top of page

ایامِ فاطمیہ یعنی عاشوراء ثانی

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Apr 1, 2020
  • 4 min read

تحریر: ایس ایم موسوی

روزنامہ پناہ، نیوز مارٹ 28 جنوری 2019


یہ ایام ، ایام فاطمیہ ہے یعنی ہر سال ۱۳ جمادی الاول سے لیکر ۳ جماد ی الثانی تک ۲۰ دنوں کے اس عرصے کو ایام فاطمیہ کہا جاتا ہے۔یہ وہ ایام ہیں جن میں حضرت محمدؐ کی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیھا کی شھادت کے مناسبت سے عزاداری کی جاتی ہے۔چونکہ تاریخ میں حضرت زہراء (س)کی شھادت کے سلسلے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔بعض تاریخی روایات کے مطابق آپ کی شھادت کا جانسوز واقعہ ۱۳ جمادی الاول جبکہ اکثر روایات کے مطابق ۳ جمادی الثانی کو پیش آیا ہے۔یہ ایام غم کوئی معمولی ایام نہیں اور نہ ہی اس کا بس ایک دن غم ہے۔ یہ بلکل ماہ محرم کی طرح ہے اس کا ہر ایک دن یوم عاشورا ہے ۔یہ اسی حق اور باطل کی ابتداء ہے ۔یہی وہ حق زہراء ہے ،جو صراط مستقیم ہے۔علی ان ولی اللہ پر پہلی شہادت ہے۔یہ کوئی عام ایام نہیں ہے، یہ عاشورا ہے۔ عاشورا سے پہلے جس کا پرسہ لینے کے لیے پیمبرؐ تشریف لاتے ہیں، وہ ایام فاطمیہ ہے۔اسی بنا پر علماء نے ان ۲۰ دنوں کو ایام فاطمیہ کا نام دے کر عزاداری منانے کا حکم دیا ہے۔چونکہ ایام فاطمیہ کا احیاء دین کا احیاء ہے ۔جس طرح محرم و صفر عزائے حسینیؑ کے ایام ہیں، اسی طرح سے جمادی الثانی ایامِ فاطمیہ ہیں ۔ایامِ فاطمیہ کو زندہ کرنا صرف تبرکاً ہی نہیں بلکہ حقیقت میں کربلا اور عاشورا کی طرح ان کا بھی فلسفہ ہے۔جس طرح عاشورا اور کربلا کے زندہ ہونے سے اسلام زندہ ہو گا اور دین کے زندہ ہونے سے بشریت زندہ ہو گی،اسی طرح فاطمیہ و ایامِ فاطمیہ کا احیاء کرنے سے دین زندہ ہو گا، اور دین کے زندہ ہونے سے دین دار بھی زندہ ہوں گے۔اس حوالے سے رہبر معظم فرماتے ہیں کہ ایام فاطمیہ کی مجلسیں زیادہ سی زیادہ منعقد کرو ،ہمیں چاہیے کہ ایام فاطمیہؑ کو عاشورا کی طرح برپا کریں۔اس دن اپنی دوکانوں کو بند رکھیں اور کاروبار کی تعطیل کریں،اور یوں جناب زہراؑ کا احترام کیجیے ،کاروباری افراد، دوکاندار اور بازار سے متعلق حضرات ان ایام کا احترام کریں اس دن تعطیل کیجیے تاکہ خدا کی منشاء سے جناب فاطمہ زہراؑ کی برکات سے بہرہ مند ہو سکیں۔کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجالس فاطمیہ کے بعد نذر کے موقع پر کسی عزادار نے رہبر معظم سے کہا کہ کچھ لوگ تعجب اور شکایت کرتے ہیں کہ آپ جسمانی ضعف و کمزوری کے باؤجود مجالس و عزاداری فاطمہ زہراء(س) میں شروع سے لیکر آخر تک شرکت کرتے ہیں جبکہ آپ کو چاہیے کہ اپنے گھر پہ ہی ایام فاطمیہ منائیں۔، تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ وہ لوگ نہیں جانتے کہ میں اپنے ملک کے پورے سال کا رزق بی بی فاطمہ(س) کی مجالس میں شرکت کرکے ہی حاصل کرتا ہوں۔اور مرحوم آیت اللہ تقی بہجت نے فرمایا!ایام فاطمیہ میں کالے کپڑے پہنو کوئی پوچھے کہ محرم نہیں ہے کیوں کالے کپڑے پہنے ہو تو یہ مت کہنا کہ فاطمہ (س) کا یوم شھادت ہے، بلکہ یہ کہو نبی کی بیٹی کا سوگ ہے۔ آیت اللہ صافی گلپائیگانی ایام فاطمیہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ فاطمیہ ایک تاریخ ہے۔