📢بلتستان کی فریاد📢 تحریر: محمد بشیر دولتی۔
- S M Mosavi
- Apr 16, 2020
- 2 min read

"مجھے نام نہاد دانشوروں اور قوم پرستوں سے بچاؤ دہشت گردوں سے میں خود نمٹ لوں گا"
چند نام نھاد دانشور سوشل میڈیا پہ مسلسل پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ ارض بلتستان میں مذہبی شدت پسندی و جنونیت اب عروج پہ ہیں۔ جبکہ خود مذہبی عقاٸد و علاقاٸی اقدار و معروف مذہبی شخصیات کی توہین میں مصروف عمل ہوٕں ۔ان سے عرض ہے کہ حضور بلتستان میں کونسی مذہبی شدت پسندی ہے؟ کیوں سوشل میڈیا پہ آپ لوگ اس پہ زور دے رہے ہو؟ کیوں اس گلستان کو اجاڑنا چاہتے ہو؟ کیوں اس شریف النسل قوم کو بدنام کرنے کے درپے ہو؟ کیوں بلتستان کی رخ زیبا کو نوچ رہے ہو؟ کیوں اسے تورا بورا یا سوات بنانا چاہتے ہو؟ بلتستان میں آج تک مذہب کی بنیاد پہ قتل نھی ہوا۔ بلتستان کے کسی بھی مذہبی مرکز نے کسی بھی دوسرے فرقے کو کافر قرار نہیں دیا۔ یہاں کے علماء بجلی بل ادانہ کرنے کو حرام سمجھتے ہیں۔ پاک فوج پہ فخر کرتے اور ان کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔ کبھی کوئی مذہبی فساد نہیں ہوا۔ یہاں کے تمام مقامی مدرسوں میں اتنے طالب علم نہین جتنا غواڑی کے ایک مدرسے میں غیر مقامی طالب علم ہیں مگر پھر بھی شکر ہے سکون ہی سکون ہیں امن ہیں بھائی چارگی ہیں۔ پھر آپ لوگ کیوں سوشل میڈیا پہ یہاں مذہبی شدت پسندی کا ڈنڈورا پیٹ رہے ہو؟ ٹوریسٹ سیزن میں حکومت، بلتستان میں یاعلی ع یاحسین ع کے وال چاکنگ تک مٹاتے ہیں تو یہاں کے علماء و طلباء غلطی سے بھی کچھ نہیں کہتے۔ ٹوریسٹ انتہائی بےہودہ لباسوں میں آکر یہاں کی آداب و ثقافت کی دہجیاں اڑاکر جاتے ہیں تو کوٸی لب نہیں ہلاتا۔۔ پھر آپ کو شدت پسندی کہاں دکھائی دے رہی ہیں؟ جنونیت کس ریت میں سر دھنس کر بیٹھی ہیں؟ کیا یہ کہنا کہ ہم لبرل نہیں ، ناچ گانا ہماری ثقافت نہیں ، عورتوں کی ہائکنگ اور جھومتے وڈیو ہمارے معاشرتی اقدار کے خلاف ہیں۔ بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے مرتکب لوگوں کو شرعی سزا یا پھانسی دی جاۓ وغیرہ۔۔۔کیا یہ کہنا شدت پسندی ہیں؟ کیا یہ جنونیت ہیں؟ جب کہ آپ جیسے دانشور یہاں کے امن سکون کو بدھسٹ تعلیمات کے فیوضات قرار دیں۔ بلتی قوم کو ہمالیہ کی پہاڑوں میں بندروں کے جنسی تعلق کاشاخسانہ قرار دیں ۔لوگوں کو بےدین و لامذہب قرار دیں، دینی عقاٸد کا کھل کر مزاق اڑاٸیں ، پھر چاہتے ہو کہ مذہبی لوگ آپ کے ہاں میں ہاں ملاٸیں؟ وگرنہ شدت پسندی و جنونیت کے سرٹیفکٹ بانٹو گے؟ حالیہ ابحاث میں کسی مذہبی طالب علم نے فریق مقابل کو کافر مشرک یا جاہل نہیں کہا جب کہ نام نہاد دانشور انہیں کم فہم، ملا، جاہل جیسے القابات سے نواز رہے ہیں۔ خدا را علاقے پہ رحم کریں ملالہ کی ڈائری لکھ کر اسے سوات نہ بنائیں۔ نوبل انعام کا خواب ہی دیکھنا ہے یا مغربی شہریت چاہتے ہیں تو اور بھی بہت راستے ہیں۔۔۔۔۔۔شکریہ۔



Comments