top of page

دل امید توڑا ہے کسی نے

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Apr 1, 2020
  • 4 min read

تحریر: ایس ایم موسوی

روزنامہ سلام، بیدار، ماونٹین پاس، پناہ، نیوز مارٹ، ترجمان 20 فروری 2020


کچھ دنوں پہلے کواردو کے تعلیمی مسائل پر خصوصی ایڈیشن کی اشاعت کے بعد موضع سترانگدونگما سے تعلق رکھنے والے چند احباب نے شکوہ کیا کہ آپ نے ہمارے مسائل کا تذکرہ ہی نہیں کیا۔شائد وہ لوگ حق بجانب تھے کیونکہ میں نے حتی الامکان کوشش کرنے کے باوجود بھی وہاں سے کسی قسم کی معلومات حاصل نہ ہونے پر سمجھ بیٹھا سب کچھ ٹھیک ہی ہوگا لیکن جب احباب کی شکوہ موصول ہونے لگی اور سوشل میڈیا کے ذریعے انہوں نے رابطہ کر کے اپنے مسائل سے آگاہ کرایا تو آج ان کے مسائل پر گفتگو کرنے جارہا ہوں۔ علاقہ کواردو،دو حصوں پر مشتمل ہے جسے بڑا اور چھوٹا کواردو کے نام جانا جاتا ہے۔ بڑا کواردو، بارہ گاوں پر جبکہ چھوٹا کواردو تین گاوں پر مشتمل ہے جسے موضع سترنگ دونگماکہا جاتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان ایک میدانی علاقے کا فاصلہ ہے۔البتہ جامعہ طوسی کی قیام کے بعد اس فاصلے میں کافی حد تک کمی آگئی ہے مگر پہلے سے جو بات مشھور ہو،اسے بھول جانے میں کچھ وقت لگے گا۔ موضع سترانگ دونگما 170 گھرانے اور پچیس سو سے زائد نفوس پر مشتمل آبادی ہے جوکہ ناظم آباد، مقپون آباد اور گلشن آباد کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو نام ان تینوں گاوں کانام تو الگ ہے مگر ان کا رہن سہن دکھ سکھ اور مفادات و مشکلات سمیت تمام اندرونی معاملات ایک دوسرے سے جُھڑے ہوئے ہیں۔ یہاں کے عوام کی بات کی جائے تو انتہائی مخلص ایماندار اور محنت کش ہیں۔ کواردو کے کئی نامور افراد کا تعلق بھی اس علاقے سے ہیں۔ جن میں سے ایک قابل ذکرنام موجودہ عوامی نمائندہ کاچو امتیاز حیدر خان صاحب ہے،جن سے یہاں کی عوام نے بڑی امیدیں لگا رکھی تھی جو کہ اب متزلزل ہوتے دکھائی دے رہی ہے۔البتہ یہاں کسی کی حالات زندگی بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ اس پسماندہ علاقے کے عوام کو درپیش مسائل و مشکلات اور بنیادی حقوق سے محرومی کی طرف نشاندہی کرنا اصل مقصد ہے۔ صدیوں بعد حلقہ دو کی سیاست میں جب کواردو سے ایک نمائندہ نے حصہ لیا تو پورے کواردو عوام کی خوشیاں دوبالا ہوگئی کہ اب ہمیں سابقہ حقوق بھی میسر ہونگے،لیکنپانچ سال گزرنے کے بعد بھی کسی قسم کی تبدیلی دیکھنے کو نہ ملنے پر عوام شدید مایوسی کا شکارہوگئے ہیں۔ موضع سترا لونگما دریا سندھ کے نزدیک ہونے کی بناپر ایک طرف دریائی کٹاو کا سامنا ہے تو دوسری طرف انہیں پینے کے لیے صاف پانی میسر نہیں۔ جبکہ پانی باآسانی زمین سے نکالا جا سکتا ہیمگراس کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا جارہا۔ یہاں کے عوام کو کئی سالوں سے مسلسل دریائی کٹاو کا سامنا ہیتاہم حکومت کی طرفسے ابھی تک اس مسئلے کی روک تھام کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا گیا۔ دریائی کٹاو سے تحفظ کے لیے بند کا نہ ہونا یا ٹھیکہ منظور نظر افراد میں تقسیم ہونے پر ناقص بند کی تعمیر سے ہر سال یہاں کی آبادی کو شدید نقصان پہنچنا معمول بن گیا ہے۔ گذشتہ سال جب موقع پر دیکھنے گیا تو معلوم ہوا دریا کی ظالم موجوں نے جنت جیسی علاقے کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس صورت حال سے براہ راست تینوں گاوں متاثر ہے اور یہاں کی کئی ایکڑ زمینیں دریا نے اپنے لپیٹ میں لیا ہے۔ اس پر فوری اقدام نہ کرے تو بعید نہیں آئندہ چند سالوں تک یہاں کے عوام ہجرت کرنے پر مجبور ہوں۔ البتہ ہجرت کہاں کریں گے یہ الگ بحث ہے۔ نظام تعلیم کے حوالے سے دیکھا جائے تو سکولوں میں تعلیم و تربیت کا فقداں اساتیذ کی کمی سمیت دیگر کئی اہم مسائل موجود ہیں۔ جس معاشرے میں تعلیم کی سہولیات میسر نہ ہو وہ معاشرہ کسی کھنڈراٹ سے کم نہیں ہوتا یہاں بھی حالات کچھ ایسا ہی ہے تین گاوں پر مشتمل آبادی کے لیے ایک پرائمری سکول ہے جس میں مقامی کمیونٹی کی تعاون سے مڈل تک پڑھائے جاتے ہیں جہاں سینکڑوں کی تعداد میں بچے زیر تعلیم ہیں مگر اساتذہ اور کلاس رومز کی کمی کے باعث کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور گزرتے وقت کے لحاظ سے یہاں کے عوام اسی تین کمروں پر مشتمل بوائز پرائمری سکول میں آٹھ جماعتوں کے بچوں کو پڑھانے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح لڑکیوں کی تعلیم پر بات کی جائے تو یہاں کی بچیوں کو پرائمری تک تعلیم میسر ہے البتہ حال ہی میں گرلز مڈل سکول ناظم آباد کی منظوری خوش آئند ہے لیکن وہ بھی فقد اعلانات کی حد تک نہ ہو بلکہ عملی میدان میں کام ہونا چاہیے۔ یہاں بھی اساتیذ کی کمی سمیت کئی اہم مسائل قابل توجہ ہے۔ اس حوالے سے علاقے کے جوانوں نے ان تمام تر صورت حال کا ذمہ دار عوامی نمائندہ و محکمہ ایجوکشن اور گاوں کے سرکردہ گان کو ٹھراتے ہوئے کہا ان کی سستی اور مصلحت پسندی کی وجہ سے مسائل ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی جارہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صحت کے حوالے سے یہاں کوئی ایمرجنسی سنٹر ہے نہ کوئی میڈیکل اسٹور معمولی بخار کے لیے بھی چھے سات کلو میٹر دور کواردو سول ڈسپنسری جانا پڑتا ہے جہاں دوائیوں کی بجائے صرف پرچی ملتی ہے۔ اللہ نہ کرے کوئی ایمرجنسی پیش آنے کی صورت میں موت کے سوا کوئی اور راستہ نظر نہیں آتا۔ یہاں کی سڑکیں بھی کئی مقامات پر کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہے جس کی نگہداری کے لیے ایک روڈ قلی بھی نہیں۔ جس کی باعث اسی روڈ پر کئی حادثات بھی رونما ہوچکے ہیں۔ موضع سترنگدونگما کے عوام سالوں سے ان تمام مطالبات کو لیکر ہر در پر دستک دیتے رہے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی بلکہ متعلقہ دفتروں میں اس حوالے سے کئی مرتبہ درخواستیں بھی جمع کرایا گیا اور ان کی طرفسے عوامی مطالبات ماننے اور مسائل کی حل کے لیے فوری اقدام کرنے کی یقین دہانی بھی ہوتی رہی مگر ہردفعہ نتیجہ رات گئی تو بات گئی کی صورت میں ملتا رہا جس پر یہاں کے عوام میں شدیدتشویش پائی جا رہی ہے۔ لہذا عوامی نمائندہ سمیت تمام متعلقہ ذمہ داروں کو ان مسائل اور معاملات پر فوری توجہ دینے کی ضروت ہے۔

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page