محرم اور کربلا کے تقاضے
- S M Mosavi
- Apr 1, 2020
- 6 min read
تحریر: ایس ایم موسوی
روزنامہ سلام، بیدار 27/09/2018
محرم یعنی ایام محاسبہ، جس میں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اپنی ذاتی زندگی میں ہم کس قدر امام حسین علیہ السلام کے مشن کیپابند ہیں؟ روزمرہ کے معمولات میں ہم کس قدر دین کے پابند ہیں؟ ہمارا طرز زندگی میں کس حد تک حسینیت کی جھلک ہیں؟ عملی میدان میں اگر ہم دین، شریعت، یا حسینیت کے پابند نہیں تو پھر محرم کے یہ تبرکات، یہ آنسوں، یہ گریہ، یہ ماتم، یہ نوحہ، یہ مرثیہ، یہ جلوس، یہ عزاداری یہ سب فریب ہیں اپنے نفس کے ساتھ، اپنے دین کیساتھ، اپنے عقائد کے ساتھ۔ اور اپنی مکتب کیساتھ. کیونکہ کربلا محض ایک واقعہ نہیں سید الشھداء نے اسلام کی سربلندی کیلیے عملی طور پر اپنا کنبہ لٹا کر انسانیت کا بول بالا کردیا ہے جب بھی اسلام پر کوئی برا وقت آئے تو ہمیں امام عالی مقام کے نقش قدم پر عمل کرتے ہوئے اپنی قربانی پیش کرنی چاہیے۔ کربلا حق و باطل کا ایک ایسا واقعہ ہے جو قیامت تک انسانوں کیلیے نمونہ ہے چونکہ تحریک کربلا ایسے جنگ کا نام ہے جہاں خون کو چھریوں کی تیزی پر، سینے کو برچھیوں کی نوک پر، گردنوں کو تلوار کی تیز دھار پر، مظلوموں کو ظالموں پر، اور قلت کو کثرت پر فتح حاصل ہوئی ہے. دیکھا جائے تو یہ فقد ایک معرکہ ہی نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے نسلوں کیلیے درس کا منبع ہے جہاں سے ہمیں ہر طرح کے سبق ملتا ہے، فداکاری، جانثاری، وفاداری، قربانی، شھادت، شفاعت، قبولیت، عفودرگزر، استحکام، صبر، عبرت گو کہ ہر طرح کا درس یہاں موجود ہیں لیکن ہم کربلا کے فقد ایک رخ کو دیکھ کر اسی پہ ہی وقت گزارنے میں مصروف ہیں محرم فقد کالے کپڑوں میں ملبوس ہوکر آنسو بہانے کا نام نہیں بلکہ کردار بدلنے کا مہینہ ہے ظالموں سے اظہار بیزاری کا مہینہ ہے اپنے حقوق کی خاطر اٹھ کھڑے ہونے کا مہینہ ہے محرم کا تقاضہ یہ نہیں کہ کالے لباس پہن کر مرثیہ و گریہ زاری اور نوحہ و سینہ کوبی کرتے رہیں بلکہ محرم تقاضہ کرتا ہے کہ اپنے آپ کو فطری اور ذہنی غلامی سے آزاد کرائیں، محرم الحرام کا مقدس مہینہ قربانی، ایثار، اور عزم کا مہینہ ہے جو ہمیں باطل اور ظالموں کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے. محرم یعنی انقلاب اپنی عملی زندگی میں اپنی عادات میں اپنے لب و لہجے میں اپنی گفتار میں اپنی فطرت میں، اپنی سوچ میں اگر محرم کے مہینے میں بھی کوئی اپنے اندر ذرا بھی تبدیلی محسوس نہ کرے تو گویا وہ ہدایت کے قابل ہی نہیں. محرم ظالموں سے نفرت مظلوموں سے ہمدردی کا مہینہ ہے اگر کوئی اس مہنیے میں بھی ظلم روا رکھے تو اس کا شمار کس صف میں ہوتا ہے خود ہی فیصلہ کیجئیے. صرف یزید کو برا بھلا کہنا کافی نہیں چونکہ یزید فقد کسی ایک شخص کا نام نہیں بلکہ ایک کردار ہے جو تاریخ کے کالے باب میں شامل ہے جس کسی میں بھی وہ کردار پایا جائے وہ وقت کییزید ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی فرقہ یا مذہب سے ہو، بہتر شہداء میں غیر مسلموں کا موجود ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ نہضت حسینی کی بنیاد خاص مذھب و مسلک کے بجائے انسانیت کی بنیاد پر استوار ہے لہذا کردار یزیدی سے نفرت اور دوری اختیار کرنا بھی لازم ہے ورنہ اس شعر کے مصداق بنوگے کہ