فاطمیہ یعنی ظالموں کے سرپر فریاد،فاطمیہ یعنی حق کی باطل پر کامیابی کی خاطر جہاد،فاطمیہ یعنی حضرت مہدی(عج) کی عالمی اور الہٰی حکومت کا دن ہے۔جی ہاں !فاطمیہ عاشورا ہے،فاطمیہ شب قدر ہے،فاطمیہ غدیر اور نیمہ شعبان ہے،فاطمیہ یعنی ظلمت پر نور کی کامیابی کا دن ہے۔اگر دیکھا جائے تودنیا میں کسی بھی عورت کی زندکی کم از کم تین اہم مراحل (بیٹی ، بیوی اور ماں)سے گزرتی ہیں ۔البتہ حضرت زہراء(س) کی زندگی کے ہر پہلو اسوہ نمونہ ہے۔چونکہ بیٹی کے دوران آپ نے اپنے والد گرامی کے ساتھ ایسی برتاؤ روا رکھی کی آپ کو ام ابیھا یعنی اپنے باپ کی ماں کا لقب پایا یعنی آپ کی خدمت اس قدر تھی کی گویا کوئی ماں اپنے لال کے لیے جیسے خدمات انجام دیتی ہو۔اور بیوی کے زمانے میں آپ کی خدمات اس قدر نمایاں تھی کہ فزتُ برب الکعبہ کے دعویدار مولا علی ؑ نے فرمایا میری کامیابی کے پیچھے فاطمہ (س) کا ہاتھ ہے ۔اگر فاطمہ میرے ساتھ نہ ہوتیں تو علی کبھی کامیاب نہ ہوتے۔اور جب آپ ماں کی درجے پہ فائز ہوئی تو اپنے اولادوں کی اس طرح تربیت فرماتیں ہیں کہ جوانان جنت کی سرداری آپ کے دونوں فرزندوں کے حصے میں آجاتی ہے۔حضرت فاطمہ الزھرا(س)اپنی مختصر سی عمر میں سیدۃالنساء العالمین کے درجہ پرفائزہیں۔اس کا مطلب یہ ہواکہ یہ خاتون تاریخ کی تمام بزرگ اور مقدس خواتین سے افضل ہیں،کیا سبب ہے کونسی طاقت ہے یہ کونسی عمیق باطنی قدرت ہے جو ایک انسان کو اتنی کم مدت میں معرفت،عبودیت،تقدّس،اور روحانی بلندیوں کا آسمان بنادیتی ہے ،یہ خود اسلام کا ایک معجزہ ہے۔حضرت فاطمۃ الزہرا(س) نے فرمایا خداکی قسم !اگر لوگ حق کو حقدار کے سپرد کردیتے اور نبیؐ کی عترت کی پیروی کرتے تو دو افراد بھی خدا کے بارے میں اختلاف نہ کرتے۔(یعنی پورے عالم میں اسلامی حکومت ہوتی)آپ سلسلہ عصمت کی تیسری کڑی ہیں۔ آپ کی ولادت باسعادت ۲۰ جمادی الثانی ۵ بعثت کو مکہ میں ہوئی آپ کے والد گرامی حضرت محمد مصطفیٰؐ اور والدہ ماجدہ جناب حضرت خدیجۃ الکبریٰ ہیں اور آپ کی شھادت ۱۳ جماد ی الاول یا ۳ جمادی الثانی ۱۱ ہجری کو ہوئی ۔ آپ جنت البقیع (مدینہ) میں مدفن ہیں۔یوں آپ نے کل۱۸ سال اس دنیا میں عمر گزاری اور اسی مختصرعرصے میں تا قیامت آنے والی خواتین بلکہ نہ فقد خواتین تمام انسانیت کے لیے اسوۂ نمونہ کے طور پر نمایاں رہیں مگر کلمہ گو مسلمانوں نے آپ کے بابا کی رحلت کے بعد ایسی مصیبتیں ڈھائے کہ ۱۸ سال کی عمر میں آپ کی کمر خم ہوگئی بال سفید ہوگئے اور آپ کو کہنا پڑا اے بابا! آپ کے بعد تیری امت نے مجھ پہ ایسے مصائب ڈھائے کہ اگر یہ روشن دنوں پہ پڑتی تو اندھیری رات میں بدل جاتی۔ہائے افسوس اے بنت محمدؐ تیری قسمت میں یہ تو نہیں تھا کہ پہلو بھی شکستہ ہو،شکم میں محسن بھی شھید ہوجائے اور اب تک تیری لحد بھی بغیر سائیہ اور چراغ کے رہے۔ اس سے زیادہ تعجب کی بات ہے کہ مسلمان اپنے رسول کی لاڈلی بیٹی کی شھادت سے بھی بے خبر ہیں. اگر ہم حقیقی معنوں میں ایام فاطمیہ بھی محرم کی طرح منائیں تو یزید کی طرح بی بی زہراء(س) کے قاتل بھی بے نقاب ہوجائیں گے...

اے خاک مدینہ تیری ذروں میں ابھی تک

ہم بنتِ پیمبر کی لحد ڈھونڈ رہے ہیں

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page