جسم فروشی کے اڈوں کو قانونی قرار دینے والے معاشرے میں زنا اور جنسی زیادتی کیسز ۔۔۔۔!
- S M Mosavi
- Apr 13, 2020
- 2 min read

اور جنسی زیادتی روکنے کیلیے جسم فروشی کے اڈے قایم کرنے کا مطالبہ/خواہش۔۔۔
تحریر: شریف ولی کھرمنگی
امریکا کو دیگر مغربی ممالک کی نسبت بھی جنسی آزادی کا چمپئین سمجھا جاتا ہے۔ باہنی رضامندی کیساتھ وہاں لوگ جنسی تعلق قائم کرنے میں آزاد ہے، جسم فروشی عام ہے اور کوئی قانونی قدغن نہیں۔ ملکی قانون بھی ایسے افراد کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا جب ملوث افراد باہم رضامند ہو، چاہے ہم جنس ہو، یا مخالف۔
مگر اسکے باوجود وہاں جنسی زیادتی نہ صرف ختم نہیں ہوتی بلکہ زنا کے کیسز اتنے زیادہ ہیں کہ شاید پوری دنیا میں کہیں بھی اتنے نا ہو۔
جنسی زیادتیوں کیخلاف متحرک خود امریکی ادارے RAINN آرگنائزیشن کے ان لائن دستیاب ڈیٹا (جو کہ اس ادارے کے درجنوں دیگر سرکاری و غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تیار کئے ہیں) کے مطابق امریکا کے اندر ہر 73 سیکنڈ میں ایک امریکی کیساتھ "جنسی زیادتی" کی جاتی ہے۔ اور ہر 9 منٹ میں جنسی زیادتی کا شکار ہونیوالا "کم عمر بچہ" ہوتا ہے۔
ڈیٹا کے مطابق ہر سال 433,648 (چار لاکھ تینتیس ہزار چھے سو اڑتالیس) امریکی جنسی زیادتی یا زنا کا شکار ہوتا ہے جنکی عمریں بارہ سال یا اس سے زیادہ ہوتی ہیں۔
کم عمر افراد سب سے زیادہ "جنسی زیادتی" کا شکار ہوتے ہیں۔ جیسے کہ زیادتی کا شکار ہونیوالوں کی اکثریت تیس سال سے کم عمر کے لوگ ہوتے ہیں۔
خواتین اور بچیوں کیساتھ زنا کی شرح بھی زیادہ ہے، ہر چھے میں سے ایک خاتون کیساتھ اسکی زندگی میں جنسی زیادتی یا مکمل زنا کیا جاتا ہے۔
لڑکے اور مردوں کیساتھ بھی جنسی زیادتی کیجاتی ہے، (اٹھارہ سے چوبیس سال تک کے کالج طلبہ کیساتھ نہ پڑھنے والوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ زیادتی یا زنا کے واقعات پیش آتے ہیں)۔ ہزاروں قیدیوں کیساتھ بھی جنسی زیادتی ہوتی ہے (ہر سال تقریبا اسی ہزار چھے سو 80,600 قیدیوں کیساتھ )۔ آرمڈ فورسز کے افراد کیساتھ بھی جنسی زیادتی کے لا تعداد واقعات پیش آتے ہیں، ان اداروں میں ہونیوالی جنسی زیادتی کے کیسز عام طور پر سامنے نہیں آتے، سال 2016 میں آرمی اور ڈیفنس اداروں کے 14,900 افراد کیساتھ رضامندی کے بغیر جنسی تعلقات کئے گئے۔
یہ اعداد و شمار RAINN آرگنائزیشن لکھ کر گوگل کرے تو انکے آفیشل ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
🛑 تو کیا خیال ہے پھر، لبرل اور مادر پدر آزاد سوچ کے حامل افراد کے قبلہ اول امریکا میں مکمل جنسی آزادی کے باوجود اتنے سارے جبری زنا اور جنسی زیادتیوں کے کیسز کیوں پیش آتے ہیں؟ جن کی کھوپڑیوں کے اندر دماغ نامی مادہ موجود ہے، جن کو گھر، اسکول، کالج، یونیورسٹی سے سوچنے اور غور و فکر کرنے کی بابت کچھ سیکھنے کا موقعہ ملا ہے انکے لئے امریکی مثال کافی نہیں ۔۔۔۔ ! یا پھر بھی یہی مشورہ دینگے کہ "بعض اوقات معاشرے میں جنسی زیادتیوں کے کیسز سامنے آتی ہیں، زنا بالجبر اور نا مناسب تعلقات قائم کی جاتی ہیں، لڑکیوں کی اصلی یا جعلی آئی ڈیز سے کی گئی پوسٹوں پر لبرلز، قوم پرستوں، اور دیگر شہرت پسندوں کی نسبت زیادہ واہ واہ کے کمنٹس آتے ہیں، اسلئے جسم فروشی کے اڈے قایم کئے جائیں، زنا کی قانونی اجازت دی جائے۔۔۔۔وغیرہ۔۔۔" اور درجنوں افراد بمعہ بعض پردہ دار فیس بکی سلیبرٹیز، بعض یونیورسٹی گریجویٹس اور سماجی معاملات کے ایکٹیو متحرک افراد وغیرہ بھی انکی تائید کرینگے۔۔۔؟
شریف ولی کھرمنگی
اپریل 13، 2020۔



Comments