جس یزید کے ظلم و ستم سے ہم نفرت کرتے ہیں وہی ظلم و ستم ہم سے روا نہ ہو ورنہ یزید سے زیادہ ہم خود ان لعنتوں کا مستحق ہوگا کیونکہ یزید تو ان سب کو اچھا سمجتھے تھے لیکن ہم اس کو بُرا بھی سمجھے اور اسے انجام بھی دے تو ہم سے زیادہ لعنت کے مستقحق کون ہوگا؟ یزید سے نفرت صرف اس لیے نہیں کہ اس نے حسئین پر ظلم کیا بلکہ اس نے دین میں بگاڑ پیدا کی دین اسلام کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش کی اگر اس وقت حسئین میدان میں نہ آتے تو آج ہمارے پاس یہ دین اسلام نہ ہوتا جہاں بھائی چارگی ک درس ملتا ہے جہاں کسی گورے کو کالے پر کسی امیر کو غریب پر کسی طاقت ور کو کمزور پر کوئی فوقیت حاصل نہیں آج اگر ہمارے معاشرے میں ایسی سوچ ہے تو وہ فقد دین مبین سے دوری کی وجہ سے ہے یہ حسئین ہی ہے جس نے کلمہ حق کو بچا کر ہمیں مسلمان کے دائرے میں رکھا. ہمیں اس نکتے پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ میدان کربلا میں جب فوج کے سپہ سالار حضرت عباس سے لیکر شش ماہ کا علی اصغر تک قربان کرنے کے بعد وقت آخر حسین کس چیز کی حفاظت کے لئے ھل من کی صدائے استغاصہ بلند کر رہے تھے؟ یہی کہ اس وقت حسین کی مدد کا مطلب دین کی تحفظ تھی اور حسئین نے قیامت تک آنے والے نسلوں کیلیے یہی پیغام دیا ہے کہ دین مبین کی تحفظ میں اپنا سب کچھ قربان کریں لہذا آج بھی اگر کوئی دینی احکامات میں بگاڑ پیدا کرتا ہے تو وہ یزیدی ہے ہمیں اس وقت حسینی کردار ادا کرتے ہوئے فوراً میدان میں آنا ہوگا.
زندہ قوموں کی نشانی یہ ہے کہ 61 ہجری کے یزید کو بھی برا بھلا ضرور کہو لیکن اُس جیسا اِس دور میں نظر آئے تو اس کو بھی پکڑو۔ صرف گریہ و زاری سے کام نہیں چلتا بلکہ عزاداری 61 ہجری کے یزید کو پہچان کر اپنے دور کے یزیدیوں کے تعاقب کا نام ہے. عزاداری کو فلسفہ حسینی کی ترویج، عزادران حسین(ع) کی تربیت اور مکتب حسینی کی تکریم کا وسیلہ ہونا چاہئے ان مقاصد سے متصادم کوئی بھی عمل عزاداری نہیں کہلایا جا سکتا. آج امام حسین کے جانثار ساتھی اور اسیران کربلا ہم سے یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ ہم نماز روزہ، غریب پروری، صلہ رحمی، مظلوموں سے ہمدردی، ظالموں سے بیزاری کے ساتھ صبر و استقامت اور یقین کو اپنا وظیفہ بنائیں. کاش خواتین اپنے پردے کا خیال رکھتے مگر آج رسمی عزاداری پر زور ہے مگر معنوی اعمال نہ تو ہمارے اعمال میں نظر آتی ہے نہ ذاکرین کا عنوانِ محراب و ممبر ہوتا ہے. افسوس صرف شبیہات اور رسمی عزاداری پر زور ہے آج کا حسینی جوان ذمہ دار ہیں کہ ان کے دن کے 1440 منٹ کہاں صرف کرتے ہیں ہماری نگاہ تخیلات اور اعمال میں ایک حسینی جوان کے آثار چھلکنا چاہیے جوانان علی اکبر کی آزان پر لبیک کہتے ہوئے صبح کی نماز قائم کریں حضرت زینب کی روح کی تسکین کے لیے خواتین کے زلف کسی نا محرم کی نگاہ سے پوشیدہ ہو ذاکریں بھی افکار امام امرباالمعروف نہی عن المنکر اور احکام اسلام اور ایک حسینی جوان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کئیجئے تعصب فرقہ پرستی کو ہوا نہ دیں بلکہ مسلمانوں کے مابین اتحاد اتفاق قائم کرنے کا درس دیں اور محرم کے اندر تحرک پیدا کریں دنیا اور آخرت میں رہنما بن کر قوم و ملت کی آبیاری کے لیے کردار ادا کریں اور نقش حضرت عباس پر چلتے ہوئے علمدار بنے جیسے شاعر کہتا ہے
