top of page

جیواورجینے دو

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Mar 30, 2020
  • 5 min read

تحریر: ایس ایم موسوی

14/12/2014

روزنامہ کےٹو


اسلام کا اصل مقصد اور مفہوم یہ ہے کہ اپنے عقیدے کوچھوڑونہ،دوسروں کی عقیدے سے چھیڑونہ خود بھی جیو اور دوسروں کوبھی جینے دو۔اسی بناء پرقائداعظم محمدعلی جناح نے پاکستان کو ایک الگ اور آزاداسلامی ملک بنایاتھاتاکہ مسلمان آزادی کے ساتھ اپنے عقیدے کا اظہار کرے اور اسلام کے طرز وآئین پر عمل پیرا ہوں۔کیونکہ برصغیر کے دور میں انگریزوں کی حکومت تھی اور مسلمانوں پر ہر قسم کے اسلام رسم و رواج پر پابندی تھی اسلیے بانی پاکستان نے مسلمانوں کیلے ایک الگ سر زمین کا مطالبہ کیا تاکہ انگریزوں کی غلامی سے نجات پا سکوں اور اسلامی رسم و رواج اور اپنے عقیدے کا کھلم کھلا اظہار کر سکوں۔ آج سے چھیاسٹھ سال پہلے ایک قوم،ایک آواز،اور ایک سبز ہلالی پرچم کے ساتھ ایک سرزمین کا مطالبہ کر رہی تھیں اور آج چھیاسٹھ سال کے بعدوہی سر زمین ہم سے ایک متّحد قوم کا مطالبہ کر رہی ہے۔کیونکہ آج اس سر زمین پرکوئی بھی انسان کسی دوسرے کے شر سے محفوط نہیں ایک گروہ دوسرے کی جان کے درپے ہیں تو دوسراگروہ تیسرا کے خون کے پیاسے ہیں اس طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلمانوں کی جان محفوظ نہیں اور اور ہر مسلمان آزادی اور امن کے ساتھ زندگی گزارنے کے بجائے ایک کُرب اور وحشت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ آج چھیاسٹھ سال بعدمسلمانوں کی سر زمین پاکستان میں وہی بر صغیر اور انگریزوں کا دور نظر آرہا ہے پاکستان میں اب کسی مسلمان کو اپنے عقیدے کا اظہار کرنا مشکل ہوگیا ہے اور کسی کی جان محفوظ نہیں اسلام کے نام پر کیا کچھ نہیں ہو رہا؟اب تو یہاں اپنے آپ کو مسلمان اور دوسروں کا کافر کہنے والوں کا مطالبہ ہے کہ عید میلادالنبیؐ اور جلوس عزا پر پابندی عائد لگائی جائے۔یہی ہے وہ نام نہادمسلمان جو اپنے آقاومولاؐ کی ولادت منانے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرے؟ا نہیں معلوم حکومت پاکستان دہشت گردوں کے سامنے بے بس ہیں یا حکومت ہی کے سر پرستی میں یہ سب کچھ ہورہے ہیں۔بحر حال جیسے بھی ہوں دہشت گرد ہمارے ملک اور عوام کے دشمن ہیں جہاں تک میرے علم میں ہے کہ کسی بھی ملک میں عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے حکومت قائم کی جاتی ہے مگر پاکستان میں اس کے برعکس نظر آتے ہیں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کا واقعہ پیش آئے ان میں حکومتی کارندے ہی ملوث نظر آتے ہیں۔اور دہشت گردوں کو کُھلی چُھوٹ حاصل ہے جہاں جو جی چاہے کر لے اس کے بجا ئے بے گناہ لوگوں کو قید کرتے ہیں۔دہشت گرد اب اس قابل ہوگئے ہیں کہ پہلے چھپ کر دہشت گردی کی کاروائیاں کررہے تھے اور اب صورت حال یہ ہے کہ وہ کسی جگہ کو ٹارگٹ کر کے واقعات کرنے سے قبل ہی ہمارے محکمہ وزرات داخلہ کو اطلاع کے ذریعے آگاہ کرتے ہیں اوراکثر جگہوں پر دیکنے میں آیا ہے کہ وازرات داخلہ اس حوالے سے کچھ یوں انتظام کرتے ہیں کہ اگر وہاں پہلے سے کوئی سکیورٹی موجود ہو تو بھی ان کو ہٹا دیتے ہیں پھر واقعہ پیش آنے کے بعد سکیورٹی ٹیم پہنچتی ہے اور وہاں موجود بے گناہ لوگوں کی اس کی سزا ملتی ہے۔کبھی بیچارے مسافروں کو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈچیک کر کے شہید کیا جاتا ہے اور کسی کے سر تن سے جدا کر کے پلوں پہ لٹکائے جاتے ہیں توکبھی جلوسوں میں بم دھماکے کر کے مسلمانوں کی جان لے لیتے ہیں اورکبھی جمعے کی اجتماع میں دھماکے کرتے ہیں مگر ہماری حکومت لبوں پہ مہریں لگائی بیٹھی ہیں۔