ انتخابات کے تمام معاملات سے بلکل الگ ہوکر بیٹھ جائیں گے تو اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ وہ اختیارات کا سرچشمہ فتنہ پروازوں اور بے دین افراد کو سونپ رہے ہیں، ایسی صورت حال میں معاشرے کی تباہی و بربادی کے شکوے کرنے کا بھی دیندار لوگوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا، کیونکہ انہوں نے ہی شہادت و گواہی چھپا کر بےدین اور نااہل لوگوں کی مدد کی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ سیاست سے کنارہ کشی اختیار مت کرو ورنہ اس کا انجام یہ ہوگا کہ تم سے کمتر لوگ اٹھ کر تم پر راج کریں گے۔ اب شرعی نکتہ نگاہ سے ووٹ کی حیثیت شہادت اور گواہی کی ہے تو جس طرح جھوٹی گواہی دینا حرام اور ناجائز ہے اسی طرح ضرورت کے موقع پر شہادت چھپانا بھی حرام ہے۔ اللہ سبحان و تعالیٰ کا ارشاد ہے (ولا تکتموا الشھادتہ ومن یکتمھا فانہ اثم قلبہ) اور تم گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو شخص گواہی کو چھپائے اس کا دل گناہ گار ہے۔ اسی طرح رسول اللہ نے بھی ارشاد فرمایا: جسے گواہی کےلیے بلایا جائے، پھر وہ اسے چھپائے تو وہ ایسا ہے جیسے جھوٹی گواہی دینے والا۔ اس آیت اور حدیث کے ضمن میں ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ میں کس کی گواہی دینے جارہا ہوں۔ آیا میں جس کو ووٹ دینے جارہا ہوں کیا وہ دینی احکامات کے پابند ہے؟ کیا وہ واقعا میری گواہی کے لائق ہے؟ کہیں میں کسی دھوکے میں آکر یا اندھی محبت یا علاقائی و لسانی تعصب کی وجہ سے جھوٹی گواہی تو نہیں دے رہا۔ کہیں کسی مصلحت یا کسی دباو کی وجہ سے غلط گواہی دینے تو نہیں جارہا؟ ایک مسلمان کےلیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ خود سے نیک اور برے کی پہچان کرے اور بغیر کسی مصلحت کے اس کا فیصلہ کرنا ہی ایک آزاد انسان اور بہترین مسلمان کی علامت ہے۔ اور یہ درس ہمیں کربلا سے ملا ہے کہ ہر قسم کی آمریت، بادشاہت ظلم و جبر کے خلاف سینہ تان کے مقابلہ کرنے کا نام حسینیت ہے۔ دنیا کی ہر تحریک آزادی نے تحریک کربلا سے استفادہ کیا ہے۔ پہلے ووٹ کو بیعت کا درجہ حاصل تھا جس کی وجہ سے واقعہ ‎کربلا ہوا واقعہ کربلا ان لوگوں کےلیے سبق ہے جن کو ووٹ کی شرعی حیثیت و اہمیت کا علم نہیں۔ لہذا ووٹ کی شرعی حیثیت کو جانتے ہوئے ہر طرح کی لسانیت، قومیت، علاقائیت، برادری، ذاتی تعلقات، مفاد پرستی اور پارٹی بازی سے بالاتر ہوکر اللہ کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے ہماری نظر میں جو سب سے زیادہ دیندار، دیانتدار اور ایسے اہل افراد جو عوام کے ساتھ مخلص ہوں اور عوامی خدمت کو اپنا شعار سمجھتے ہوں ان کو ووٹ دینا ہمارا فریضہ ہے۔ اگر کسی حلقے کے تمام امیدواروں میں نسبتا یہ صفات نہ پائی جائے تو جو دوسروں کی نسبت زیادہ دیندار ہو اسے ووٹ دینا چاہیے۔ یہ نہ سوچیں کی اس امیدوار کے تو ووٹ بہت کم ہیں اور اس نے تو جیتنا ہی نہیں میرا ووٹ بھی ضائع ہوجائے ہوگا۔ نہیں آپ کا ووٹ ضائع نہیں ہوگا بلکہ آپ ایک جھوٹی گواہی دیکر خدا و رسول کو ناراض کرنے سے بچ جائےگا ان کی جیت اور ہار ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی بلکہ ہم نے اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہے اور ہماری نظر میں جو بہترین نمائندہ ہے اس کی گواہی دینی ہے۔ کسی کی جیت اور ہار کےلیے ہم اپنی آخرت خراب کیوں کریں۔ کیونکہ کل کو اس امانت کے متعلق بھی ہم سے سوال ہوگا۔ عوامی نمائندوں کو بھی چاہیے کہ اپنے آپ کو اس لائق بنائیں کہ لوگوں کو ان کی ایمانداری دیانتداری اور اخلاص کی گواہی دینے کے بعد شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اب آگے کا فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ⭐⭐

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page