top of page

🔥جلنے والے جلتے رہیں🔥 🖊️قلم میرا چلتا رہے✍✍

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Jul 11, 2020
  • 5 min read

#تحریر: ایس ایم موسوی

ہر چند کوشش کی کہ کچھ عرصہ خاموش رہوں لیکن کچھ لوگوں کو نہ میری خاموشی ہضم ہوتی ہے نہ لب کشائی برداشت ہوتی ہے۔ سوچا جب خاموش رہ کر بھی انہیں سکون نہیں ملتے تو بہتر ہے کچھ بول کر ہی ان کی بےچینی میں اضافہ کروں۔ چند دنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ سوشل میڈیا کی فضا سیاسی تنقید اور تعریفی پوسٹوں سے بھر گئی ہے۔ مگر میں کسی متنازعہ پوسٹ کا حصہ بننے کے بجائے خاموش بیٹھنے پر ترجیح دے رہا تھا تاہم کلی بات کرنے پر بھی مجھے دھمکی دینے والے سیاسی بھونے آج کان کھول کر سن لیں۔ میں جو کچھ بھی لکھتا ہوں وہ علاقائی مفاد اور عوامی حقوق کے خاطر ہوتا ہے خدا جانتا ہے اس میں میری ذاتی کوئی خواہش شامل نہیں۔ جب لوگ ایک امید کے ساتھ اپنی شکایات مجھ تک پہنچاتے ہیں تو ان کی خاطر آواز اٹھانا میں اپنا شرعی فریضہ سمجھتا ہوں اور اس ضمن میں جو بھی لکھنا پڑے پوری ذمہ داری کے ساتھ لکھتا ہوں۔ تم لوگ اسے چاہے جو بھی سمجھے اس سے میری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ خدا کا شکر ہے کسی کی تعریف اور تنقید کے موقع پر کھل کر مخالفت اور حمایت کرنے کی جرئت رکھتا ہوں۔ تمہاری طرح منافقت سے کام لینا میری تربیت کا حصہ نہیں۔ نہ ہی خوف اور ڈر میری فطرت میں شامل ہے۔ یہ میرا قلم ہے جو کسی سے قرضہ نہیں لیا نہ ہی میری زبان پر کسی کی اجارہ داری چلتی ہے۔ میں اپنی ضمیر کے مطابق سوچتا ہوں اور اپنے ضمیر کے کہنے پر لکھتا ہوں۔ اور مجھے اپنی رائے کے اظہار کےلیے کسی سے مشورہ یا اجازت طلب کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ چونکہ سوشل میڈیا ایک آزاد پلیٹ فارم ہے کسی کے باپ کی جاگیر نہیں۔ یہاں پر ہر کوئی اپنے خیالات کا اظہار کرنے میں آزاد ہے۔ کوئی کسی کو اپنے زور بازو نہیں روک سکتا ہے۔ نہ فیک آئی ڈی کا سہارا لیکر بزدلانہ حرکت کے ذریعے روک پائےگا نہ فیملی برگیڈ مل کر حملہ کرکے کسی کو خاموش کرایا جاسکتا ہے۔ چند دنوں پہلے حلقے کے تمام نمائندوں کے متعلق تعارفی پوسٹ کا سلسلہ جاری تھا جسے لوگوں نے اپنی سوچ اور ظرفیت کے مطابق دیکھا اور اسی حساب سے نتیجہ اخذ کیا ہے۔ میرا نہ کسی نمائندے کے ساتھ ذاتی دشمنی ہے نہ کسی کے ساتھ کوئی تعلق داری ہے۔ جن کے متعلق جو کچھ جانتا تھا اسی حساب سے لکھا ہے۔ الیکشن قریب آتے ہی ہر جگہ معاملات سنگین ہوتا جارہا ہے۔ عوامی نمائندے پر تنقید کرنا یا اس کی تعریف کرنا ہر ووٹر کا بنیادی حق ہے۔ نہ ہر تنقید کرنے والا دشمن ہوتا ہے نہ ہر تعریف کرنے والا دوست۔ یہ لوگوں کی سوچ پر منحصر ہے کہ کس کو دوست سمجھے اور کس کو دشمن۔ جبکہ ہر معاشرے میں دوست بن کر دھوکہ دینے والے اور دشمن بن کر مشکلات سے بچانے والے دونوں ہوتے ہیں۔ ان معاملات کو سمجھے بغیر طوفان بدتمیزی کرنا بیمار ذہنیت کی علامت ہے۔ ایسے لوگ عوامی نمائندگی کے حقدار بھی نہیں جو اپنے ووٹر کے ساتھ متکبرانہ انداز میں پیش آئے۔ اگر آج کسی کے پاس کوئی مقام ہے تو انہیں ووٹرز کی وجہ سے ہے۔ انہی غریب عوام کے ووٹ سے جیتنے کے بعد کرسی اور طاقت کے نشے میں مست ہوکر اسی عوام کےلیے فرعونی لہجہ استعمال کرے تو اس سے زیادہ بےشرمی اور کیا ہوگی۔ البتہ وقتی پاور کے اختتام پر آج پھر سے ایک ووٹ کے خاطر در در پہ سر جھکارہے ہیں۔ مولائے کائنات فرماتے ہیں کہ کسی سے اس قدر دشمنی نہ کرو کی دوبارہ اس کا سامنا نہ کرسکو اور کسی سے اس قدر دوستی بھی نہ بڑھاو کہ وہ ایک دن تمہارا دشمن بن سکتا ہے۔ کواردو کی فضا میں مجھے کاچو امتیاز کا مخالف سمجھنے والے نادان دوستوں کےلیے عرض کروں کہ آپ لوگوں کے مطابق میں کاچو کا مخالف ہی سہی مگر اس وقت میری مخالفت سے زیادہ آپ کی دوستی کاچو کے لیے نقصان دہ ثابت ہورہی ہے۔ چونکہ عوامی نمائندے کے نظر میں تمام ووٹر کی حثیت ایک جیسی ہونی چاہیے اور سیاست میں کوئی رشتہ داری کوئی باپ بیٹا کا سلسلہ نہیں رہتا ہے جب کوئی سیاست میں آتا ہے تو زندہ باد اور مردہ باد دونوں لگتے ہیں لیکن ان سب پر تحمل کرنے والا ہی عوامی نمائندہ کہلانے کے لائق ہوتا ہے۔ لہذا کاچو کے دفاع میں جذباتی ہونے والوں کو یہی مشورہ ہے کہ ہر کسی کو دشمن سمجھنے سے پہلے کچھ سیاسی بصیرت کا ثبوت دیں۔ سوشل میڈیا پہ کرنے والے پوسٹ اور کمنٹس پر سیخ پا ہوکر دھونس دھمکی پہ اتر آنا اور ذاتیات پر حملہ کرنے کے ساتھ خاندان کے بزرگوں تک شکایتیں پہنچانا ہی آپ کی سیاست کا حصہ ہے تو ایسی سیاست آپ کو مبارک ہو۔ میں ایسی سیاست پر ہزار بار لعنت بھیجتا ہوں۔ بہت سارے لوگ اس فریب کا شکار ہوکر وقتی طور پر خاموش ہوگئے ہیں مگر میرے ساتھ آپ کی یہ دغلاپن نہیں چل سکتی مجھے مشورہ دینے سے پہلے اپنے گریباں کھول کر دیکھیں مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں اور مجھے اخلاقیات کا درس دینے والے پہلے اپنے ارد گرد موجود بدزبانوں کو لگام دیں۔ میں خود جانتا ہوں کہ مجھے کیا زیب دیتا ہے کیا نہیں دیتا۔ لہذا اپنی منافقت اپنے پاس ہی رکھیں۔ یہاں میں ایک اور بات واضح کرتا ہوں کہ میں ذاتی طور پر کسی سے دشمنی مول لینے کے حق میں نہیں ہوں لیکن جو کوئی بھی میرے متعلق جیسا نظریہ قائم کرےگا مجھے ویسا ہی پائےگا دوست سمجھنے والوں کےلیے میں ایک اچھا دوست ہوں اور دشمن سمجھنے والوں کےلیے میں سب سے بڑا دشمن ہوں۔ یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ کاچو امتیاز صاحب سے ذاتی طور پر میرا کوئی دشمنی نہیں بلکہ کاچو سے میرا پرسنل رابطہ ہے اور کئی معاملات باہمی مشورے سے طے پایا ہے لیکن ان کے بغل میں رہنے والے چمچوں کی وجہ سے میں ان سے دور رہتا ہوں۔ کاچو کو اپنا سیاسی نمائندہ مانتا ہوں اور اپنے نمائندے کی تعریف و تنقید کا مجھے مکمل حق ہے اور میں یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رکھوں گا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کسی کو زور بازو چپ کرایا جاسکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔ آپ کی بدتمیزی کرنے سے کوئی کاچو کا حمایتی نہیں بن سکتا بلکہ بازاری زبان کی استعمال سے آپ کی تربیت واضح ہونے کے ساتھ مزید دوریاں بڑھ رہی ہے۔ وہ وقت گزر گیا ہے جب کسی کو ڈرا دھمکا کر اپنے حق میں بٹھایا جاتا تھا اگر سنجیدگی سے سوچ لیں تو آپ اپنے جذبات سے کاچو کے مخالفین میں اضافہ کررہا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہے۔ کاچو صاحب کو چاہیے سیاسی بلوغت کا ثبوت دیتے ہوئے ان نادانوں کو لگام دیں بصورت دیگر آپ کے اپنے ہی آپ کے پر کاٹنے کےلیے کافی ہوں گے کسی اور کو آپ کی مخالفت کرنے کی ضروت ہی پیش نہیں آئے گی۔ تحریر کی طولانیت کو ملحوظ خاطر رکھ کر کچھ باتوں کا ابھی ذکر نہیں کررہا وہ کسی اور مناسب موقع پر انشاءاللہ۔ کاچو کی محبت میں پاگل ہونے والے اس بات کو بھی ذہن نشین کرلیں کہ اگر کاچو عوامی نمائندہ ہے تو لوگوں کی رائے کا احترام کریں اور اگر وہ فقد ایک مفاد پرست ٹولے کا نمائندہ ہے تو بیشک آپ لوگ اس کے دفاع میں زمین و آسمان ایک کریں پھر وقت ہی بتاۓ گا کہ مخصوص اور چاپلوس گروہ کے دائرے میں کوئی بھی عوامی نماٸندہ نہیں بن سکتا۔ #والسلام

تیری رسوائی کے ڈر سے لبوں کو سی لیا ورنہ

تیرے شہرِ منافق کی میں بنیادیں ہلا دیتا✍

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page