top of page

قرنطینہ میں موجود زائرین کی حالات زار، دل تھام کے پڑھ لیجئےگا

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Mar 31, 2020
  • 3 min read

صد افسوس

تحریر: انجنیئر شبیرحسین

یہ الفاظ لکھتے ہوۓ میری آنکھوں میں آنسو ہے اور ہاتھ کانپ رہے ہیں ۔سوشل میڈیا پر امدادی کاروائیوں کی تصویروں کا ایک طوفان ہے۔ کریڈٹ لینے میں بازی لیجانے کی دوڑ میں سب تصویر اٹھاۓ فیس بک پر حاضری دے رہے ہیں ۔ لیکن جن کو ہماری مدد کی سب سے زیادہ ضرورت یے اس طرف کسی کی توجہ نہیں ۔

دل تھام پر پڑھ لیجئیے۔ سکردو کے ایک قرنطینہ مرکز میں ایک کرونا پازیٹو عورت کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔ بچے کے ناف پر انفیکشن ہوا ہے اس پر لگانے کی دوائی نہیں ہے۔

کئی ایک مریض بھوکے رہتے ہیں کیونکہ ان کو حکومت کی طرف سے دیا جانیوالا کھانا پسند نہیں ایک 77 سالہ کرونا پازیٹو بزرگ نے کہا کہ انہوں نے تین دنوں سے کچھ نہیں کھایا ۔ کیونکہ ان کے دانت نہیں ہیں اور جو کھانا دیاجا رہا وہ ان سے کھایا نہیں جاتا۔ یہ پوچھنے پر کہ انہیں کیا پسند ہے انہوں نے کسی خوش ذائقہ کھانے کی فرمائش کی بجاۓ کسی نرم غذا کی فرمائش کی۔ قرنطینہ میں کئی ایک بلڈ پریشر اور شوگر جیسی بیماریوں کے مریض موجود ہیں جو حکومت کی طرف سے دیا جانیوالا کھانا نہیں کھا سکتے اور بھوکے پیٹ سوجاتے ہیں۔ انہیں دوائیاں چاہیں جو میسر نہیں ہیں۔قرنطینہ میں بہت سارے زائرین کو حکومت کی طرفسے ملنے والا کھانا پسند نہیں ہے اور بھوکے رہتے ہیں۔ ہم وینٹی لیٹرز کیلئے لڑ رہے ہیں ۔ سیاست بھی کر رہے ہیں ۔ چھتوں پر چڑھ کر اذان بھی دے رہے ہیں۔ نہیں کررہے ہیں تو وہ کام ہے جو ہمیں کرنا چاہیئے۔ اس وقت قرنطینہ کے مہمانوں کو ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ اسوقت ان کو دوائیوں ,کھا نے اور مطلوبہ سہولیات کی ضرورت ہے۔ اسوقت ان کو ہمت دینے اورانکا مورال بلند کرنے کی ضرورت ہے ۔اس وقت ان کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ ہم ان کے ساتھ ہیں ۔ اسوقت ہمیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ ہمارے باپ ,بھائی ,بہن اور ماں کی جگہ پر ہیں ۔ کسی بیماری سے لڑنے کیلئے قوت مدافعت کا مظبوط ہونا ضروری ہے۔ حوصلہ ہارنے سے قوت مدافعت کمزور ہو جاتی ہے اور بیماری سےلڑنےکا عزم بھی کمزور پڑتا ہے۔ لہذا آگے بڑھیئے اور قرنطینہ میں موجود ہماری بہنوں ,ماؤں اور بھائیوں کی مدد کریں ۔ ان کا حوصلہ بڑھائیں ان کی ضروریات پوری کریں۔ انہیں احساس دلائیں کہ ہم انہیں بھولے نہیں ہیں۔

خدا را آگے آئیں اور اپنے اندر کی انسانیت کو جگائیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجاۓ۔ مجھے معلوم ہوا کچھ ڈاکٹرصاحبان ان مہمانوں کیلئے فریش فروٹس لےکرجارہے ہیں ۔ اس نومولودبچے کے ناف پہ لگانے کی دوا بھی ایک ڈاکٹر نے خرید کے دیا۔ خدا ان کی توفیقات خیر میں اضافہ کرے۔

ہم کیا کررہے ہیں؟

کچھ دن پہلے ہم نے امامیہ ,اہلسنت ,اہل حدیث , نوربخشی اور اسماعیلی مساجد ,قتل گاہ کمیٹی ,معرفی فاونڈیشن اور محمدیہ ٹرسٹ سے درخواست کی کہ وہ آگے آئیں اوراس مشکل وقت میں اس قوم کا ساتھ دیں مگر ایک معرفی کے سوا کوئی ہماری مدد کو نہ آیا۔مساجد نے اذان پر گزارہ کرنے کی ٹھان لی۔

میں اب ان سب سے مایوس ہو کر عام عوام اور مخیر حضرات سے اپیل کرتا ہوں آگے آئیں اور قرنطینہ میں موجود ہمارے امام کے زائرین کی مدد کریں انہیں کھانا پہنچائیں انہیں دوائیاں پہنچائیں ان کا حوصلہ بڑھائیں اور انہیں احساس دلائیں کہ ہم مشکل کی اس گھڑی میں ان انکے ساتھ کھڑے ہیں۔ یقین کرو اللہ آپ سے ان لوگوں کی نسبت زیادہ خوش ہوگا جو قرنطینہ کے زائیرین کا پیٹ بھی اذان سے بھرنا چاہتے ہیں۔

مجھے امید ہے آپ آگے آئیں گے اور زائرین آئمہ کا اس اس مشکل گھڑی میں ساتھ دیں گے۔

میں قرنطینہ میں موجود زائرین کے رشتہ داروں سے معذرت خواہ ہوں کہ شاید کچھ ایسی باتیں لکھ دیں جو ان کو اپنے رشتہ دار زائرین کے حوالے سے پریشان کر سکتی ہیں لیکن جب میں نے ایک چشم دید گواہ سے یہ سب باتیں سنی تو اپنے آپکو لکھنے سے نہ روک پایا ۔مقصد آپ کو پریشان کرنا نہیں بلکہ ذمہ دارلوگوں کو آگاہ کرنا ہے۔

احباب کو اگر میری تحریر مناسب لگی تو اپنا فرض نبھاتے ہوئے اسے اپنے وال پر پیسٹ کرلیں تاکہ صاحب توفیق لوگوں تک میری اور آپکی آواز پہنچ سکے اور قرنطینہ میں موجود زائرین کی مشکلات حل ہو سکیں۔


Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page