top of page

جمعة الوداع عالمی یوم القدس

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Apr 1, 2020
  • 5 min read

تحریر: ایس ایم موسوی

روزنامہ سلام، بیدار ترجمان 31 مئی 2019


عالمی یوم القدس فلسطین کے مسلمانوں سے اظہار ہمدردی اورامریکہ و اسرائیلسے اظہا ربیزاری کے لیئے ہر سال رمضان المبارک کی آخری جمعہ کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔چونکہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول اور دنیا بھر کے فرزندان توحید کا دوسرا حرم ہے،جو اس وقت صہیونی طاقتوں کے قبضے میں ہے۔بانی انقلاب اسلامی آیت اللہ خمینیؒ نے جدت پسندی کے ساتھ ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کو عالمی یوم قدس قرار دے کر دنیا والوں کی توجہ مسئلہ فلسطین کی طرف مبذول کرایا ہے۔ غاصب اسرائیل کے بڑھتے ہوئے مظالم کو روکنے، اس کا حقیقی چہرہ بے نقاب کرنے اور نہتے مظلوموں کی حمایت کے لیے امام خمینی ؒنے 7 اگست 1979ء (13 رمضان المبارک 1399 ھ ق) کو تمام دنیا کے مسلمانوں سے تقاضا کیا کہ ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ کو ''یوم القدس'' کے طور پر منایا جائے۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے 80 سے زیادہ مسلم اور غیر مسلم ممالک میں جمعۃ الوداع کے دن جلسہ و جلوس کی شکل میں عظیم اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس دن پوری دنیا کے مسلمان خمینیِ بت شکن کی وحدت آفرین اور ظلم ستیز آواز پر لبیک کہتے ہوئے مسلکی زنجیروں کو توڑ کر ایک عظیم اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہیں۔رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو ”عالمی یوم القدس‘‘ قرار دینا امام خمینی کے عالمانہ اقدام کا ایک نمونہ ہے۔چونکہ بیت المقدّس ان فلسطینیوں کی اصل سرزمین ہے جسے عالمی سامراج نے آج سے 71سال قبل غاصب صیہونیوں کے تصرف میں دے دیا تھا۔بیت المقدّس وہ سرزمین ہے جہاں سیکڑوں انبیاء اور اولیاء نے زندگی بسر کی،وہ ارض مقدّس جو انبیاء الہٰی کی بعثت اور سیدالمرسلین کے معراج کا مقام ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان روز اول سے ہی قبلہ اول کی بازیابی کی کوشش کر رہے ہیں اور اس سامراجی سازش کے خلاف مسلسل غم و غصے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔البتہ ہوسکتا ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال اٹھے کہ یوم القدس منانے، نعرے لگانے، لوگوں کے اجتماعات کرنے اور باتیں کرنے کا کیا فائدہ ہے؟تو ان کے لیے عرض کروں کہ اگر مسلمانوں کی ہمت اور کوشش سے اسلامی ممالک میں استکباری قوتوں اور ان کے ایجنٹوں کے سیاسی اور تبلیغاتی مواضع کا رنگ پھیکا پڑجائے تو اسلامی قوموں کے اتحاد اور بیت المقدّس کی آزادی کیلئے مسلمانوں کی طاقت کو جوش و خروش دلانے میں ''عالمی یوم القدس'' بہت عمدہ اور اصلی کردار ادا کرسکتا ہے۔چونکہ یوم القدس کے بارے میں امامِ راحلؒ نے فرمایا کہ" یوم القدس ایک اسلامی دن ہے اور یہ ایک عام اسلامی رضاکارانہ دن ہے، یوم القدس اسلامی اتحاد اور یکجہتی کا دن ہے، اسلام کو زندہ اور اسلامی ممالک میں اسلام نافذ ہونے کا دن ہے،لہذا ہر جگہ اسلام کو آگے بڑھنا چاہیے،۔یوم القدس ''اے مسلمانو! پوری دنیا میں ترقی کیلئے آگے بڑھو'' کے اعلان کرنے کا دن ہے، یوم القدس یوم اللہ اور یوم رسول اللہ ہے، اسلام و مسلمین کو پوری قوت کے ساتھ انزوا اور پسماندگی سے نکلنے کا دن ہے، یوم القدس ایک عالمی دن ہے جو مستضعفین کے مستکبرین کے ساتھ مقابلے کا دن ہے۔