top of page

معرکہ کرگل کے گمنام ہیرو

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Apr 1, 2020
  • 6 min read

تحریر: ایس ایم موسوی

رقزنامہ سلام، بیدار، ترجمان 20 دسمبر 2018


بسم رب الشھداء۔ آج مجھے ان ہستیوں کے بارے میں قلم اٹھانے کا موقع ملا ہے جن کی عظیم قربانیوں کی بدولت آج ہم سکون کی سانس لے رہے ہیں،انہوں نے وطن عزیز کی تحفظ اور ہماری مستقبل کے لیے اپنے حال کو قربان کردیا اور اپنے جیتے جی گھروں کو لٹادیا،آج اگر ہم ان کی یادوں سے غافل رہے تو یہ ان شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہوگی،معرکہ کرگل اگرچہ علاقہ کواردو کے لیے قیامت سے کم نہ تھا چونکہ اس معرکے میں صبدار سید محمد شاہ سمیت یہاں کیکئی جوانوں نے جام شہادت نوش کیا،جن میں شہید محمد غلام دولتی ،شہیدغلام عباس،شہید محمد بشیر اور شہید احمد علی وغیرہ سر فہرست ہیں، ان میں سے کچھ کے جنازے موصول ہوگئے جس سے لواحقین کو کم از کم کسیحد تک یقین کے ساتھ سکون بھی نصیب ہوا مگر کچھ کے جنازے اب تک گمنامی کی حالت میں رہے انہی میں سے ایک اس معرکہ کے عظیم ہیرو، موسوی خاندان کے چشم چراغ صبدارسید محمد شاہ ہے جن کو شہید ہوئے تقریباَ بیس سال ہونے کو ہے لیکن ان کی ورثہ کو آج بھی ان کی میت کا انتظار ہے ،ان کی جسد خاکی ابھی تک گمنام ہے، اس عظیم ہیرو نے معرکہ کرگل میں داد شجاعت دیتے ہوئے اپنی جان سپرد آفرین کرچکے ان کی بہادری اور شجاعت کے قصے ہر زبان خاص و عام پہ ہے،وہ یقیناًنشان حیدر کا حقدار تھا مگر حکومت پاکستان نے انہیں ستارہ جرائت سے نوازا جو اس عظیم ہیرو کی لازوال قربانیوں کے عوض حق ادا نہ ہوسکا، حکومت کی جانب سے وقتی طور پربہت سارے اعلانات بھی ہوئے جو ابھی تک وفا نہ ہوسکے،شہادت کی خبریں گردش کرنے کے بعدضلعی انتظامیہ کی جانب سے سکردو پولیس لائن تا کواردو سڑک کو اس شہید کے نام سے موسوم کرکے ایک سائن بورڈ لگادیا تھا جسیکچھہی عرصے بعد نامعلوم وجوہات کی بناپر ہٹادیا گیا جو اب تک دوبارہ نصب نہ ہوسکا جو کہ شہیدوں کے پاک لہو کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے ،حکومت کو چاہیے کہ شہداء کو وہ عزت و تکریم دیں جن کا وہ لوگ حقدار ہیں،شہداء کی عظیم قربانیوں کو یاد رکھنے کی خاطر سرکاری عمارتیں،معروف شاہرائیں، اور دیگر اہم مقامات کو ان کے نام سے منسوب کیا جائے،گذشتہ دنوں کمشنر بلتستان کی جانب سے کواردو پل کو اس عظیم ہیرو کے نام سے منسوب کرانے کے احکامات جاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا پہ چلنے والی بحث پر مجھے آج یہ کالم لکھنے کا موقع ملا،صبدار سید محمد شاہ ستارہ جرائت کا تعلق سکردو کے نواحی علاقہ کواردو میں ایک چھوٹا سا گاؤں سیدآباد(زگنگ) میں شرافت و کمالات کے مالک موسوی خاندان سے تھا،اس خاندان کا علاقے کے ساتھ ملک عزیزکے لیے عظیم وبے مثال قربانیاں اور خدمات ہیں،علاقے میں اس خاندان کے بزرگان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، دینی