top of page

سکردو حلقہ دو کی سیاسی لیڈر شپ اور عوام

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Apr 1, 2020
  • 6 min read

تحریر؛ ایس ایم موسوی

7 جولائی 2018

روزنامہ سلام، بیدار

جب سے ہوش سنبھالا شیخ نثار اور آغا عباس کو اقتدار میں دیکھا البتہ شیخ نثار کی نسبت آغا عباس صاحب کو کسی حد تک عوام دوست پایا شیخ نثار صاحب کو زیادہ تر گروہی کام کرتے ہوئے دیکھا جب کہ آغا عباس صاحب کو عوامی کاموں میں دلچسپی رکھتے ہوئے دیکھا، ماضی میں ان کے صف میں ایک نیا امیدوار بھی میدان میں کودپڑے جو کہ شیخ نثار اور سابقہ وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کی ملی بگت سے ناکام رہا کیونکہ سید محمدعلی شاہ ابھی اس میدان کے نیا سپاہی تھے ان کو پیپلز پارٹی کا ٹکٹ مل جاتی تو اسی دن سے شیخ نثار صاحب کی سیاست دفن ہونا تھا اس لئے انہوں نے پہلے ہی مہدی شاہ سے ڈیلنگ کرکے اپنی سیاست کو بچالیا، اسی طرح آغا عباس صاحب کے پاس تو اپنی پارٹی صدارت پہلے سے ہی موجود تھی. دوسرے نمائدہ گان کی نسبت آغا محمد علی شاہ کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور ان سے قریبی تعلقات بھی تھے ان کی اپنی ایک شخصیت ہے لیکن انہوں نے جو پارٹی انتخاب کیا ہے وہ ہمارے ہاں قابل قبول نہیں اس لئے ان کو کہیں کامیابی نہیں مل رہی اس حوالے سے ان کو بھی بروقت مشورہ دینے کی کوشش کی تھی لیکن اس وقت وفاق میں نون لیگ کی حکومت تھی اس لئے انہوں نے حکومت کی لالچ میں ہماری باتیں ان سنی کردی، آغا صاحب کوئی اور پارٹی جوائن کرے تو کامیابی کی امید کی جاسکتی ہے 2009 میں جب پیپلز پارٹی کا دور تھا تو انہوں نے پیپلز پارٹی کی ٹکٹ کےلئے کوششیں کی لیکن وہ حاصل نہ کر سکا تو جذبات میں آکر آزاد الیکشن لڑا چونکہ اس وقت آغا صاحب کی کوئی خاص شناخت نہیں تھی اس بنا پر انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی، اسی طرح 2015 کے الیکشن میں انہوں نے نون لیگ کے ٹکٹ سے الیکشن لڑا اس میں بھی کامیاب نہ ہوسکا ناکامی کی ایک وجہ تو ان کی پارٹی تھی جیسے میں نے پہلے عرض کیا دوسری وجہ یہ ہے کہ اسی دوران ان کے مقابل میں ایک نیاچہرہ سامنے آگیا جو تمام سابقہ سیاسی نمائندوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکلنے کی عزم کے ساتھ میدان میں کودپڑا البتہ ان کی خوش بختی یہ تھی کہ اس وقت گلگت بلتستان خصوصا حلقہ دو میں قابل قبول شخصیت جناب آغا علی رضوی صاحب جوکہ وحدت المسلمین کا صوبائی جنرل سکیٹری بھی ہے کی حمایت حاصل ہوئی اس وجہ سے بروقت مجلس وحدت المسلمین کی ٹکٹ حاصل کرنے میں وہ کامیاب ہوا جس بنا پر بھاری اکثریت سے وہ جیت گئے البتہ یہاں یہ بات واضح کروں کی ان کی جیت وحدت کی ٹکٹ کی وجہ سے نہیں بلکہ آغا علی رضوی کی حمایت کی بناپر ہوئی ہے کیونکہ یہاں وحدت پارٹی سے زیادہ آغاعلی کی شخصیت واضح ہے اور آغا علی ایک درویش صفت انسان ہے ان کو وحدت کے ساتھ محدود کرنا ناانصافی ہوگی. اگر کاچو کو آغا علی کی حمایت نہ ہوتی اور وہ بھی آغا محمد علی شاہ کی طرح جذبات میں آزاد الیکشن لڑتے تو یقینا ان کا بھی وہی حال ہونا تھا جو اس وقت آغا محمد علی شاہ صاحب