عالمی سامراج کے خلاف انسانی وجود کو ثابت کرنے کا دن ہے، یوم قدس جرات، ہمت، دلیر، شجات اور پائمردی کے اظہار کا دن ہے، منافق اور فرض شناس کے درمیان فرق ظاہر ہوجانے کا دن ہے،بڑی طاقتوں کے سازشیوں کو اپنی حقیقت معلوم ہونے کا دن ہے، یوم القدس مستضعف اقوام کیمعاشروں کو قیام کرنا اور اپنی خائن حکومتوں کو الٹی میٹم دینے کا دن ہے، یوم القدس ایسا دن ہے کہ اسرائیل اور اس کے آقاوؤں کو معلوم ہوگا کہ اب ان کا راج نہیں چلے گا، امریکا کے آلہ کاروں اور خیانتکاروں کو خبردار کرنے کا دن ہے،یوم القدس تمام اسلامی ممالک میں اجنبی آلہ کار حاکموں کو معزول کرنے کا دن ہے، شیاطین اور بڑی طاقتوں کی آرزوؤں کو نابود کردینے کا دن ہے، یوم القدس شیطانی طاقتوں کا دغلہ بازی فاش ہونے کا دن ہے،یوم القدس بین الاقوامی سازش کار اور فرض شناس لوگ اور حکومتوں کی پہچان کا دن ہے، یوم القدس حق و باطل کی پہچان اورجدائی کا دن ہے، یوم القدس تمام اسلامی حکومتیں اور تمام قومیں اسلامی ممالک کی خاطر فریاد بلند کرنے کا دن ہے، یوم القدس'شہر الاعظم'(رمضان المبارک) کے آخری دنوں میں بڑے شیاطین کی غلامی سے رہائی کا دن ہے،یہ دن صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ دنیا کے تمام مظلوم، محروم اور مستضعف قوموں اور ملتوں کے مستقبل کی تعین کا دن ہے،مگر فلسطینیوں کے اہداف کے پیش نظر مسئلہ فلسطین عالم اسلام کا اولین اور سب سے بڑا مسئلہ ہے اور صیہونی حکومت عالم عرب اور اسلامی امت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔لہذا مجھے امید ہے کہ مسلمان اس روز کو عظیم روز شمار کریں گے"۔اسی طرح رہبر معظم سید علی خامنہ ای فرماتے ہیں کہ ''خاکِ فلسطین کی ہر بالشت مسلمانوں کا گھر ہے،جس پر مسلمانوں کی حاکمیت کے علاوہ ہر حاکمیت غاصب ہے۔ یوم القدس اور اس طرح کے تمام حساس ایام تاریخِ اسلام کی لیلۃُ القدر ہیں۔ ان کو بیداری کی حالت میں گزاریں اور مسلمان ملتوں، خاص طور سے فلسطین کی شجاع اور مظلوم ملت کی نجات کے مطلعِ فجر تک کوشش جاری رکھیں "۔یوم القدس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے امام جمعہ قم آیت اللہ مشکینی فرماتے ہیں کہ "یوم القدس کے جلوس میں اٹھنے والا ہر قم مجھ بوڑھے کی نماز شب سے بھی زیادہ افضل ہے"۔یوم القدس شجاعت اور مقاومت کا رنگین صحیفہ ہے جس کا ہر ورق غیرت، مظلومیت اور ظلم و ستم کی یاد تازہ کرتا ہے۔ یہ سرزمین عشق کا جغرافیہ، ایثار کی تاریخ، انتفاضہ و مقاومت کی عملی لغت اور عہد و پیمان کی تجربہ گاہ ہے۔اور موجودہ دور میں عالمی سامراج کے خلاف کمزوروں کی پائمردی اور امریکا و اسرائیل کی تباہی و بربادی کے دن میں تبدیل ہو چکا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے مسلمان مذہب اور اعتقادات کے اختلافات کو فراموش کرکے ایک ہو جائیں اور اسلامی مقدسات کے دفاع، اسلام، قرآن، کعبہ اور بیت المقدس کے تحفظ کے لئے وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے متحد ہو جائیں۔آخر میں علامہ اقبالؒ کے اس شعر کے ساتھ اختتام کررہاہوں جس میں انہوں نے صہیونی مظالم کی ابتداء ہی میں فلسطینی عربوں کو مخاطب ٹھہرا کر نجات کا نسخہ بھی ان کے ہاتھ میں تھما دیا تھا۔ اقبال فرماتے ہیں:

زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ

میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وُجود میں ہے

تِری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں

فرنگ کی رگِ جاں پنجہ یہود میں ہے

سُنا ہے مَیں نے ''غلامی سے امتوں کی نجات

خودی کی پرورش و لذّتِ نمود میں ہے

خداوند تبارک وتعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اسلام کو دنیا کے تمام طبقوں پر غلبہ عطاکریں۔تمام مستکبروں پر مستضعفین کو غلبہ عطاہو۔فلسطین، جنوبی لبنان اور لبنان، بلکہ دنیا کے گوشے گوشے میں ہمارے بھائیوں کو مستکبرین اور لٹیروں سے نجات دیں۔آمین

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page