top of page

عراق و بلتستان کا تقابلی جاٸزہ

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Apr 18, 2020
  • 7 min read

تحریر : محمد بشیر دولتی

جیسا کہ عنوان سے واضح ہے کہ تحریر کا موضوع عراق و بلتستان کی حالات کا تقابلی جاٸزہ ہے. جب بھی ہم دو چیزوں میں مقایسہ کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ پہلے وجہ شبہ کو بیان کیا جاۓ۔ لہذا ان دو منطقوں میں کٸی چیزیں مشترک ہیں۔

1. دونوں خطہ کی زیادہ تر آبادی شیعہ مسلک پہ مشتمل ہیں۔

2. عراق گزشتہ سولہ سالوں سے امریکہ کی زیر تسلط ہے تو بلتستان میں بھی امریکہ گزشتہ بیس سالوں سے یو ایس ایڈ سمیت دیگر مغربی این جی اوز کی شکل میں مصروف عمل ہے۔

3. دونوں خطے میں استعمار ایک ہی طریقہ سے مصروف عمل ہے۔

اب ہم آپ کو بتاٸیں گے کہ امریکہ نے عراق میں کیا کیا اور بلتستان میں کیا کرنا چاہتا ہے۔

استعمار جہاں بھی جاتا ہے تعمیر و آزادی کے پرفریب نعروں کے زریعے وہاں اپنا پنجہ گھاڑ لیتا ہے۔ جو کچھ وہ جنگ اور طاقت سے نہیں لے سکتے اسے پھر پرفریب نعروں اور مکارانہ چالبازوں سے ہتھیانے کی سعی کرتا ہے۔ صدام کو مسلط کرنے کے بعد بھی اس کے ذریعے جو نہیں لے سکا انہیں لینے کے لیے اپنی تمام تر قوت کے ساتھ قابض ہوا۔ پھر جو قوت و طاقت وجبر سے نہ لے سکا اسے داعش کے زریعے لینے کی بھر پور کوشش کی۔ جو داعش کے زریعے سے بھی نہ لے سکا اسے یو یس ایڈ کے پرفریب و دلنشین نعروں سے لینے کی سرتوڑ کوشش کی۔

جس کے لیے نٸے آلہ کار اور جوانوں کا خوب استعمال کیا گیا۔ داعش کے زریعے نہ فقط مقدس مقامات کو مٹانا چاہ رہا تھا بلکہ ملت تشیع کے عقاٸد کو بھی مسخ کرنا چاہ رہا تھا۔ اس میں ناکامی پر تشیع اور ایران کے خلاف عراق میں خود شیعوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور ایک دوسرے کے مقابلے میں لاکر کھڑا کرنے کی بھر پور کوشش کیں۔ اس کی بہترین مثال آلہ کار محمود الحسن الصرخی ہے۔

اب پہلے میں آپ کو یہ بتاونگا کہ یہ الصرخی کون تھا کیسے یہ منظر عام پہ آیا اور ایک خاص ٹولہ میں معروف ہوا اور اس نے استعمار کی کیا خدمت کی۔

"فارس نیوز" کی رپورٹ کے مطابق یہ ایک خود ساختہ مجتہد ہے۔ خود کو شہید باقرالصدر اور سید محمد صادق صدر کے شاگرد کے طور پہ متعارف کرایا مگر آیت اللہ کاظم حاٸری سمیت کسی نے بھی اس کے مجتہد ہونے کی تصدیق نہیں کی۔

نوّے کے عشرے میں گھر پر ڈش لگانے کے معمولی جرم میں جیل چلا گیا۔ جہاں بعثیوں نے جیل ہی میں ان پر خوب کام کیا۔ ان کے لیے مذہبی کورسز کا بھی اہتمام کیا۔ یہاں تک کہ جادو ٹونے کی تعلیم کے لیے پاکستان بھی بھیجا۔ پاکستان سے واپسی پر شیخ محمود التمیمی کے نام سے سفید عمامہ کے ساتھ منظر عام پہ آگیا۔