کی ہے البتہ ان کی جیت سے ہمارے دلوں میں ایک امید سی پیدا ہوگئی کہ سابقہ نمائندوں کی طرف سے اب تک جس انداز میں پورے حقلہ خصوصا ہمارے علاقہ کواردو قمراہ کو محروم رکھا گیا ہے اس دفعہ ایسا کچھ نہ ہونے والا ہے خیر وقت گزرتا گیا سب کچھ ٹھیک ہی چل رہا تھا لیکن صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی انتخاب پر کاچو امتیاز صاحب نے اچانک پارٹی پالسیز کی مخالفت کردی جس پر پارٹی اور کاچو کے درمیان تنازعہ ہوا اس تنازعے کی سزا بھی غریب عوام کو ہی بھگتنا پڑا اور امید کی چراغ آہستہ آہستہ گل ہونے لگی کاچو صاحب کہنے کو تو تعلیم یافتہ سیاسی شعور رکھنے والا ہے لیکن ان کے کارنامے اور سابقہ نمائندوں کے کارناموں میں کوئی واضح فرق نظر نہیں آرہا اگر چہ پہلے کی نسبت کچھ حد تک بہتری آئے ہیں لیکن جس انداز اور تعارف کے ساتھ انہوں نے سیاست میں انٹری ماری تھی اس کے مطابق اب تک عمل میدان بلکل خالی نظر آتے ہیں تعلیم یافتہ ہونے کی بناپر کاچو کو اب تک سب سے زیادہ تعلیمی میدان میں کام کرتے ہوئے نظر آنا چاہیے تھا لیکن ہم دیکھتے ہیں جہاں فٹ بال اور والی بال کھیلے جاتے ہوں وہاں ٹرافی دینے اور گراونڈ کا اعلان کرنے پہنچ جاتے ہیں، میں ان علاقوں کی بات نہیں کررہا جہاں کے لوگوں کو یہ شکوہ ہے کہ نمائندہ ہمارے علاقے سے نہیں تو ان کی توجہ ہماری طرف نہیں ہوتی بلکہ میں اس علاقے کی بات کررہا ہوں جہاں سے ہمارے منتخب نمائندہ کا تعلق ہے علاقہ کواردو 15 گاؤں پر مشتمل کم و بیش 800 گھرانوں اور دس ہزار سے زیادہ آبادی پر مشتمل ہے جہاں سے تین ہزار سے زائد ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں جوکہ کسی بھی نمائندے کےلئے کامیابی کی دارومدار سمجھی جاتی ہے، اس کے باؤجود یہاں داوائیوں اور ڈاکٹروں سے خالی ایک ڈسپنسری کے علاوہ کچھ نہیں اتنی بڑی آبادی پر مشتمل علاقے میں لڑکوں کے لئے برائے نام ایک ہائی اسکول جس میں ٹیچرز کی کمی اور ہزاروں قسم کے اور بھی مسائل موجود ہیں، لڑکیوں کےلئے کواردو کمیٹی کی مرہون منت سے ایک مڈل اسکول کی بلڈنگ اب زیر تعمیر ہے جوکہ سابقہ نمائندوں کی دور میں منظور شدہ اےڈےپی ہے جس پر اللہ اللہ کرکے عمل درآمد اب ہورہی ہے، لیکن بےچارے لڑکیاں اب تک کھیتوں، کھلے میدانوں اور خستہ حالی کا شکار گھروں میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھتی ہوئی اب دو کمروں پر مشتمل کسی بوائز پرائمری سکول میں قید ہے جس کے ایک کمرے میں پچاس سے زیادہ لڑکیاں تو دوسرے کمرے میں پنتیس سے زیادہ بچے ہیں، اس کی طرف کوئی توجہ نہیں، ستم بالائے ستم یہ کہ سکول انتطامیہ پر کسی قسم کی معلومات فراہم کرنے یا کسی کالم نگار یا صحافی حضرات کے پاس کوئی شکایت کرنے پر مکمل پابندی ہے، بجلی پانی اور روڈ وغیرہ کی تو میں بات ہی نہیں کررہا چونکہ ہمارا اہم بنیادی مسئلہ تعلیم ہے اگر نظام تعلیم بہتر ہوتو باقی سب خود ہی ٹھیک ہوجائےگا کاچو صاحب سے الیکشن کے دوران جب ایک دفعہ ملاقات ہوئی تو انہوں نے یہی کہا تھا کہ میرا بنیادی کام تعلیم پر ہوگا اس کے بعد باقی معاملات کو دیکھا جائے گا اس بات پر میں بھی بہت خوش ہوا تھا لیکن دیکھتے دیکھتے تین سال