ماسک اور "سیاستِ ماسکی"
- S M Mosavi
- Apr 17, 2020
- 4 min read

تحریر: شریف ولی کھرمنگی
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے ایشو کی وجہ سے "ماسک" نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے۔ ماسک کی اسی مقبولیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم "صحیح ماسک کے استعمال، ماسک کے صحیح استعمال، اور صحیح کام کیلئے ماسک کے استعمال" کی طرف مختلف حوالوں سے سوچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کرونا وایریس سے بچنے کیلئے ماسک استعمال کرنے کا فایدہ اصل معنوں میں تبھی ممکن ہے جب اسکا استعمال اصولوں کے مطابق ہو۔ اول تو طبی نقطہ نظر سے عرض ہے کہ ماسک وہی استعمال ہو جو میڈیکل ماہرین کی تجاویز کے مطابق ہو۔ یعنی معروف سرجیکل ماسک اور میڈیکل شعبوں میں استعمال کئے جانیوالے دیگر اقسام کے ماسک، نا کہ ڈسٹ اور سردی سے بچاؤ کیلئے استعمال ہونے والے گرم ماسک۔
دوسرا یہ کہ سرجیکل ماسک کے استعمال کے اصول کیا ہیں؛ یہ جاننا بھی اہم ہے۔ اس بابت ڈاکٹرز اور ایکسپرٹس بتاتے ہیں کہ مثلا جب گھر سے نکلتے وقت جو ماسک آپ استعمال کرنے لگے اسے واپسی پر اتار کر تلف کردے۔ چونکہ مسلسل سانس لینے سے اس میں جراثیم جمع ہوجاتے ہیں، خدانخواستہ اگر کسی وایریس زدہ فرد سے قریبی تعلق بننے پر وایریس آپکی طرف منتقل ہونے کا اندیشہ ہوا تھا تو عین ممکن ہے کہ وایریس ماسک تک پہنچا ہو مگر آپکے نظام تنفس تک نہیں، آپکے مسلسل سانس لینے کے سبب پیدا ہونے والی حرارت سے وائرس مر بھی نہیں جاتا، بلکہ ماسک سے لگا رہ جاتا ہے، سو اس ماسک کو تلف کرنا لازمی ہے۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہی ماسک ہے جو دن بھر پہن کر ادھر ادھر گھومنے کے بعد گھر پہنچ جائے تو اتار کر محفوظ کرلیتے ہیں، اور اگلی بار، بلکہ بار بار ،مطمئن ہوکر اسی استعمال شدہ ماسک کو دوبارہ استعمال کرلیتے ہیں۔
ماسک کے استعمال کے حوالے سے ایک اور بات قابل غور ہے کہ ہمارے علاقے میں کچھ طبقوں کی طرفسے ماسک کو بطور "سیاسی ٹول" کے استعمال کرنے کا مقابلہ شروع ہوچکا ہے۔ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی میں "فی ماسک ایک سیلفی" کا دور دورہ ہے۔ بازاروں اور دور دراز علاقوں میں سرجیکل ماسک کے ساتھ کپڑے کے بنے سادہ ڈسٹ (گرد و غبار) روکنے والے ماسک تقسیم کیے جانے کی تصویریں ہر جگہ گردش کررہی ہیں، ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر واہ واہ اور شاباشی کے لمبے لمبے سلسلے چل رہے ہیں۔ ضروری اور غیر ضروری ماسک کو سماجی خدمت کی اعلیٰ مثال بنا کر پیش کرنے والوں میں عام افراد ہی نہیں بلکہ بہت اچھے بھلے سمجھدار لوگ بھی شامل ہیں۔ عین ممکن ہے اگلے چند مہینوں میں جب الیکشن قریب تر ہوگا تب تقسیم شدہ ماسک کی تعداد کا مقابلہ بھی سوشل میڈیا پر دیکھنے کو مل جائے۔ اس طرح سمجھنے پر مجبور ہوں کہ ماسک کے صحیح مقصد کیلیے استعمال کا یہ ایک فایدہ مند طریقہ کار ہے جس سے طبی لحاظ سے فایدہ ہو نا ہو، " فی ماسک ایک سلفی" والے سیاست دانوں کو سیاسی فوائد یقینا حاصل ہوسکتے ہیں۔