کچھ عرصہ بعد سیاہ عمامہ کے ساتھ سید محمود الصرخی کے نام سے سرگرم ہوگٸے۔ پھر خراسانی کے نام سے امام زمانہ ع سے ملاقات کا دعوای کیا۔

اطلاعات کے مطابق محمود صرخی سعودی اینٹلی جینس کے تعاون سے تشیع اور مرجعیت کی شبیہ بگاڑنے کے لیے مصروف عمل ہوگٸے۔

صدام کی پھانسی سے قبل یہ بندہ مخفی رہا۔ 2003 میں صدام حکومت کی سرنگونی سے پہلے اچانک نمودار ہوگیا۔ پھر داعش کی سرگرمیوں کے وقت کربلا وغیرہ میں ظاہر ہوگٸے۔ تب تک یہ امریکہ و عالم استعمار کی ہر ممکن تعاون کے لیے کمر بستہ ایک قوم پرست بن چکا تھا۔ اسکا اندازہ آپ اس بات پہ لگا سکتے ہیں کہ اس نے داعش کے خلاف آیت اللہ سیستانی جیسے بزرگ شخصیت کے فتوے کو مسترد کیا۔

نہ فقط یہ بلکہ اس بندے نے 2013 میں دعوای کیا کہ امام زمانہ ع نے ان کو حکم دیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نوری المالکی اور صدر گروپ کے رہنما سید مقتدای صدر کے سروں کو قلم کردیں۔ چونکہ یہ دونوں شخصیات شیعیان عراق کی قوت و پہچان بن گٸی تھیں۔

پھر اس بندے نے مارچ 2015 میں سعودی اتحاد کی جانب سے یمن پر جارحیت کی کھل کر مکمل حمایت کی۔ پھر اسے ایک قوم پرست رہنما کے طور پر متعارف کیا۔

دوسری طرف امریکہ نے یو ایس ایڈ سمیت مختلف این جی اوز کے زریعے عراقی جوانوں پہ کام کرنا شروع کیا جس میں انہیں تشیع کے عقاٸد اور مذہبی شخصیات کے خلاف آمادہ کیا گیا اور ان کے اندر مذہبی عقاٸد و کردار کی جگہ قوم پرستی کے عنصر کو پروان چڑھایا گیا۔ اور چھوٹے چھوٹے گروہوں کی شکل میں امریکہ کے پرتعیش دورے کراۓ گٸے۔ اور خوب پیسہ خرچ کیا۔ پھر ان افراد کو محمود الصرخی کے گرد جمع کیا گیا۔ جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ نوجوانوں کا یہ ٹولہ سوشل میڈیا پہ دینی عقاید اور مذہبی شخصیات کی مسلسل توہین اور مزاق اڑانے کے ساتھ قوم پرست ہونے کا دعوای کرنے لگے۔ یوں انہی کے زریعے 2006 میں بصرہ میں ایرانی قونصلیٹ پر حملہ کروایا۔