گزر گئے کہیں پر نہ کوئی تعلیمی نظام بہتر ہوا نہ کوئی تعلیمی مراکز قائم ہوئے اور باقی باتوں کا ذکر کرنا ہی فضول ہے چونکہ اولین کام تعلیم پر تھا اس لئے اس کا ذکر کیا باقی باتیں انشاءاللہ بعد میں. سیاسی نمائندوں کا ہمیشہ سے یہی روش ہے کہ جب عوام کےلئے کچھ نہیں کرپاتے تو ان کے آپس میں اختلافات ڈال کر عوام کو مختلف انداز میں مشغول رکھتے ہیں تاکہ متحد ہوکر ان سے کوئی بڑا مطالبہ نہ کرے یہ فقد کسی خاص نمائندہ کی بات نہیں بلکہ تمام سیاسی پارٹیوں اور نمائندوں کا یہی اہم منشور ہے کاچو صاحب نے کہنے کو تو بہت کچھ کہا تھا لیکن کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا. اس لئے اب وہ عوام کے سامنے آنے سے کتراتے ہوئے نظرآتے ہیں کیونکہ اب مزید کچھ بولنے کےلئے بھی نہیں بچا ہے، کواردو میں کئی مقامات پر بڑے بڑے اعلانات کئے تھے مگر کام صفر رہا جس کے باعث عوام کی نظروں میں اعتماد کھو چکا ہے، دس بیڈ ہسپتال، ایمرجنسی حالات سے نمٹنے کےلئے دو ایمولینس کی 24 گھنٹہ سرویس، بوائز کالج، گرلز ہائی اسکول، بجلی گھر سے لیکر روڈ اور پانی کا مسئلہ حل کرانے کے ساتھ چیف سکیٹری اور وزیر اعلیٰ کو سرزمین کواردو میں دعوت کر کے ان کے ہاتھوں حلقہ دو کو دو حصوں میں تقسیم کرانے، آستانہ سید علی طوسی تک ہائی وے طرز کا روڈ بنانے، کواردو کو پیرس بنانے اور اسی طرح کے اور بھی بہت سارے بڑےبڑے دعوے دفن ہوچکے ہیں جس سے کاچو کی سیاسی ساخت کو کافی نقصان پہنچا ہے، اس کے علاوہ پارٹی پالیسی کی مخالفت سے دیگر تنظیمیں بھی اس سے بد ظن اور عدم اعتماد کا شکار ہیں. مجلس وحدت کی پارٹی سے بغاوت کرنے کے بعد شائد تحریک انصاف میں شمولیت کا ارادہ رکھتے تھے لیکن ٹھیک اسی دوران عمران خان نے بھی اپنی پارٹی پالیسی کی مخالفت پر بیس اراکین اسمبلی کو ایک ہی وقت میں پارٹی سے بےدخل کردیا جس کے بعد کاچو صاحب کی امیدوں کی چراغ گُل ہونے لگی، لیکن ان کا فیصلہ کسی طرح بھی حکومت میں آنا ہے اس لئے آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے الیکشن لڑنے یا پھر عام محاورے کے مطابق ووٹ کے دوران خلائی مخلوق کی حمایت سے جیتنے پر امید لگائے بیٹھے ہیں، پیپلز پارٹی میں شمولیت کےلئے سید مہدی شاہ سے زیادہ قربت بڑھاتے ہوئے نظرآتے ہیں، لیکن پیپلز پارٹی کے نظریاتی کارکن نہ ہونے اور انکےنظریاتی کارکنوں سے تعلق یارابطہ نہ ھونے کی وجہ سےیہ اندازبھی حسب سابق عام نظریاتی جیالوں کےلیے قابل قبول نہیں ھوگا. اس حوالے سے نظریاتی جیالوں کا اعتراض اپنی جگہ اس کے باؤجود سید مہدی سے وفاداری کی بنا پر ٹکٹ مل بھی جائے تب بھی پیپلز پارٹی اب ایک بدنام زمانہ پارٹی بن چکی ہے اس لئے حلقہ دو میں اس کے بھی جیتنے کے امکانات بہت کم ہے. پھر نہ جانے آنے والے وقتوں میں اور کتنے نئے چہرے ہمارے سامنے آجائے، آنے والا انتخابات حلقہ دو خصوصاً کواردو کے عوام کے لئے انتہائی اہم اور حساس ہے لہذا انتہائی ہوشیاری دکھاتے ہوئے بصیرت سے کام لینے کی ضرورت ہے، ہماری دعا ہے کہ انجام بخیر ہو...


افسوس بےشمارسخن ہائےگفتنی 

خوف فساد خلق سےناگفتہ رہ گئے

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page