تعلیم و تربیت کی فروغ کے ساتھ مجالس و محافل میں ذاکری ان کا شیوہ رہا ہے جوکہ تسلسل کے ساتھ آج بھی جاری ہے،ملک عزیز کیلیے اس چھوٹے اور چند گھرانوں پر مشتمل خاندان سے اب تک پانچ افراد پاک فوج میں صبدار کے عہدے پرخدمات انجام دے چکے ہیں جن میں سرفہرست اسی شہید کا والد محترم صبدار سید حسین شاہ،دوسرا اسی شہید کا چچا صبدار سید محمد (معروف بواخسری) تیسرا خود شہید، چوتھا صبدارسید یعقوب شاہ اور پانچواں صبدار سید محمد کاظمی ہیں جن کی عظیم خدمات سے آج خاندان کا سر فخر سے بلند ہے،ان کے علاوہ اسی خاندان سے تعلق رکھنے افراد آج بھی پاک فوج، ائیرفورس، جی بی سکاؤٹس پولیس اور دیگر محکموں میں اہم عہدے اور سپاہیوں کی صورت میں ملک عزیز کی خدمات سرانجام دینے میں مصروف ہیں،سید محمد شاہ نہ صرف ایک فوجی عہدے دار تھے بلکہ آپ ایک بہادر،دلیر،شجاع اور انتہائی شریف النفس ،ایمانی طاقت سے سرشار آفیسر ہونے کے ساتھ ذاکر اہلبیت،بہترین قاری قرآن،مجرب و مستند عامل،محراب و منبر کے مالک عالم باعمل شخصیت کے حامل تھے،وطن کی مٹی سے وفاداری آپ کے خمیر میں موجود تھی،آپ مختلف محاذوں پر وطن سے وفاداری کے پاکیزہ جذبے کو نبھاتے رہے،کرگل محاذ پہ آپ 6NLIکے چند جانبازوں اور سرفروشوں کے ساتھ نہ صرف دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئے وطن عزیز کی تحفظ میں مگن تھے بلکہ اپنی شجاعت و دلیری کا ثبوت دیکر دشمنوں کو پسپاکرکے ان کے علاقے میں گھس کر کئی مورچوں کو اپنے قبضے میں لیکر پاکستانی پرچم بھی لہرایا تھامگر افسوس اس وقت مصلحت پسندی کا شکار ہونے والے ہمارے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے حکم سے دشمن کے علاقے میں موجود ان بہادرشیروں،اور سرفروشوں کی سپلائی لائن بند کردی جس کے سبب آپ نے اپنے سپاہیوں کو پیچھے ہٹنے کاحکم دیامگر کربلا کے وارث اور حیدر کرار کے اس پوتے نے خود دشمن کو پیٹ دکھانے کے بجائے تن و تنہا دشمنوں کے درمیان مورچے سنبھالنے کا فیصلہ کرلیا یوں 1999 ؁ء میں آپ سنتالیس سال کی عمر میں ہم سے جدا ہوگئے۔ کرگل محاذ پر اسی معرکے میں آپ کے مامو کا اکلوتا بیٹالانس نائک غلام دولتی بھی شہید ہوگئے تھے دکھ اس بات کا نہیں کہ ہمارے سینکڑوں جوان شہید ہوئے بلکہ دکھ یہ ہے کہ دشمن کے علاقے میں گھس کر ان کے ناک میں دم کرنے والوں کے نام آج کہیں نظر نہیں آرہا،آج گلگت بلتستان کے کسی بھی قبرستان میں جائیں تو وہاں کئی جانباز اور کئی لالک جان پاکستانی پرچم قبر پہ سجائے محوئے خواب نظر آتے ہیں پھر بھی ہمیں غدار کہا جاتا ہے،اورہمیں غیر آئینی اور متنازعہ علاقہ کہا جاتا ہے،اتنی قربانیوں کے باؤجود آج بھی کہیں ہمیں اپنی شناخت نہیں مل رہی، صبدار سید محمد شاہ کی ذات ایک عظیم شخصیت ہے جسکی ایثار و قربانی اور اعلیٰ شجاعت پہ حکومت نے ستارہ جرائت سے نوازا، دشمنوں کو آپ کی ذاتی بہادری اور شجاعت پہ اتنا غصہ تھاکہ شہید کا جسد خاکی بھی پاکستان کے حوالے نہیں کیے مگرشہید کے جسم کی خوشبو آج بھی کرگل کے محاذوں پہ حرارت کا سبب و ایثار قربانی و جرائت و بہادری کا عظیم استعارہ بن کر مہک رہا ہے لیکن ان کے خاندان والے آج بھی ان کے نام سے کسی انصاف کا منتظر ہیں،ایک سڑک پر شہید کے نام کی تختی لگادی اور پھر ہٹا بھی دیا شاہرائے سید محمد شاہ کواردو پل تک محدود ہوگیا آپ کی عظیم اور لازوال قربانیوں کو فراموش کیا گیا۔