"الخلیج الیوم" کی رپورٹ کے مطابق ایرانی قونصلیٹ پہ حملہ کرنے والوں کی تعداد تین سو کے قریب تھی۔ انہیں پھر کربلا کے نواح میں واقع طویریج سے کربلا منتقل کیا گیا۔ انہی شرپسندوں اور تربیت یافتہ لوگوں کے زریعے رہبر معظم، ایران، حشد الشعبی، حزب اللہ، آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی سمیت دیگر مراجعین عراق اور حوزہ کے خلاف سوشل میڈیا پہ طوفان بد تمیزی، گالم گلوچ کے علاوہ ان سے احتجاجات و مظاہرے توڑ پھوڑ کراۓ گٸے۔ یہاں تک کہ کربلاۓ معلّٰی میں نواسہ رسول امام حسین ع کے زاٸرین کی خدمت کے لیے نصب مختلف انجمنوں کے موکب، حشد الشعبی کے املاک اور سرکاری املاک وغیرہ نذر آتش کروایا بلکہ امام زمانہ کے ناٸب کے مزار سمیت دیگر کٸی مقدس مقامات پہ پتھراٶ اور جلاو گھیراٶ کرایا گیا۔ جب کہ ان میں کوٸی داعشی نہ تھا یہ سب شیعہ تھے جنہیں امریکہ۔ سعودیہ اور انکے این جی اوز نے تربیت اور فنڈنگ کے بعد اہداف دے کر اپنی نگرانی و سرپرستی میں چھوڑ دیے تھے۔ ایران میں بھی اسی طرح کی حالات پیدا کر نے کی ناکام کوشش کیں۔ جلاٶ گھیراو کرایا۔ اپنی جلاو گھیراو کے یہ لوگ خود وڈیو بنا کر پھیلاتے تھے۔ ان کی گرفتاریوں کے بعد پتہ چلا کہ یہ انہیں بیرون ملک عیاشیوں اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لیے ثبوت کے طور پہ جمع کرنا تھا۔لیکن الحمد للہ عوام کی بیداری، دینی اقدار کی معرفت، مذہبی شخصیات سے لگاٶ اور شھدا ٕ کے مقدس خون کے صدقے میں استعمار اور انکے آلہ کار عراق و ایران میں نہ فقط ناکام ہوگٸے بلکہ زلیل و رسوا بھی ہو گٸے۔

اب ہم آتے ہیں ارض بلتستان کی طرف جہاں گزشتہ بیس سالوں سے یو ایس ایڈ کی سرپرستی میں پینتیس کے قریب اور مجموعی طور پہ تین سو کے قریب این جی اوز کام کر رہی ہیں۔

یہ این جی اوز کن نعروں کے ساتھ کس طرح سے کیا مثبت و منفی کام کررہی ہیں یہ ایک الگ اور طولانی بحث ہے۔

البتہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پہ جو چیزیں کھل کر سامنے آگٸی ہیں ان میں چند چیزیں قابل غور ہیں۔

1. زاٸرین کے خلاف شیعہ ہونے کے باوجود بعض برادران کی طرف سے شعوری یا غیر شعوری طور پہ توہین آمیز پوسٹیں۔

2. لاہور میں ایک دینی درسگاہ کے خلاف دو نٸے طالب علموں کے بھاگنے کے واقعہ کی وڈیو پہ بلتستان کے چند لوگوں کی طرف سے دینی مرکز اور اس کے بانی عظیم دینی شخصیت کے خلاف حیرت انگیز و ناقابل یقین توہین آمیز جذبات کا اظہار

3. چند لوگوں کی طرف سے سوشل میڈیا پہ بہ بانک دھل دینی عقاٸد و احکامات کے خلاف توہین آمیز پوسٹیں اور کمینٹس۔

4. علاقاٸی تمدن و ثقافت کے خلاف مختلف پوسٹوں کا تسلسل۔

5. ایران و امریکہ حالیہ تنازعات و کرونا واٸرس سے متعلق مسلسل واٸس آف امریکہ بی بی سی اور سی این این کے موقف کی حمایت اور اصل حقاٸق سے چشم پوشی

6. کلی طور پہ مذہب اور مذہبی شخصیات کے خلاف سوشل میڈیا مہم میں تیزی۔۔۔

یہ سب ہمیں بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کررہی ہیں۔

خدانخواستہ کہیں عراق سازی کی کوشش تو نہیں ہورہی ہے؟

کہیں اس دین دار خطہ میں دین دار طبقہ کے مقابل ایک طبقہ کو پروان تو نہیں چڑھایا جارہا؟تاکہ دینی اقدار کے ساتھ ساتھ یہاں کی امن و سکون کو بھی برباد کردیا جاۓ۔؟

