top of page

خدمت خلق اسلامی تہذیب کا چہرہ

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Apr 3, 2020
  • 5 min read

تحریر: رسول میر

بر صغیر پاک ہند میں سامراجی عمل دخل کے بعد جہاں ہماری جغرافیائی شکل صورت بدل گئی وہاں اقتصادی، تعلیمی اور ثقافتی اکائیوں کی تارو پود بکھیرنے کی منظم اور سنجیدہ کوشش کی گئی اس سلسلے کی سب سے زیادہ تباہ کن اور خوفناک کڑی خطے میں رائج اسلامی تہذیب و تمدن کی اعلٰی اقدار اور خوبصورت چہرہ کو مسخ کرنے کی گھناونی حرکت ہے۔اسلامی تہذیب کے چہرے پہ چمکتے تاروں کی مانند ضوفشاں اقدار تعاون،ایثار اور فداکاری کا جائزہ لینے سے پہلے ضروری سمجھتا ہوں کہ اس کو مسخ کرنے کے حوالے سے برصغیر میں استعماری و سامراجی تفکر کا پیشرو لارڈ میکالے کا 2 فروری 1835 کو برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب سے اقتباس پیش خدمت کروں تاکہ محترم قارئین پر موضوع کی حساسیت واضح ہوجائے۔

''I have travelied acrose the length and breadth of india and i have not seen one person who is a begger who is a thief such wealth i have seen in this country, such  high miral values, people of such caliber, that i do not think we would never conquer this country, unless we break  the very backbone of this nation which is her sipirtual and cultural haritage and there for i propose that we replace her old and ancient education system, her culture for if the Indian think that all that is foriegn and english is good and greater than their own, they will loss their selfesteem, their native culture and they will become what we want them, a truely dominated nation.

(Lord Macauly's address to the British parliament on 2nd Feb 1835)

