top of page

سکردو حلقہ 2 کی بدلتی صورت حال

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Apr 1, 2020
  • 5 min read

تحریر: ایس ایم موسوی

روزنامہ سلام، بیدار، ترجمان، نیوز مارٹ، پناہ 14 نومبر 2019


آبادی اور رقبے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو حلقہ دو بلتستان کا سب سے بڑا حلقہ ہے، ستم بالائے ستم یہ ہے کہ سکردو شہر سے نزدیک ہونے کے باوجود یہ حلقہ ہر لحاظ سے محروم اور پسماندہ ہے۔ چونکہ اتنی بڑی آبادی کے لیے ایک نمائندے کا فنڈ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں، یہاں دو حلقے ناگزیر ہوچکی ہے جس کے لیے عوامی سطح پر احتجاجی مظاہروں کے ذریعے مطالبہ کیا جارہا ہے۔ جوکہ آئندہ الیکشن کے قریب عملی طور پر انجام پانے کی امید نظر آرہی ہے۔ اگر یہ حلقہ دو حصوں میں تقسیم ہوجائے تو بلاشبہ یہاں کے نمائندوں کے لیے بھی آسانی ہوگی اور عوام کے لیے بھی۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن 2020 قریب آتے ہی سیاسی اور مذہبی راہنما دوبارہ منظر پر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ بعض امیدوار تو ابھی سے زمینہ سازی میں مصروف ہیں اور کچھ الیکشن کے وقت ووٹ چھین کر راتوں رات جیت جانے کی خوش فہمی میں لگے ہوئے ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق آئندہ الیکشن میں اس حلقے سے تقریبا دس افراد کمر بستہ ہیں۔ حلقہ تقسیم نہ ہونے کی صورت میں ان دس افراد میں سے فقد ایک نے جیتنا ہے اور اسی نے اسمبلی میں جاکر عوام کی نمائندگی کرنی ہے۔ جس کے لیے ان دس افراد کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوگا اور الیکشن میں دھاندلی کا بھی بہت زیادہ امکان نظر آرہا ہے۔ اس حلقے میں ہمیشہ مذہبی اور سیاسی پارٹیوں کے درمیان مقابلہ رہا ہے اور یہاں کی عوام نے ہمیشہ مذہبی جماعتوں کو فوقیت دی ہے۔ اس دفعہ بھی سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں سخت مقابلہ ہوگا۔ البتہ ممکن ہے سیاسی پارٹیاں آخر میں متحد ہوکر مذہبی جماعتوں سے مقابلہ کرے، لیکن مذہبی جماعتوں کے درمیان الحاق کی کوئی امید نظر نہیں آرہی جس کے نتیجے میں اس بار یہاں سیاسی پارٹیوں کو فائدہ ہونے کا قوی امکان ہے۔ مذہبی جماعتوں میں سے اسلامی تحریک کے متحرک راہنما شبیر حافظی ہے جوکہ اپنی بساط کے مطابق دن رات عوامی خدمات میں کوشاں نظر آتے ہیں۔ اور حلقے میں آغا عباس رضوی صاحب کی سابقہ خدمات کی وجہ سے بھی ان کو خوب پذیرائی مل رہی ہے۔ دوسری جانب مجلس وحدت المسلمین ہے۔ ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ طور پر کسی امیدوار کا نام سامنے نہیں آیا لیکن آغا علی رضوی صاحب کی جی بی عوام کے لیے بلاتفریق بےلوث خدمات اور قربانیوں کا سب معترف ہیں۔ ساتھ ہی عوام کا آغا صاحب کے ساتھ قلبی لگاو بھی سب کے سامنے ہے۔ جس بنا پر آغا علی کی حمایت جس کو بھی حاصل ہوگی عوام نے یقینا اسی کے ساتھ دینا ہے۔ چونکہ یہاں کے عوام پارٹی سے زیادہ شخصیت کی بناپر ووٹ دیتے آئے ہیں۔ اس وقت آغا علی صاحب نہ صرف حلقہ دو بلکہ پورے گلگت بلتستان کے عوام اور سیاسی نمائندوں کے لیے قابل قبول شخصیت ہے۔ اس لیے آغا علی صاحب کے کہنے پر سیاسی رخ کسی بھی طرف مڑ سکتی ہے۔ سیاسی پارٹیوں میں سب سے زیادہ عوامی رجحان پی ٹی آئی کی طرف ہے جس کی بنا پر پی ٹی آئی ٹکٹ کی حصول کے لیے کئی افراد پَر مارہے ہیں۔ جبکہ اسی ایک حلقے میں پی ٹی آئی کے اپنے ہی دو امیدوار مدمقابل ہیں۔ شیخ نثار سرباز صاحب کافی پرانا سیاست دان ہے جنہوان نے دو سال قبل پی پی کو خیرباد کہہ کر پی ٹی آئی میں اسی لیے شمولیت اختیار کی تھی تاکہ آئندہ الیکشن میں ان کی ٹکٹ پر جیت سکے۔ البتہ ان کے مقابلے میں ذاکر ایڈوکیٹ صاحب ہے جوکہ پی ٹی آئی حلقہ دو کے بانیان میں سے ہے۔ ان سے کبھی ملاقات کا اتفاق تو نہیں ہوا لیکن غائبانہ تعریف کے مطابق علاقائی درد رکھنے والابتایا جاتا ہے۔ اب پی ٹی آئی ٹکٹ کس کو مل سکتی ہے اس حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ مگر ہر بار ایک نئے چہرے کو آزمانہ حلقہ دو کے عوام کا مقدر بن چکا ہے۔ شیخ نثار کے بعد حلقہ دو میں پیپلز پارٹی اپنا دوسرا نمائندہ لانے میں اب تک ناکام ہے۔ البتہ ہوسکتا ہے عین وقت کوئی سامنے آئے یا پھر ممکن ہے اس دفعہ حلقہ دو میں پی پی اور نون لیگ کے درمیان اتحاد ہوجائے اور پی پی والے نون لیگ کے راہنما سید محمد علی شاہ صاحب کے حق میں اپنا ہاتھ روک لیں۔ یا پھر اس کے برعکس یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سید محمد علی شاہ صاحب خود پی پی کا نمائندہ بن کر سامنے آئے۔ ان کے علاوہ اب تک کے آزاد امیدواروں میں کاچو امتیاز اور محمد سعید بلتستانی کا نام آتا ہے۔ محمد سعید ظاہرا مجلس وحدت کا رکن ہے۔ پچھلی دفعہ پارٹی ٹکٹ کاچو امتیاز کو ملنے پر انہوں نے خاموشی اختیار کی اور پارٹی قیادت کے فیصلے کو من و عن تسلیم کرکے آزاد الیکشن لڑنے سے گریز کیا۔ مگراس دفعہ ان سے ایک ملاقات میں جو اندازہ ہوا ہے اس کے مطابق وہ ہرصورت الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی ٹکٹ ملے یا کسی اور پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا پڑے چاہے آزاد ہی کیوں نہ لڑنا پڑے وہ الیکشن لڑنے کا مظبوط ارادہ رکھتا ہے۔ لہذا مجلس وحدت کی قیادت کو چاہیے اس بار انہیں مایوس نہ کریں۔ ورنہ پیپلز پارٹی ان کے لیے دامن پھیلا سکتی ہے۔ دوسری طرف کاچو امتیاز صاحب جوکہ پچھلے الیکشن میں مجلس وحدت کی ٹکٹ پر بھاری اکثریت سے جیت گیا بعدازاں پارٹی اور ان کی باہمی اختلافات کی وجہ سے انہیں پارٹی کو خیرباد کہنا پڑا۔ اب وہ بھی کسی سیاسی پارٹی کے ٹکٹ پہ میدان میں اتریں گے، چونکہ آزاد الیکشن لڑنے کا موقع انہوں نے گنوا دئے۔ اس لیے کسی سیاسی پارٹی کا دامن تھامنا ان کی مجبوری ہے۔ ظاہرا پیپلز پارٹی سے رغبت دکھائی دیتی ہے جبکہ امید پی ٹی آئی ٹکٹ کی لگا رکھی ہے۔چار سالوں کی خاموشی اور عوام کی نظروں سے اوجھل رہنے پر خود کواردو کے عوام کافی حد تک ان سے متنفر ہوگئے تھے۔ لیکن یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ سول ڈسپنسری کواردو کی اپ گریڈیشن جیسے ڈیپارمینٹل کاموں میں صف اول میں رہ کر فائدہ اٹھانے کا موقع ملا۔ انہوں نے بھی اس موقع کو غنیمت سمجھ کر خوب استعمال کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کام میں ان کی کاوش شامل ہے مگر ان کی اے ڈی پی کا حصہ بلکل بھی نہیں بلکہ یہ محکمہ صحت کی جانب سے منظور شدہ پروجیکٹ ہے۔ البتہ حقیقت سے نابلد لوگ دھوکے میں آکر پھر سے کاچو کے گن گاتے نظر آرہے ہیں۔ کاچو امتیاز کے لیے جیتنے کا نادر موقع ہوگا اگر آئندہ انتخابات کےلیے پی ٹی آئی کی ٹکٹ حاصل کرے (جوکہ موجودہ صورت حال میں ناممکن لگ رہا ہے) دوسری طرف عوامی توجہ پانے کے لیے ہر علاقے میں اشد ضروت کو ملحوظ خاطر رکھ کر فوری طور پر کچھ پروجیکٹ پہ کام شروع کریں۔ ان دو صورتوں کے علاوہ کاچو صاحب کا الیکشن میں آنا بغیر اصلحے کے میدان جنگ میں اترنے کے مترادف ہوگا۔ چونکہ عوام کافی حد تک باشعور ہوچکی ہے اور بخوبی جانتے ہیں کہ اقتدار میں پہنچنے کے بعد کس طرح عوام کو تنھا چھوڑ کر ان سے لاتعلق رہا ہے۔ لہذا اب نہ قومی کارڈ چل سکتی ہے اور نہ ہی یوں حلقے میں ہونے والے ڈیپارمینٹل کاموں پر اپنے نام کی تختی لگانے سے کام چلے گا۔

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page