میں کسی بھی طبقہ پر کوٸی الزام نہیں لگا رہا مگر حالات و واقعات بتا رہی ہیں کہ حالیہ الیکشن سے پہلے پہلے امن و آشتی پیار و محبت اور دین و شریعت کے پاسدار اس منطقہ کو کہیں برباد کرنے کا کوٸی منصوبہ تو نہیں؟

اگر ایسا ہے تو صرف قوم پرستی یا لبرل کے نام پہ ہی نہیں بلکہ مذہب یا قوم پرستی کسی بھی نام پہ کسی بھی "الصرخی" کو سوشل میڈیا کے زریعے میدان میں اتارا جاسکتا ہے۔

یا ممکن ہے کہ مذہب کے نام پہ مذہبی لوگوں میں اختلاف پیدا کریں۔ مذہبی شخصیات کو ہی ایک دوسرے کے خلاف لاکر کھڑی کریں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ قوم پرستی کے نام پہ قوم کی مسلسل توہین کا سلسلہ جاری رہیں، دینی عقاٸد و مسلمات دین کے خلاف اپنے ہی ہم مسلک لوگوں کو مذہبی شخصیات اور دینی مراکز کے خلاف لاکر کھڑا کردیں۔

قوم پرستی اگر اخلاص، اخلاق و دینی اصولوں کے مطابق ہوتو قابل ستاٸش ہے ۔دنیا میں ایسے قوم پرست رہنماٶں اور افراد کی کوٸی کمی نہیں۔ البتہ قوم پرست رہنما بننا اتنا آسان نہیں۔ پہلے قومی حقوق کے لیے جہد مسلسل کے زریعے عوامی پزیراٸی ملتی ہے پھر قید و بند کی صعوبتوں، مدلل اور مہذب گفتگو سے شخصیت نکھرتی اور قدکاٹ بناتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں الٹا نظام چل رہا ہے۔ چند اخباری بیان اور سوشل میڈیا پہ پاک فوج اور ملک پاکستان کے خلاف بات کر کے جیل جاتے ہیں اور باہر آتے ہیں تو وکٹری کا نشان بنا کر عظیم رہنما بن چکا ہوتا ہے یا سوشل میڈیا پہ انتہاٸی نامناسب و غیر منطقی لب و لہجہ سے بھر پور روش اختیار کرکے اپنے ہی قوم کی توہین کیا جاتا ہے۔ بد قسمتی سے شہید حیدر شاہ کے بعد یہی صورت حال چل رہی ہے جس پہ ہم افسوس ہی کر سکتے ہیں۔

خدا میرے اس سرزمین کو اس دو دھاری تلوار سے بچاٸے رکھے۔ شعوری یا بے شعوری میں، خود نماٸی یا ذاتی فواٸد، شہرت یا دولت کے لیے اپنے ضمیر، عقاٸد اور علاقاٸی تمدن و اقدار کا سودا کرنے والوں سے خدا اس قوم کو ہمیشہ محفوظ رکھے۔ چاہے وہ الیکشن کے دوران نمودار ہونے والے مذہبی ٹھیکداران ہو یا دیگر سیاست دان یا سوشل میڈا پہ ابھرتے ڈوبتے قوم پرست ہو۔

خدا ہمارے جوانوں کو شعور و بیداری، صبر و تحمل، فراغ دلی اور فہم و فراست کے ساتھ بغیر کسی افراط و تفریط کے اپنے دینی اخلاقی اور قومی ذمہ داریوں کو احسن و خوبی ادا کرنے کی توفیق عطا فرماٸیں اور اس خطہ کو ہمیشہ امن و شرافت و دیانت داری، شاٸستگی، اخوت و بھاٸی چارگی اور اخلاقیات کا نمونہ بناۓ رکھے۔۔۔

آمین ثمہ آمین

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page