شجید وحدت حاجی قاسم سلیمانی
- S M Mosavi
- Apr 1, 2020
- 5 min read
تحریر: ایس ایم موسوی
روزنامہ ترجمان، سلام، بیدار، 17 فروری 2020
آج القدس فورس کمانڈر حاجی قاسم سلیمانی کے چہلم کے موقع پر ان کی حالات زندگی کا مطالعہ کرنے پرمعلوم ہوا ان کے لیے شہید وحدت کہلانا زیادہ مناسب ہوگاکیونکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی امت مسلمہ کی اتحاد اتفاق کے خاطر صرف کردی ہے اور اسی جرم میں انہیں مظلومانہ انداز میں شھید کردیا گیاہے۔ مگر آپ شھادت کے درجے پر پہنچنے کے بعد بھی دنیا بھر کے مسلمانوں میں اتحاد کی فضا قائم کرگئے ہیں۔ اور آپ کی بیٹی زینب سلیمانی نے بھی کہا کہ میرے باپ کے خون کا بہترین بدلہ یہ ہے کہ تمام امت مسلمہ متحد ہوجائیں کیونکہ میرے بابا ہمیشہ اسی فکر میں ہوتے تھے کہ کس طرح امت مسلمہ کو ایک پیچ پر جمع کروں اور مسلمانوں کو آل یہود کی سازشوں سے بچاوں؟آج ہم دیکھتے ہیں جس ملک کے ساتھ آٹھ سالوں تک خونی جنگ رہا ہو اس کے ساتھ اتحادقائم ہوئی ہے تو یہ آپ کی کاوشوں کا نتیجہ ہے، شھید قاسم سلیمانی اپنے عراقی دوست ابو مہدی مہندس کے ساتھ زندگی بھر قدم سے قدم ملاکر چلتے رہے اور شھادت کے وقت بھی دونوں ہاتھوں میں ہاتھ دئے ساتھ چلے گئے۔آج ان دوستی پر آج دنیا رشک کررہی ہے۔ آپ کی شھادت سے کچھ روز قبل عراق میں بیرونی طاقت کے بل بوتے پر پلنے والوں کی جانب سے ایران کے خلاف مظاہرے کیے گئے اور ایرانی سفارتخانے کو آگ لگایا گیا۔ مگر اس کے مقابلے میں آپ نے دوسرے دن ایرانی طلباکے ذریعے عراقی سفارتخانے کے سامنے پھول رکھواکر محبت اور بھائی چارہ گی کا پیغام دیتے ہوئے اس سازش کو ناکام بنادیا۔ دنیا کے جس کونے میں بھی مسلمانوں پر برے وقت آئے آپ ان کی دفاع کے خاطرصف اول میں نظر آتے تھے خصوصا مسلم ممالک کے آپس میں پائے جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرکے انہیں قریب لانے میں آپ کا مثالی کردار رہا ہے۔ شھادت سے چند روز یہ بھی طے پایا تھا کہ ایران و سعودی عرب کے آپس میں تعلقات بڑھانے کے لیے آپ سعودیہ عرب کا دورہ کریں گے لیکن جیسے ہی یہ معاملہ طے پایا امریکہ نے آپ پر حملہ کرکے اس کوشش کو ناکام بنادیا کیونکہ امریکہ کبھی نہیں چاہتا کہ مسلم ممالک آپس میں متحد ہوجائیں۔لیکن نادانوں کو کیا معلوم تھا کہ ان کی شھادت بھی مسلم ممالک کے درمیان اتحاد واتفاق کا باعث بنے گی۔ آپ کی شھادت کے بعد پاکستان میں بھی اتحاد امت فورم وجود میں آیا جس میں تمام مذہبی پارٹیوں کے راہنمااکھٹے ہوئے اور انہوں نے ایک ساتھ ایران کا دورہ بھی کیا۔پاکستان کے بارے میں آپ کا موقف واضح تھا آپ نے کہا تھاکہ اگر کوئی پاکستان پر حملہ آور ہو تو ہم اپنی خون کے آخری قطرے تک پاکستان کی دفاع کریں گے۔ ہمیں آج بھی یہ معلوم ہی نہیں کہ جنرل قاسم سلیمانی کس شخصیت کا نام ہے؟ ہمار ے میڈیا کا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا وہ امریکہ و یورپ کے میڈیا کی ہی کاپی کرتا ہے، ہمیں بار بار یہی بتایا جا رہا ہے کہ وہ ایک ایرانی جنرل تھے۔یہ آدھی سچائی ہے، ہمیں ہمیشہ آدھی سچائی ہی بتائی جاتی ہے۔مکمل سچائی یہ ہے کہ وہ صرف ایرانی جنرل اور ایک فوجی شخصیت ہی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں گریٹر اسرائیل کے راستے میں کھڑی ایک مضبوط دیوار بھی تھے، القدس فورس کے کمانڈر حاجی قاسم سلیمانی کو شھید قدس بھی کہا جاتا ہے قدس نہ ایرانیوں کی ہے نہ فلسطینیوں کی بلکہ قدس تو تمام مسلمانوں کے قبلہ اول ہے اور وہ اسیقبلہ اول کی آزادی کے لیے کوشاں تھے لہذا وہ شھید اسلام ہے۔انہوں نے اپنی بصیرت کے ساتھ اسرائیل پر تباہی کا خوف سوار کر کے صرف ایران کا نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا دفاع کیا۔ امریکہ اور مغرب جو مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ تبدیل کرنا چاہتے تھے، قاسم سلیمانی نے اس نقشے کو خلیج فارس میں بھگو کر ہمیشہ کے لیے مٹا دیا، اگر امریکہ و یورپ کے منصوبے کے تحت مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ تبدیل ہوجاتا تو ساری اسلامی ریاستوں کے ٹکڑے ہوجاتے، قاسم سلیمانی نے اس نقشے کو ناکام کر کے ساری اسلامی ریاستوں کی حفاظت کی ہے، اسی طرح ہر باشعور انسان یہ جانتا ہے کہ داعش کو فقط شام اور عراق ک لیے نہیں بنایا گیا تھا بلکہ سارے جہانِ اسلام کے لیے بنایا گیا تھا، قاسم سلیمانی نے داعش کا خاتمہ کر کے پورے عالم اسلام کو تحفظ بخشا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ اس نظریے کو غلط ثابت کردیا ہے کہ امریکہ و یورپ کے خلاف صرف شیعہ ہلال سرگرم ہے، بلکہ قاسم سلیمانی نے عراق، شام اور فلسطین جیسی غیر شیعہ ریاستوں کا دفاع کر کے اور حشد الشعبی کو فعال کر کے شیعہ ہلال کے ساتھ سُنی ہلال کو بھی ملایا اور اب یہ ہلال ماہَ کامل بن چکا ہے۔ اب امریکہ و یورپ کی استعماری کارروائیوں کے خلاف صرف شیعہ ہلال نہیں بلکہ دشمن کے مقابلے میں شیعہ و سُنی بدر یعنی ماہ کامل ہے۔ قاسم سلیمانی نے اپنی جدوجہد سے حالات تبدیل کر دیئے ہیں، اب سوچیں بدل چکی ہیں، اب ہر عقلمند خواہ وہ شیعہ ہو یا سنی وہ یہ سمجھنے لگا ہے کہ امریکہ و یورپ کو کسی شیعہ یا سنی سے محبت ہے اور نہ نفرت بلکہ ان کا اصل ہدف مسلمانوں کو پارہ پارہ کرنا ہے۔جس کے لیے وہ بڑی ہوشیاری سے کسی کے ساتھ دوستی کسی کے ساتھ دشمنی نبھاکر مسلمانوں کو آپس میں دست گریبان رکھنا چاہتے ہیں۔قاسم سلیمانی نے اپنی چالیس سالی مقاومتی زندگی میں اہل سنت کو یہ شعور دیا ہے کہ ہم کوئی الگ الگ ہلال نہیں بلکہ ہم امت واحدہ اور ماہ کامل ہیں۔ ہم دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردوں کو ہم پر مسلط کیا جاتا ہے۔بی بی سی فارسی کی ایک دستاویزی فلم کے لیے ایک انٹرویو میں عراق میں سابق امریکی سفیر رائن کروکر نے بھی کہا تھا کہ جنرل سلیمانی کا بغداد مذاکرات میں اہم کردار تھا۔رائن کروکر کے مطابق انھوں نے جنرل سلیمانی کے اثرو رسوخ افغانستان میں بھی محسوس کیا تھا جب وہ بطور امریکی سفیر افغانستان میں تعینات تھے۔ان کا مزید کہنا تھا جس جگہ ہم پالیسی بناتے تھے وہاں قاسم سلیمانی ہمارے لیے بڑی رکاوٹ بنتے تھے۔بس اسی نتیجے میں انہیں شہید کردیا گیا ہے۔مگر آپ کی شھادت کے بعد بھی امریکہ و اسرائیل کو چین حاصل نہیں ہوئی بلکہ اور آپ کی شھادت نے ان کواس قدر خوفزدہ کردیا ہے کہ اب سوشل میڈیا پر آپ کی کوئی تصویر شیر نہیں کرنے دیتا اسی سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ امریکہ کے لیے سردار قاسم سلیمانی سے زیادہ شھید قاسم سلیمانی خطرناک ثابت ہوا ہے۔ وہ قاسم سلیمانی جسے پہلے کوئی جانتا تک نہیں تھا اب دنیا بھر کے شعراء کی اشعار، خطباء کی تقاریر، مصوروں کی تصاویر، علماء کی کتابیں، تجزیہ نگاروں کے تجزیے، کالم نگاروں کے کالمیں، مصنفین کے مقالے ا ور تحریروں کا موضع بن گیا ہے۔ اب قاسم سلیمانی کے بارے میں منبروں سے خطبے جاری ہوتے ہیں، محرابوں سے تکبیروں کی صدا آتی ہیں، میڈیا پر اشاعتیں ہوتی ہیں، اسمبلیوں میں قراردادیں پاس ہوتی ہے، مائیں تربیت کرتیں ہیں، اساتیذ تہذیب نفس اور مجاہدین استقامت کا درس دیتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو عالم اسلام کی یہ بیداری، شیعہ سنی کی وحدت، اپنے ملک کے دفاع کیلئے دہشت گردوں کے خلاف متحد ہوجانا، دہشت گردی کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم، امریکہ و استعمار کا نوکر بننے کو توہین سمجھنا، المختصر ہوشیاری اور بصیرت کے ساتھ قومی وقار اسلام وحدت اور باہمی بھائی چارے کو فروغ دینے کا نام قاسم سلیمانی ہے۔





Comments