اب آپ اندازہ لگائیں مغرب کس درد کو لیکر  بر صغیر میں داخل ہوا۔ لارڈ میکالے کو اس چیز پہ بہت افسوس ہوا کہ برصغیر کے طول و عرض میں   ایک بھی بھکاری اور چور موجود نھیں ہے۔ کہتے ہیں کہ ایسے اعلٰی روحانی اور ثقافتی اقدار کی دولت سے مالا مال خطہ ہم کبھی بھی فتح نہیں کرسکتے۔ لہذا یہ مشورہ دیا گیا کہ نظام تعلیم کی تبدیلی کے زریعے ایسی نسل کی تربیت کی جائے جو خود استقلالی  کے بجائے مغرب سے بھیک مانگنے کو ترجیح دے کیونکہ چوری, بھیکاری اور فقر و ناتوانی ہی وہ بہترین سوراغ ہے جس کے زریعے اور بہانے  سے اقوام میں بیرونی مداخلت کے لئے راہیں ہموار ہوجاتی ہیں۔لہٰذا مستضعف اقوام اور ترقی پزیر ممالک میں اس مقصد کے حصول کے لئے جہاں خون آشام جنگیں لڑی گئی وہیں ایسٹ انڈیا کمپنی جیسی اقتصادی یلغار, فری میسن جیسی خوفناک مافیا اور  لاکھوں کی تعداد میں این جی اوز کا جھال بچھا کر تعمیر و ترقی کے بہانے سے اپنی سیاسی,اقتصادی, جنگی اور ثقافتی مقاصد کے حصول کا سلسلہ تا ہنوز جاری و ساری ہے۔نتیجتاً برصغیر میں لارڈ میکالے کی پروردہ  نسل نے اسلام کی اعلٰی انسانی اقدار اور انبیاء کرام کی بہترین سیرہ عملی کو چھوڑ کر مغرب کے انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادی کے کھوکھلے نعروں کی پیروی شروع کردی اور حالت یہ ہوگئی کہ آجکل ترقی کے نام پہ انحصاریت، تعلیم کے نام پہ اغیار پرستی،جدّت پسندی کے نام پہ اخلاقی اور روحانی اقدار کی پامالی  اور  امداد کے نام پہ غریبوں کی غیرت و حمیت کا جنازہ نکالاجاتا ہے۔جب کہ حقوق بشر کا اسلامی اصول  ہمیں یہی بتاتا ہے کہ ایک ہاتھ سے امداد دے تو دوسری ہاتھ کو خبر نھیں ہونا چاہئے اسلام کی رو سے انسانی عظمت و شرافت کا تقاضا یہی تھا کہ اسلامی حکومت کا سربراہ رات کی تاریکی میں گندم کی بوری اپنی پیٹھ پہ اٹھا کر غریبوں کے در در پہ پہنچادے مولائے کائنات جناب امیر علیہ السلام کی ایک یتیم یہودی بچی کی کفالت سے یہی واضح ہوتا ہے کہ اسلام وہ کامل ضابطہ حیات ہے جس میں انسانی حقوق کی راہ میں مذھب و مسلک کی دیواریں بھی آڑے نہیں آسکتیں۔ اسلامی تہذیب میں حقوق بشر کیدرخشان اصولوں میں سے صرف تین فکری اصولوں کا ذکر کرنا چاہونگا تعاون،ایثار اور فداکاری۔تعاون سے مراد یہ ہے کہ انسان ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کریں یہ ایک دو طرفہ عمل ہے جبکہ اسلام اسے آگے بڑھ کر ایثار کا حکم دیتا ہے۔ایثار کا مطلب اپنی حقوق  پہ دوسروں کے حقوق کو ترجیح دینا ہے یعنی حقوق کے ٹکراؤ کی صورت میں اسلام دوسرے انسانوں کے خاطر اپنے حق سے کنارہ کشی کا حکم دیتا ہے اس مقام پہ آکر اہلبیت کا گھرانہ تین دن بھوکے پیاسے روزہ رکھتا ہے لیکن سوالی در سے خالی نہیں جاتے۔اسلام میں حقوق بشر کا اگلا مرحلہ ایسا ہے جہاں پہ انسانی حقوق کے سارے علمبردار انگشت بہ دندان رہ جاتے ہیں۔فداکاری یعنی بغیر کسی استحقاق و فرائض کے دوسرے انسانوں کی بقا کے لئے اپنی جان کی بازی لگانا اگر انسانیت کی بقا کے لئے کوئی اپنی جان کی بازی لگادے تو اسلام اسے شہید قرار دیتا ہے اسلام میں ایک انسان کی جان بچانا تمام انسانوں کی جان بچانے کے مترادف ہے فداکاری کی اسلامی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ زخموں سے چور پیاسے دہن جانثاروں کے پاس دم مرگ سقا پانی لیکر حاضر ہوجاتاہے پہلا دوسرے کو اور دوسرا تیسرے کو اپنی پیاس پہ فوقیت دیتا ہے یوں   سب جان کی بازی لگاکر فدا کاری کی زندہ مثال بن جاتا ہے۔انسانی حقوق کی پاسداری کے خاطر اسلام  تعاون، ایثار اور فداکاری کے اعلٰی  تصورات دینے کے ساتھ خمس,زکوات اور انفاق کی صورت میں ایک مکمل عملی نظام بھی پیش کرتا ہے اگر ہم دشمن کے ہاتھوں مسخ شدہ اسلامی تہذیب و تمدن اور مالیاتی نظام کا دبارہ احیاء کریں تو نہ صرف مسلم معاشروں سے غربت کا خاتمہ ہوجائے گا بلکہ غیر مسلم اقوام کے ساتھ تعاون کرنے کے قابل ہوجائیں گے کیونکہ مصارف زکات میں جہاں دیگر مستحق طبقوں کا حصہ ہے تو ایک حصہ غیر مسلموں کا بھی متعین ہے جو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر  مولفت القلوب  کے نام سے غیر مسلموں میں تقسیم کی جاتی ہے۔اسلام نے جب ایک دوسرے سے تعاون کا حکم دیا تو ''تعاونو بالبر والتقوی ولا تعاونو علَی الاثم والعدوان  کہ کر تمام قومی, مذہبی نسلی اور جغرافیائی  محدودیت سے ماورا ہوکر صرف خیر و شر کی بنیاد پہ تعاون کرنے کا حکم دیا۔ایثار کی باری آئی تو انصار مدینہ نے اپنی وراثت سے ان جان مہاجرین کو حصہ دیکر رہتی دنیا تک ایک عظیم مثال قائم کردی۔ظلم و جبر اور استحصال کے ہاتھوں جب انسانی حریت و آزادی زیر سوال آئی تو میدان کربلا پہ امام حسین اور آپ کے باوفا اصحاب نے  فداکاری و قربانی کی وہ اعلٰی مثال قائم کی جو آج تک دنیا کے تمام حریت پسند اقوام کے لئے نمونہ عمل بنی ہوئی ہے۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری نئی نسل بیداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مغرب کے انسانی حقوق اور آزادی کے دہرے معیارات اور نام نہاد کھوکھلے نعروں کے بجائے اسلام کی جاودانی، آفاقی، الٰہی و اعلٰی انسانی اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی نشاط ثانیہ کی بحالی کے لئے کوشش کریں۔

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page