ماسک کی کوالٹی اور استعمال کے حوالے سے البتہ چند دیگر حقایق بھی دلچسپی کی خاطر ضبط تحریر میں لانا مناسب رہیگا۔ اول، سرجیکل ماسک کے استعمال اور بار بار استعمال کی بابت ہم اس مجبوری کو سمجھ سکتے ہیں کہ چونکہ مارکیٹ سے عام افراد کیلیے بار بار سرجیکل ماسک خریدنا ممکن نہیں، اور جن کیلیے خریدنا ممکن ہے ان کیلئے بھی مارکیٹ میں دستیاب ہی نہیں۔ لہذا اپنی ذاتی استعمال میں رہنے والے سرجیکل یا ضروری ماسک کو دوبارہ استعمال کرنا زیادہ معیوب عمل نہیں لگتا۔
دوسرا معاملہ ڈسٹ ماسک یا عام الفاظ میں کپڑے کے سلے دیسی ماسک کا ہے۔ اس قسم کے ماسک بھی دوسرے معیاری، سرجیکل اور ڈاکٹرز کی طرف سے تجویز کردہ ضروری ماسک کی عدم دستیابی کی صورت میں "دل کے بہلانے کیلئے مجبورا پہننا پڑتا ہے"۔ ایک جواز یہ بھی ہے کہ اگر آپ گھر سے باہر کسی ضروری کام سے جارہا ہو اور منہ کسی چیز سے ڈھانپا ہوا نہ ہو تو ایسے میں سیکیورٹی اسٹاف کے ہتھے بھی چڑھ سکتا ہے، اسلئے حفظ ماتقدم کے طور پر بھی اسکا پہننا لازمی ہے۔ وگرنہ میڈیکل ایکسپرٹ کہتے ہیں کہ کپڑے کے ماسک سے جراثیم یا وائرس کا پانچ فیصد بھی نظام تنفس تک پہنچنے سے نہیں رکتا۔
اسی کپڑے کے ماسک کے حوالے سے ایک اور زاویہ فکر بھی ہے۔ وہ یہ کہ امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک کو بھی وائرس کیوجہ سے دیگر میڈیکل ٹولز، وایریس سے جاں بحق ہونیوالوں کیلئے قبروں کی جگہ، اور میڈیکل اسٹاف کی عدم دستیابی کے ساتھ ساتھ ضرورت کے مطابق ماسک کی قلت کا بھی سامنا ہے۔ امریکا تو لبرل دنیا کی اصطلاح میں سوپر پاور ہے، اسلئے اس نے دیگر بعض ممالک کو بطور امداد بھیجے جانیوالے ماسک اور دیگر طبی آلات کو لوٹ لیا، مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایسی بدمعاشی اور غیر قانونی حرکتوں کے باوجود بھی یہ اپنی ضرورت پوری نہیں کرسکا۔ لہذا صدر ٹرمپ کو کہنا پڑا کہ جن لوگوں کو ماسک میسر نہیں وہ اسکارف استعمال کرکے یا کچھ اور طریقے سے اپنے منہ ڈھانپ لیا کرے۔ چونکہ امریکی صدر اور امریکہ کے اندر رائج کام بہت سے "ماڈرن اور تعلیم یافتہ افراد" کیلئے مثالی ہوا کرتا ہے، اسلئے کپڑے کے ماسک، اسکارف، مفلر سمیت کسی بھی کپڑے سے منہ ڈھانپ کر کرونا وائرس کو ڈرانے کی کوشش کرنے پر تنقید کا تُک نہیں بنتا، چہ جائیکہ میڈیکل سائنس کے ماہرین جتنی بھی دلیلیں پیش کرتے رہے۔ سو ہم بغیر کسی لیت و لعل کے ایسے تمام افراد، تنظیموں، اداروں اور رہنماؤں کو داد دیتے ہیں جو اس کرونا وائریس کے زمانے میں سیلفیوں سمیت یا بغیر سلفیوں کے ماسک تقسیم کرنے کی سماجی خدمت بجا لا رہے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ گزارش کرتے ہیں کہ ایک ایک مرتبہ انتخابی حلقے کے افراد میں دس پندرہ روپے والے ماسک نہیں بلکہ ضرورت مند خاندانوں کی دیگر ضروریات کیلئے بھی اقدامات اٹھانے کیلئے کوششیں کی جائے۔ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، کیا ہی بات ہوگی اگر کوئی محنت کش مزدور ، نادار، بے سہارا، اور ضرورت مند فیملی کے افراد پیٹ بھر کر کھانا کھا کر سوجایا کرے، انکی افطاری کے دستر خوان پر آپکی پہنچائی گئی اشیا ہوں، جنہیں پاکر یقینا انکے منہ سے آپکے لئے دعائیں ضرور نکلا کرے گی۔
✍️۔۔۔۔شریف ولی کھرمنگی۔



Comments