top of page

قوم پرست راہنما سید حیدر شاہ اور ان کے نام پر سیاست

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Apr 21, 2020
  • 5 min read

تحریر: شریف ولی کھرمنگی

نشر مکرّر

معروف قوم پرست رہنما سید حیدر شاہ رضوی مرحوم کی برسی پرگزشتہ دنوں روایتی طور پر بلتستان میں جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ ہر گزرنے والی معروف شخصیات کی مانند حیدر شاہ رضوی کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔ جسکا وہ بلاشبہہ حقدار بھی ہے۔ زندہ قوموں کی نشانی ہے کہ وہ قوم اور معاشرے کیلئے بے لوث خدمات سر انجام دینے والوں کو اسی طرح سے یاد کیا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں چند پوسٹیں سوشل میڈیا پر گھوم رہی ہیں جن پر لوگ روایتی انداز میں بے شک بے شک اور ماشاللہ کے کمنٹ کئے جا رہے ہیں۔ بعض نے حیدرشاہ مرحوم کی زندگی میں ساتھ نہ دینے کا نکتہ بھی خوب اٹھایا اور انکے نام سے سیاست پر سوال بھی۔ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ حیدرشاہ کی زندگی میں خود ان لوگوں نے بھی اس طرح سے ساتھ نہیں دیا جو انہیں بعد از مرگ ہیرو قرار دیتے ہیں۔ اسکی ایک مثال تو انکی اپنی قوم پرست جماعت کی ہے جو اب بھی حیدرشاہ کو یاد کرکے انکے نام پر تقریب کرنے ضرورت محسوس نہیں کرتی چہ جائیکہ وہ انکی زندگی میں کسی کردار پر ساتھ دیتی رہی ہو۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حیدر شاہ رضوی موجودہ بی این ایف کے چیئرمین عبدالحمید خان کو آئیڈولائز کرتے تھے۔ وہ انکو قائد مانتے تھے۔ نہیں معلوم انکا قائد پس پردہ اپنے نائب صدر کا گلگت بلتستان میں انکی تحریکوں اور وفات تک کس قدر ساتھ دیتے رہے۔ البتہ سامنے کی بات تو یہی ہے کہ انکے قائد انکی تحریکوں کے دوران، بیماری پھر وفات اوراب تک یورپ میں سیاسی پناہ لئے ہوئے ہیں۔

حیدرشاہ مرحوم سے طلبہ تنظیموں کے پلیٹ فارم سے کئی بار ملاقاتیں ہوئیں۔ ان سے انکے نظریات پر بات ہوئی۔ کوئی شک نہیں آپ گلگت بلتستان کی وحدت کے قائل تھے۔ علاقے کی آئینی حقوق کیلئے ہر حد تک جانے کیلئے آمادہ تھے۔ فیملی اور مالی مشکلات کے باوجود قید و بند کی صعوبتیں جھیلنا اس بات کی گواہی دیتی ہے۔ وہ چاہتے تو اپنی تحریک کے قائد کی مانند بیرون ملک سیاسی پناہ بھی لے سکتے تھے۔ آپ ایران کے حوزہ علمیہ میں علوم حاصل کرتے رہے، چاہتے تو دوسرے علماء کی مانند ایک عالمانہ زندگی بھی سکون سے گزار سکتے تھے۔ حیدر شاہ کسی بڑے شہر میں مقیم ہوکر بھی اپنی سیاسی تحریک کو جاری رکھ سکتے تھے اور جیسے آجکل کے قوم پرست اور علاقائی سیاست کے متحرک افراد کرتے ہیں حیدر شاہ مرحوم بھی کسی سیاسی جماعت میں شامل ہو جاتے یا سولو قوم پرست سیاسی تحریک بھی کھیل سکتے تھے۔ مگر گمان ہوتا ہے کہ شاید انہیں اپنی زندگی کی بیوفائی کا ادراک ہوچکا تھا۔ وہ بیباک شخصیت کے مالک تھے اور آخری سانسیں لینے تک انکی بیباکی اور ثابت قدمی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ یہ سن 2011-12 کی بات ہے۔ کراچی میں مقیم بلتستان کی ایک طلبہ تنظیم کے پلیٹ فارم سے منعقدہ تقریب حلف برداری میں دیگر علاقائی سیاسی اور طلبہ تنظیموں کے نمائندوں کیساتھ حیدرشاہ رضوی کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ مجھے اسٹیج، سکریٹری کے فرائض سونپا گیا تھا۔ جب حیدرشاہ رضوی کو خطاب کیلئے دعوت دی گئی تو آپ اسٹیج پر آنے کی بجائے اپنی نشست سے اٹھے اور وہیں سے بولے کہ میں نے پچھلی مرتبہ اسی سٹیج سے جو گذارشات پیش کی تھی انہی پر عمل کریں۔ ہر سال دوبارہ تقریریں کرنے کا کوئی فایدہ نہیں کیونکہ آپ لوگ بہتر جانتے ہیں کہ جب تک عمل درآمد نہ ہو حیدرشاہ وہی باتیں دہراتا ہے جو پہلے کی گئی ہو۔ محفل میں مدعو علما اور دیگر افراد کے اصرار کے باوجود وہ تقریر کیلئے آمادہ نہیں ہوئے۔ جب تقریب ختم ہوگئی اور ان سے بات چیت ہوئی تو بھی یہی شکایت کرتے نظر آئے کہ ہماری طلبہ تنظیمیں اور سیاسی و علاقائی تحریکیں روایتی تقاریب کی حد تک تقاریر کروا کر کچھ حاصل نہیں کرسکتی۔