پس دنیا کی فریب سے نکل کر وسعت قلب ونظر کا مظاہرہ کرے اور سیاست معشیت ثقافت علم و فن وکمال اور عبادت زندگی کے ہر پہلو میں حسینی کردار عیاں ہو تاکہ خدا اور آئمہ ہم سب سے راضی ہو اور دنیا اور آخرت میں کامیاب اور کامران زندگی گزارسکیں. غم حسین علیہ السلام میں اپنے ہی سینے پہ ہاتھ مارنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر عزادار ظلم کے خلاف قیام کی ابتداء اپنی ہی ذات سے شروع کریں ورنہ ہم بھی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے اور حق راستے کی پہچان بھی ہم سے بعید ہوگا کیونکہ ایک تو نفس کی پلیدی ہمیں اس بات سے غافل کریگی کہ کون حق پر ہے کون ناحق دوسری بات دنیاوی لالچ ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ظاہری مفاد کو چھوڑ کر باطنی فائدہ حاصل کرسکے یوں ہم تذبذب کا شکار رہیں گے اور آخر نتیجہ یہی ہوگا کہ خسرالدنیا والآخرۃ، جس طرح ڈاکٹر شریعتی کہتے ہیں۔ ''واقعہ کربلا میں ہم تین طرح کی شخصیات سے روبرو ہوتے ہیں.'' پہلا حسین ع ہے جو آخر تک جبر کے آگے نہیں جھکتے. اپنی اولاد کے ساتھ قتل ہو جاتے ہیں،اپنے انتخاب کی قیمت چکاتے ہیں اور اپنی مرضی کے برخلاف سرِ تسلیم خم نہیں ہوتے.آپ آبرو کی حفاظت کی خاطر آب سے بھی دستبردار ہو جاتے ہیں۔ دوسرا یزید ہے جو سب کو اپنا تابع فرمان دیکھنے کا خواہاں ہے. وہ کسی مخالف کو برداشت نہیں کر سکتا اور اپنی بات پر اڑا رہتا ہے وہ اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے نواسہِ رسول کا سرکاٹ لیتا ہے اور اپنی عزت داؤ پر لگا دیتا ہے اور تیسرا عمر بن سعد ہے، جو بروایت، 8 محرم تک تردد میں مبتلا رہتا ہے.وہ خدا، خرما، دنیا اور آخرت سبھی کو حاصل کرنا چاہتا ہے. وہ حسین اور یزید دونوں کو راضی کرنا چاہتا ہے. وہ حکومت بھی چاہتا ہے اور عوامی احترام بھی وہ نہ اقتدار چھوڑنا چاہتا ہے نہ نیک نامی. وہ آب کا بھی طالب ہے اور آبرو کا بھی لیکن آخر کار عمر سعد وہ واحد شخص ہے جو اپنے کسی مقصد تک رسائی حاصل نہیں کرسکا. وہ نہ اقتدار حاصل کر سکا نہ ہی نیکنامی.''ہم جیسے عام لوگ درحقیقت نہ حسینی کردار ادا کرنے کی جرات و عزم کے حامل ہیں نہ یزید جیسے اقتدار اور وسائل کے لیکن ہم سب کے اندر ایک عمر بن سعد ہے اس لیے میں سب سے زیادہ اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں عمر بن سعد نہ بن جاوں'' خدا ہم سب کو فریب کاری اور اپنے نفس کی دھوکہ بازی سے محفوظ رکھیں اور عملی میدان میں دنیاوی تمام وابستگیوں سے ہٹ کر ایک حسینی بن کر رہنے اور جینے کے ساتھ روح عزاداری کو حقیقی معنوں میں عملی جامہ پہنانے کی توفیق عطافرمائیں، تاکہ محرم میں ہماری ہرعمل، ہرآہ، ہرآنسو، ہرنوحہ، ہرمرثیہ، ہرماتم، ہرگریہ، ہرانفاق اور ہرسانس بہترین عبادت میں شمار ہوسکے۔ آمین ثمہ آمین۔





Comments