اگرچہ دہشت گردوں کا تارگٹ صرف ایک فرقہ تھا مگر اس فرقے کی حوصلہ اور صبر نے دہشت گردوں کو مجبور کیا اب تو دہشت گرد پاکستان میں کسی بھی فرقہ کو نہیں چھوڑ رہی۔کبھی اہل تشیع ٹارگٹ بنتی ہے تو کبھی اہل سنت، اور کبھی مسیحی برادری تو کبھی سیاسی نمائندے۔ان درندہ صفت دہشت گردوں کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان اور دوسروں پر کافر کے فتوے لگاتے ہیں اسلام نے کہاں اس کی اجازت دی ہے؟اسلام محمدیؐ تو ایک دوسرے کی جان و مال،عزت و آبرو کی حفاظت کا درس دیتا ہے۔لیکنان دہشت گردوں کی اسلام میں نہ کسی کی جان کی فکر نہ کسی کی مال کی اور نہ ہی کسی کی عزت و آبرو کی فکر ہے۔ان کا مقصد اسلام کے نام پر ملک کو تباہ برباد کرنا ہے جو کی ملک دشمن عناصر کی سازش ہے اور ساتھ ساتھ دین اسلام کو بھی بدنام کرنے کی سازش ہے۔اگرچہ پاکستان کو درپیش مسائل میں یہ ایک بڑا چیلنج ہیں باہر کی دشمن سے زیادہ اندر کے دشمن خطرناک ہوتے ہیں پاکستان چونکہ ایٹمی طاقت رکھتے ہیں اس لیے دشمن ممالک اس کی طرف بری نظر سے دیکھنے کی جرائت نہیں کر سکتی اس لیے انہوں نے یہ پلاننگ بنایا ہے کی پاکستان میں دہشت گردی کو عام کیا جائے اور انہیں کے ذریعے دشمن اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں کیوں کہ پاکستان کو اپنے اندرکے مسائل میں الجھا کر دشمن ممالک پاکستان کو عالمی مسائل سے بے خبر رکھنا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان ہر طرح سے پیچھے رہ سکے اور اپنے مقابلے میں کھڑا نہ ہو۔لہذا ہم سب کو اپنے پیارے ملک کے بارے میں سوچنا ہوگا آپس کے تمام اختلافات کو بھلا کر اپنے ملک کے ترقی کے لیے مل کر کام کرنا ہوگاتاکہ دشمن کے ناپاک عزائم کامیاب نہ ہو سکے اور ہماری نئی نسل دہشت گردی سے پاک امن و امان سے اپنی زندگی گزار سکیں۔اگرچہ پاکستان میں دہشت گردی کی لہر روز بروز بڑھتی جا رہی ہے مگر اس پر قابو پانا اتنا مشکل نہیں ہے اگر حکومتی طرز پر اس کے لیے اقدام کرے تو بہت آسانی سے اس پر قابو پاسکتا ہے مگر حکومت خاموش تماشائی دیکھ رہی ہے اس وجہ سے ان کی حوصلہ بلند ہوتی جارہی ہے۔حکومت پاکستان ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود چند مٹھی بھرباغی دہشت گردوں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں کبھی مذاکرات کے بہانے کبھی آئینی حقوق کے بہانے مجبوریاں دکھا کران کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر آمادہ ہے ہوتے ہیں اگر آئینی حقوق کو ہی دیکھنا ہے تو پاکستان میں بسنے والے دیگر لوگوں کا بھی حق ہے صرف دہشت گردوں کے حقوق کی بڑی فکر ہے مگر مظلوم لوگوں کی تو کوئی فکر نہیں جو دونوں طرف سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ایک دہشت گردی خاطر اپنے جان و مال کی حفاظت کی فکر تو دوسرے مہنگائی کی وجہ سے جن کی کمر جھکی ہوئی ہے حکومت کوان کا کوئی فکر نہیں لیکن دہشت گردوں کی بڑی فکر ہوتی ہے اگر یہی صورت حال رہی تو آئندہ پاکستان میں عوامی حکومت ناممکن ہوگی اور ابھی سے دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی ہاتھ پر قابو نہ پایا تو حکومت شام کی طرح حکومت پاکستان کو بھی ان دہشت گردوں کے ساتھ بڑے مقابلے کا سامنا ہوگا.

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page