مگر ہمارے دلوں پر آج بھی اسی طرح ان کی راج ہے کہ جس طرح وہ ہمارے سامنے تھے آج بھی ہمیں ان کا انتظار ہے ہمارے دل اس کی شہادت قبول کرنے کو تیار نہیں نہ جانے اس کے پیچھے خدا کی کیا مصلحت ہے آج بھی ہماری آنکھیں اس کو دیکھنے کیلیے بے تاب ہیں ،آپ کی شہادت کی خبرسن کر خاندان والوں پہ کیا گزری اسے لکھنے کی شائد قلم میں بھی سکت نہ ہو لیکن اہل علاقہ بلکہ یہاں میں بلتستان کا نام لوں تو مبالغہ نہیں ہوگا یہاں کے پورے فضاء میں سوگ کا سماں تھا علاقے میں کہرام بپا ہوگئی ہر خاص و عام کی آنکھیں پرنم تھی ہر طرف وامصیبتا کی فضائیں گونج رہی تھی ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق منتیں ماننے میں مصروف تھے کہ اے خدا ہمارے سید کو ایک مرتبہ ہمیں لٹادیں ہم اپنے سب کچھ تیری راہ میں قربان کریں گے،اور آج بھی واقعاکچھ افراد اسی آسرے میں راہ تک رہے ہیں کہ کاش کہیں سے شاہ جی کے بارے میں کوئی مثبت خبر مل جائے تو ہم اپنی زمینیں،بنک بیلنس،یہاں تک کہ اپنے گھربارکو بھی راہ خدا میں دے دوں،لیکن تمام تر امیدوں اور آسراؤں کے باؤجود 20 جون کی صبح سورج ایسی خبر کے ساتھ طوع ہوگئی کہ ہماری دلوں کے سارے آرمان آنسوؤ ں کے ساتھ بہہ گئے اور جینے کی تمنائیں اور امیدوں کی کرن بھی اسی روز سورج کے ساتھ ڈوب گئے،اورشہید اپنے دوفرزند ،دو بیویاں اور خاندان والوں سمیت اہل علاقہ اور ہزاروں چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ گیا آپ کا چھوٹا فرزند سید عقیل موسوی اس وقت دنیا میں بھی نہیں آئے تھے کہ اس سے دوماہ قبل بابا کی شہادت کی خبر آئی اور وہ آج بھی کہیں سے اپنے بابا کو دیکھنے کی حسرت دل میں لیے حصول علم میں مشغول ہے اور بابا کی سیرت پہ چلنے کا عزم کرکے ملت کی خدمات کرنے کی خواہشیں دل میں لیے بیٹھا ہے جبکہ آپکا بڑافرزند سید ابراہیم شاہ موسوی باپ دادا کی نقش قدم پہ چلتے ہوئے اس وقت بلتستان کے مشہور عامل اور علاقے کی معروف شخصیات میں شمار ہے۔آخر میں اس کالم کے ذریعے میں اپنے پورے خاندان کی جانب سے کمشنر بلتستان جناب حمزہ سالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ کی کاوشیں اپنی جگہ قابل قدر ہیں لیکن ساتھ ہی اسی توسط سے حکام بالا سے ایک اپیل بھی کرتا ہوں کہ اس عظیم ہیرو کے لازوال قربانیوں کو فقد کواردو پل تک محدود رکھنے کے بجائے علی مسجد سے کواردو تک سڑک کا نام شہید کے نام شاہرائے سید محمدشاہ سے منسوب کیا جائے اوراس گمنام شہید کی کارکردگی کو معاشرے میں عام کیا جائے۔

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page