جی بی پولیس کا احتساب
- S M Mosavi
- Apr 6, 2020
- 3 min read
از قلم: رسول میر

جی بی پولیس ایک تابناک اور صاف شفاف ماضی کے حامل محکمہ ہے۔
ماضی میں شفاف بھرتی , دیانتدارانہ ڈیوٹی , رشوت و کرپشن سے پاک نظام اور بڑی تعداد میں قابل آفیسر اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی موجودگی کی وجہ سے نیک شہرت کا حامل رہا ہے
میں یہ سمجھتا اور کہتا تھا کہ جو ناقابل افراد چار پانچ لاکھ دیکر محکمہ تعلیم میں تعینات ہوا ہے ان کو چوراہوں پہ ڈنڈے پکڑوا کر جی بی پولیس کے نوجوانوں کو ٹیچنگ کے لئے سکولوں میں تعینات کیا جائے کیونکہ گلگت بلتستان کے اکثر تعلیم یافتہ نوجوان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں محکمہ تعلیم میں رائج کرپشن مافیا , نوکریوں کی خریدو فروخت اور بے روزگاری سے سے نالاں ہوکر اور محمکہ پولیس کی صاف و شفاف بھرتی نظام سے استفادہ کرتے ہوئے پولیس فورس میں شامل ہوگئے ہیں۔
میں ایسے بہت سارے قابل زہین اور اعلٰی تعلیم یافتہ افراد کو جانتاہوں جو تدریس چھوڑ کر محکمہ پولیس سے وابستہ ہوگئے اس وجہ سے جی بی پولیس سلجھی ہوئی تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ جماعت میں تبدیل ہوچکی ہے
میں نے خود مختلف چوراہوں پر انتہائی شریف اور خوش اخلاق پولیس نوجوانوں کو انتہائی ہمدردی کے ساتھ شہریوں سے ڈیل کرتے , بزرگوں کے ہاتھ تھامتے اور ماؤں بہنوں کو بحفاظت سڑک عبور کرواتے ہوئے مشاہدہ کیا ہے۔
جس چوکی پہ پہنچے جھک کر سلام کرتے سینے پہ ہاتھ رکھ کر گویا خاموشی سے احساس دلاتے کہ ہم آپ کے محافظ اور قوم کے بے لوث خدمت گزار ہیں قتل و غارت ,لوٹ کھسوٹ اور اقربا پروری کے اس دور میں جب ایسے مناظر دیکھتاہوں تو دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔
جب دیگر صوبوں میں پولیس کی جعلی مقابلوں میں شہریوں کا قتل , پولیس آفیسران کی دن دہاڑے خواتین کی عصمت دری , جعلی مقدمات کے زریعے سیاسی انتقام اور سرے عام چوراہوں پہ رشوت لیتے مناظر دیکھنے کے بعد ہر روز جی بی پولیس کی کوئی نہ کوئی امانت داری دیانت داری اور شفافیت کی داستان سوشل میڈیا پہ وئرل ہوتی ہے تو سینہ تان کے اپنے دیگر صوبوں کے دوستان کے پاس فخر سے کہتاہوں کہ یہ دیکھو ہمارے جی بی پولیس , یہ ہے ہماری تہذیب و ثقافت , یہ ہماری بزگوں کی تربیت اور یہ ہے ہمارے علماء کی تبلیغ کا اثر....
یوں جی بی پولیس گلگت بلتستان کی عوام کے لئے تحفظ کا احساس اور باعث فخر مباہات بن کر مثالی کردار کا حامل رہا ہے۔
اسی لئے بیچ چوراہوں پہ جب بھی روکا ہم نے من عن پولیس کی اطاعت کی اور اپنے آپ کو قانوں , آئین اور آئین کے رکھوالوں کے سامنے سر تسلیم خم رکھا۔ لیکن جس طرح محکمہ تعلیم , صحت, فوج , عدالت اور بیروکریسی کالی بھیڑیوں سے خالی نھیں ہے اسی طرح جی بی پولیس میں بھی ایسے کالی بھیڑئے موجود ہے جو اس بہترین محکمے کی حسین اور بے داغ چہرے پر ایک بدنما داغ کی مانند شہریوں کے ساتھ پرتشدد رویہ اپنا کر امیج کو خراب کر رہے ہیں ویمن پولیس, سپیشل برانچ اور منشیات کے حوالے سے کچھ کالی بھیڑیوں شکایات بھی موصول ہو رہی ہے کیونکہ ہم علاقے کی باسی ہونے کی حثیت سے تمام محکمہ جات میں ہونے والے اندون خانہ چقلشوں , اقتدار کی کھینچہ تانیوں اور عوام حقوق کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پہ کڑی نظر رکھتے ہیں اور جہاں بہتری نظر آئے بغیر کسی تعصب یا کنجوسی کے دل کھول کر تعریف کرتے ہیں اور خدا نہ خواستہ کہیں کرپشن , اقربا پروری , لوٹ کھسوٹ , میرٹ کی پامالی اور عوامی حقوق کی بندر بھانٹ نظر آئے تو تمام تر خطرات اور زاتی مفادات کو پس پشت ڈال ڈٹ کر مخالفت کرتے ہیں کیونکہ یہ دھرتی ہم سب کی ماں ہے اور غریب عوام ہم سب کی پہچان ہے
آئی جی گلگت بلتستان , ڈی آئی جی بلتستان اور اے سی سکردو سے اپیل ہے کہ ان کالی بھیڑیوں کا سخت احتساب کرکے جی بی پولیس کے بہترین روایات کو برقرار رکھنے کوشش کریں
جی بی پولیس زندہ باد
کالی بھیڑئے مردہ باد
تحریر
"گلگت بلتستان کی باسی ایک عام شہری رسول میر"



Comments