ظاہر ہوا کہ حیدر شاہ عملیت پسند انسان تھے۔ وہ شہرت کا احتیاج ہی نہیں رکھتے۔ وہ عملی سیاست میں آئے تو بھی یہی کہتے رہے کہ میں الیکشن میں لوگوں کو کچھ کھلاپلا نہیں سکتا۔ میں ٹھیکیداروں کو نہیں پال سکتا اسلیے کوئی ٹھیکیدار میرے اوپر خرچہ کیوں کریگا۔ وہ بار بار کہتے کہ میں لوگوں کو نوکریاں دینے کیلئے سیاست نہیں کرتا، چند لاکھ کے منصوبے لانے کو میں سیاست نہیں سمجھتا، اسلئے عوام کی اکثریت نوکریوں اور منصوبوں کے جھوٹے وعدے کرنیوالوں کو ہی ووٹ دینگے۔ اور ہوا بھی ایسے ہی۔ حیدرشاہ نے عملی سیاست میں حصہ لیا مگر کسی نے انکا ساتھ نہیں دیا۔ انکی ضمانت ضبط ہوگئی۔ لوگ اسے پاگل سمجھتے اور وہ خود بھی کہتے تھے کہ عوام حق اور سچ کی بات کرنیوالوں کو پاگل سمجھتی ہے۔ جتنا یہ حقیر سمجھ سکا حیدرشاہ کا لہجہ تلخ اور حتمی ہوتا۔ لوگ اسی لئے انکے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے۔ مگر انہوں نے بداخلاقی اور بدکلامی سے کافی حد تک پرہیز کیا۔ جو کہ انکے نام پر قوم پرستی کرنیوالوں کا خاصہ نظر آتا ہے۔ بعض متدین اور با کردار افراد کے علاوہ حیدرشاہ کے نام پر سرچڑھ کربولنے والے گالم گلوچ اور بداخلاقی کا ہر حد پارکرنے کو قوم پرستی سمجھتے ہیں۔ جوکہ سیاسی بلوغت سے بے بہرہ ہونے کی بہترین علامت سمجھی جاسکتی ہےمگر شاید جلد شہرت حاصل کرنے کا یہ نسخہ کارگر ہو۔

لوگ حیدرشاہ کو جانتے ہیں تو ایک بے باک نڈر اور باکردار قوم پرست کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ وہی جنکو اپنی ہی جماعت اور خود انکے اردگرد گھومنے والوں سے بھی اپنے ساتھ دینے کی خاص ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ بلکہ اکثر معاملات میں وہ ان قوم پرستوں سے بیزار نظر آئے جو انکو واہ واہ کرتے ہوئے بعض علاقائی معاملات میں انکے اردگرد منڈلاتے پھرتے تھے۔ انکی زندگی میں ہی ہم سب نے دیکھا کہ بہت سارے قوم پرست کہلانیوالے حیدرشاہ کے ساتھ قوم پرست رہنے کی بجائے وفاقی جماعتوں سے ٹکٹیں لیکر ان کے کارکن بن گئے۔ وہی جماعتیں جن کو حیدرشاہ رضوی علاقے کے سیاسی اور آئینی حقوق سے محرومی کا ذمہدار سمجھتے تھے۔ جب بلتستان کے کئی چیدہ چیدہ مسائل پر انہوں نے تحریکیں چلائی تب سب جانتے ہیں سوائے چند علمائے کرام اور مخلص لوگوں کے اکثر عوام نے انکو اکیلے چھوڑ دیا۔ ضلع کھرمنگ اور شگر کے قیام کی بات چلی تو انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی۔ تب حیدرشاہ کیلئے کھڑے ہونیوالی ایک ہی شخصیت ، آغا علی رضوی کی تھی۔ جنہوں نے حکمرانوں کو خبردار کردیا کہ اگر حیدرشاہ کی جانب کسی نے ہاتھ بڑھایا تو میں اسکے ہاتھ کاٹ دونگا۔ اور یوں مقامی حکومت اور انتظامیہ میں پھر کبھی حیدرشاہ کی گرفتاری کی ہمت نہیں ہوئی۔ حیدرشاہ بیمار ہوگئے تو بھی انکے قائد وطن نہیں لوٹے شاید مالی معاونت کی ہو، مگر انکی سیاسی جماعت سے زیادہ چند مقامی سماجی افراد اور آغا علی رضوی اور ان کے رفقاء نے ساتھ دیئے۔ انکے لئے چندے جمع کئے۔ مگر شاید اس بیباک شخصیت کی زندگی کے دن گنے جاچکے تھے۔ خدا حیدر شاہ رضوی کو غریق رحمت کرے۔ آمین۔

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page