📵قوم پرستی کا جسم فروشی سے تعلق؟
- S M Mosavi
- Apr 13, 2020
- 4 min read

✏تحریر:- امید سحر
قومی حقوق کے لئے اٹھنے والی ہر آواز چاہئے جتنی ضعیف و نحیف ہی کیوں نہ ہو قابل تحسین ہے اسی لئے ہم نہ صرف ان کی حمایت کرتے ہیں بلکہ جب بھی گلگت بلتستان کے حقوق پہ حرف آیا پوری طاقت و قوت کے ساتھ صف اوّل میں کھڑے ہوگئے۔
گندم سبسڈی کا مسئلہ ہو یا اینٹی ٹکسٹ مومنٹ، آئینی حقوق کا مسئلہ ہو یا پھر خالصہ سرکار کا مسئلہ قومی حقوق کی ہر جنگ میں گلگت بلتستان کے علماء اور مذہبی تنظیموں نے صف اوّل میں کھڑے ہوکر بے مثال اور کلیدی کردار ادا کیا
یہی قوم پرست تنظیموں کا بھی اصل ایجنڈا اور درد ہے جس پر علاقے کے علماء کرام اور یہاں کے سو فیصد مذہبی عوام مرہم رکھ رہا ہے پھر بھی قوم پرست تنظیموں کی علماء اور مذہب سے انارکی اور نفرت کیوں بڑھتی چلی جارہی ہے؟
اگر قومی حقوق، قوم پرست تنظیموں کا اصل درد ہے تو پھر علماء اور عوام تو ان سے دو قدم آگے ہیں لہٰذا یہاں سے مجھے لگا اصل وجہ قوم پرست تنظیمیں نہیں بلکہ ان میں چھپے ہوئے ان مغرب پرست کالی بھیڑیں ہیں جو بلتی تہذیب و ثقافت سے زیادہ مغرب کی فحاشیت پر مبنی سکیولر اور لبرلر ثقافت کا دلدادہ اور علاقے میں اس کی پرچار چاہتے ہیں۔ یہی لوگ نفرت کی خلیج کو بڑھانے کا اصل زمہ دار ہے۔
ایسا کیوں؟ اور کس لئے ہیں؟ ان کی ڈوری کہاں سے ہلائی جاتی ہے؟ طریقہ وارداد کیا ہے؟
ابھی موضوع بحث نہیں نہ اس مختصر کالم میں اس چیز کی گنجائش ہے۔
یہاں میں صرف اس چیز کا سراغ لگانا چاہوں گا کہ علماء، مذہب اور یہاں کی موجودہ تہذیب و ثقافت سے دشمنی کن کو اور کیوں ہے؟ کیا قوم پرستی تنظیمیں بالاتفاق مذہب علماء اور یہاں کی اسلامی تہذیب و ثقافت کے خلاف ہے؟ یا پھر قوم پرست بنے کے لئے مذہب کی مخالفت ضروری ہے؟ کیا دنیا کے مختلف خطوں میں اٹھنے والی قوم پرست تحریکوں نے اپنے علاقے کے عوام اور ان کے مذہب کو لعن طعن اور گالی گلوچ دیکر انقلاب بپا کیا؟
تاریخ کی ورق گردانی اور بہت زیادہ عرق ریزی کے بعد مجھ پہ یہ ثابت ہوا کہ دنیا کے معروف قوم پرست کبھی بھی مذہب مخالف یا پھر اپنی قوم اور قومی تہذیب و ثقافت کا دشمن نہیں رہا جی بی کے گنے چنے قوم پرست نما افراد ایک عجیب اور نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنے ہی قومی اقدار و روایات سے نالاں ہے دو چار کتابیں اور انگریزوں کی کچھ اصطلاحات کو رٹا لگا کر اپنے آپ کو وقت کے سقراط سمجھ کر آئے روز اسلام کی آفاقی اصولوں کا مزاق اڑا تے ہیں۔
واضح رہے میں افراد کہ رہاہوں قوم پرست تنظیمیں نہیں کیونکہ جب میں نے قوم پرست تنظیموں کی مدر آرگنائزیشن بی ایس ایف، اس کے بانیاں، پرانے کارکنان اور بہت سارے موجودہ ورکرز کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ مرحوم حیدر شاہ سے آج کے حقیقی قوم پرست کارکنان تک سب مذہبی، سب قومی درد سے لبریز، خوش مزاج، خوش اخلاق، شائسہ کردار، شائستہ زبان کے مالک ہستیاں ہے خدا اس تنظیم کے تمام زمہ داران کو سلامت رکھے۔
لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نئی نسل یعنی کالی بھیڑیں جو بدکلام، بدزبان، مذہب مخالف، علماء مخالف، موجودہ اسلامی تہذیب و ثقافت سے نالاں تنظیمی لوگ جو فحاشی کے اڈے کھولنے اور پھر ان کو قانونی تحفظ دینے کی بات کرتا ہے کس نسل سے تعلق رکھتے ہیں؟
بات بالکل واضح ہے قوم پرست نہیں بلکہ مغرب کی لبرل، سکیولر اور فاشسٹ نسل کا پیداوار ہے مغربی تہذیب و ثقافت میں شرم، حیا، عفت اور پاکدامنی کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے، لبرلزم یعنی پدر مادر آزادی کی جنونیت جس نے خاندانی نظام کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے باب کا لحاظ ہے نہ ماں کا احترام ان کی آزاد طلبی اور فحاشی کے اڈوں کی وجہ سے باپ بیٹے کو اور بیٹا باپ کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے جس معاشرے میں باپ کے زریعے پہچان اب مشکل ہوچکا ہے اسی مغرب کے پروردہ افراد بلتستان کی بہترین مذہبی معاشرے میں فحاشی کے اڈے کھولنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
تو بلاشبہ ہم اپنے عزیز اور مہذب قوم پرست تنظیموں سے یہ مطالبہ کرنے میں حق بہ جانب ہے کہ وہ اپنا پوزیشن واضح کریں کیونکہ غیر محسوس انداز میں مغرب کے پروردہ نسل آپ کے صفوں میں سرایت کرگیا ہے۔ انہی کالی بھیڑوں کی وجہ سے اب بی ایس ایف سے عوام کا اعتماد اٹھتا جارہا ہے۔
اگر قوم کی بقا چاہتے ہو تو قومی تہذیب و ثقافت کی دفاع کرو، تنظیم کی آئین اور بزرگان کی روش سے منسلک رہو۔ بلتستان کے علماء کرام اور یہاں کے سو فیصد مذہبی عوام قوم پرست تنظیموں کا مخالف نہیں ان کالی بھیڑیوں کا مخالف ہے جو مختلف قوم پرست پلیٹ فارمز کو مغرب کی پدر مادر آزاد ثقافت اور فحش روایات کی پرچار کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اگر ان کالی بھیڑیوں اور ناسوروں کو اپنے صفوں سے نکال پھینکے تو انشاء اللہ بلتستان کے علماء کرام اور مذہبی عوام آپ کے دست و بازو بن کر تنظیمی اہداف کی حصول کے لئے شانہ بہ شانہ کردار ادا کرینگے۔
والسلام



Comments