top of page

شظرتھنگ مسائل کے دلدل میں

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Apr 1, 2020
  • 4 min read

تحریر: ایس ایم موسوی

روزنامہ سلام، بیدار، ترجمان، پناہ، نیوز مارٹ 21 مئی 2019


قارین محترم!

جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک کالم کے ذریعے یہاں کی پسماندگی کو کسی حد تک ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی جس سے آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ یہاں کے عوام اکیسویں صدی میں بھی کس قدر کرب کی زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔چونکہ پہلے کالم فقد تعلیمی مسائل پر مشتمل تھا جس پر وہاں کے جوانوں نے خوب حوصلہ افزائی کے بعد دیگر مسائل کی طرف بھی اشارہ کیا تو سوچا ذرا دیگر مسائل پر بھی ایک نگاہ کروں اس لیے آج ایک اور کالم کی توسط سے آپ لوگوں سے مخاطب ہونے جارہاہوں۔پہلے بھی عرض کرچکا کہ تعلیم و صحت اس وقت انسانی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔البتہ تعلیمی مسائل پہ پہلے بات ہوچکی لہذااسی پر اکتفاء کررہا ہوں فقد اتنا کہوں گا کے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق روڈ کی بندش سے اب تک تعلیمی ادارے بند ہیں جوکہ محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔سڑک کی بات کریں توسکردو شہر سے 52کیلو میٹر کا فاصلہ تقریبا 5 گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ نہایت ہی دشوار گزار اور پتھریلی سڑک پر سفر کرنے کے بعد تو اچھا خاصا صحت مند انسان بھی بے حال ہوجاتا ہے۔ اس سال ریکارڈ برفباری کی وجہ سے چھے ماہ سے روڈبند ہے اور عوام پیدل سفر کر نے پر مجبور ہیں۔جبکہ کئی مقامات پر برفبانی تودے کی وجہ سے یہاں کے لوگ گھروں میں ہی محسور ہوگئے ہیں، تا ہم روڈ کھولنے کے حوالے سے کسی گورنمنٹ ادارے یا کسی ذمہ دار افراد کا کوئی کردار نہیں جبکہ اس علاقے کے لوگوں کی اثر و رسوخ نہ ہونے اور پسماندگی اور غربت کی وجہ سے کہیں ان کی شنوائی بھی نہیں ہورہی۔ جس کے باعث یہاں کی موجودہ آبادی سے تقریبا دو گنا زیادہ گھرانے مشکلات کی وجہ سے نقل مکانی کرکے سکردو شہر کے مختلف مقامات پر بس گئے ہیں۔ علاقے کا کوئی پرسان حال نہیں۔اب اگر ہم یہاں صحت کے مسائل کو دیکھاجائے توصحت کے شعبے میں مسائل کا یہ حال ہے کہ اس پورے خطے میں ایک کمرہ اور ایک سٹور پر مشتمل ڈسپنسری ہے لیکن اکثر و بیشتر ادویات ناپید ہوجاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے نہ جانے اب تک کتنے افراد ابتدائی طبی سہولیات فراہم نہ ہونے کی وجہ سے اپنی جان کھو بیٹھے ہیں۔یہاں اب بھی زچگی جیسے مسائل اور دیگر بیماری کی صورت میں مریض کو چارپائی کے ذریعے کئی گھنٹے دشوار راستوں سے کندھوں پہ اٹھائے میلوں سفر طے کرنا پڑتا ہے۔حالیہ سردیوں میں تین چار مریضوں کو چارپائی پر بیٹھا کر سکردو لایا گیا۔ جن میں دو ڈیلیوری کیسز تھے انہیں سکردو لاتے ہوئے ایک خاتون نے بھیج راستے ہی بچے کو جنم دیا جوکہ سخت سردی کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے، اسی طرح ایک اور مریضہ کو سکردو پہنچا نے میں تو کامیاب ہو گئے مگر تاحال مریضہ کا علاج معالجہ جاری ہے۔اور اگر بات بجلی کی کرے تو یہاں 2013 کی آواخر میں مقامی ایک این جی او کی جانب سے بجلی گھر بنانے کے لیے محکمہ برقیات سے معاہدہ طے پایا تھا جسے معاہدے کے مطابق این جی او نے تمام کام مکمل کرلیے لیکن متعلقہ محکمہ کی جانب سے عدم توجہی کے باعث یہ بھی اب کھنڈر بن چکا ہے،کئی کھمبے گرچکے،بجلی تاریں اوردیگر مشینری زنگ آلود ہوچکی ہے اور عوام لالٹین اور پرانے زمانے کے چراغ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔تمام ضروری اشیاء کی موجودگی کے باؤجود متعلقہ محکمے کی عدم توجہ سے بجلی گھر نہ بننا سوالیہ نشان ہے جسے نہ کبھی کسی عوامی نمائندے نے پوچھا ہے اور نہ ہی کسی اور ذمہ دار نے آخریہاں کی عوام کو کب تک اندھیرے میں رہنا ہوگا یہ بھی معلوم نہیں۔اس کے علاوہ کئی سالوں سے سننے میں آرہا ہے کہ شغرتھنگ پروجیکیٹ کے نام سے 26 میگاوٹ کی بجلی گھر بنایا جارہا ہے جس کے لیے ابتدائی طورپہ کاروائی بھی مکمل کرنے کے بعد نامعلوم وجوہات کی بناہر یہ معاملہ ابھی تک اٹکا ہوا ہے۔یہ بجلی گھر جوکہ کئی پاور ہاوسزپر مشتمل ہوگاتعمیرہونے کہ صورت میں پورے گلگت بلتستان کے لیے یہاں سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔جبکہ ہر سال کی بجٹ میں اعلانات بھی ہوتے ہیں اس کے باؤجود ابھی تک اس پروجیکٹ پہ کام نہیں ہوا۔سردیوں میں یہاں پینے کے لیے صاف پانی کا حصول اس قدر مشکل ہوجاتا ہے کہ خواتین کو کئی میلوں دشوار راستوں پر برف پہ پاؤں پھسلتے ہوئے ایک دوسرے کے سہارے دریا کنارے جانا پڑتا ہے جبکہ گرمیوں میں پانی کا بھاؤ اس قدر زیادہ کہ ہر سال کئی رقبے آبادی زمینیں دریا کے ظالم موجوں کی نذر ہوجاتی ہے لیکن ضلعی انتظامیہ اور دیگر ذمہ دارانوں کو ٹس مس نہیں،ستم بالائے ستم یہ کہ اگر کسی قسم کی امدادی کاروائی کی جائے تو وہ بھی حقداروں کے بجائے منظور نظر افراد میں تقسیم ہوجاتی ہے۔لہذایہاں کے باشعور نوجوان کسی بھی ترقیاتی کاموں میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے کے لیے آمادہ ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ ذرا توجہ دیں اور سنجیدگی سے یہاں کے مسائل کی حل کے لیے سوچیں۔ٖٖٖ

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page