top of page

اہلیان شگر اور کھرمنگ کو ضلع مبارک

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Mar 30, 2020
  • 4 min read

تحریر: ایس ایم موسوی

23 مئی 2013 روزنامہ K2


حقیقت میں دیکھا جائے تو کوئی بھی سیاسی پارٹی گلگت بلتستان کے ساتھ مخلص نہیں ہے کیونکہ اگر مخلص ہوتی تو آج تک گلگت بلتستان کے عوام اپنے حقوق سے محروم نہ رہتے، مگر پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی کطھ خدمات اس خطے میں ضرور ہیں اسی وجہ سے آج تک گلگت بلتستان خصوصا بلتستان کے عوام میں اس پارٹی کے ساتھ وفادار ہیں۔ مگر وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ اس پارٹی کے رنگ بھی بدلتے گئے اور اب اس پارٹی میں کچھ مفادات پرست لوگ شامل ہوگئے ہیں جو صرف عوام کو دھوکہ دینے اور اپنے نام روشن کرنے کےلیے اس پارٹی کو استعمال کررہے ہیں۔ اگر یہی صورت حال رہی تو اس پارٹی کا خدا ہی حافظ۔ یہ مفاد پرست لوگ صرف عوام کو دھوکہ دینے کی نہیں بلکہ خود PPP کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ لہذا ان کو اصلیت کو پہچانے بغیر ان پر اعتماد کرتے ہوئے یونہی ان کے ساتھ چلتے رہے تو یہ PPP کے لیے آستین کا سانپ ثابت ہوگا۔ مگر کچھ لوگ آج بھی ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کے تحت کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں نہیں معلوم ان کے پیچھے بھی حقیقت کیا ہے۔ جیسے کہ حال ہی میں گلگت بلتستان کے وزیر اعلی سید مہدی شاہ نے شگر اور کھرمنگ کو ضلع بناکر عوام کہ دل جیت لئیے۔ اس موقع پر ہمیں بہت خوشی ہوئی اور میں نے ذاتی طور پر شگر اور کھرمنگ کے عوام کو مبارک بادی کے ساتھ وزیر اعلی سید مہدی شاہ سمیت شگر اور کھرمنگ کے عوامی نمائندوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ میرا تعلق شگر سے ہے نہ کھرمنگ سے اور نہ ہی وہاں ضلع بننے سے میرا کوئی ذاتی مفاد ہے۔ میرا تعلق سکردو حلقہ دو کے ایک پسماندہ ترین علاقہ کواردو سے ہے۔ جس کو خصوصی طور پر تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ مگر شگر اور کھرمنگ کے ضلع بننے سے مجھے خوشی اس بات کی ہوئی کہ آج بھی کچھ لوگ ذوالفقار بھٹو کی مشن پر کام کررہے ہیں مگر ان کے پیچھے جو مفاد پرست لوگ ہیں ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ شگر جب ضلع بنا تو تقریر سے خطاب کرتے ہوئے ہمارے حلقے کے نامزد عوامی نمائندہ جناب شیخ نثار سرباز نے فرمایا "شگر کے عوام اپنی مقصد میں کامیاب ہوگئے دعا کریں ہم بھی اپنی مقاصد میں کامیاب ہوجاوں" اس پر ہم سوچ رہے تھے کہ شیخ صاحب کا مقصد کیا ہوسکتا ہے۔ کیا اس نے ہمارے لیے بھی کچھ سوچا ہے۔؟ یہاں سوچا تو ہمارے بارے میں ہی تھا مگر پہلے کی طرح ہمارے توقعات کے خلاف کیونکہ شیخ صاحب کا مقصد یہ تھا کہ کواردو قمرا کو شگر ضلع میں شامل کیا جائے تاکہ آنے والے تمام ترقیاتی کاموں سے بھی مکمل محروم رہے۔ کیونکہ جب کھرمنگ ضلع بننے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نے اعلان کیا تھا کہ "سکردو میں دو سب ڈویژن بنیں گے" اور اگر خدا کرے ایسا ہوجائے تو اس وقت ہمارے علاقے کےلیے کچھ فائدہ حاصل ہوسکتے ہیں اگرچہ اس کا بھی یقین نہیں مگر کچھ امید کرسکتے ہیں اس لیے شیخ صاحب ہمیں جلدی سے شگر ضلع میں شامل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ترقی بھی اپنے خاص علاقوں میں کرے اقر کواردو قمراہ کے علاقہ کو مکمل محروم رکھے مگر ہم ایسی کسی بھی ناجائز مقصد کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے کواردو قمراہ اتنی بڑی آبافی پر مشتمل ہے کہ حلقہ نمبر دو کے کسی بھی نمائندہ کی کامیابی انہی دو علاقوں کے ووٹ پر منحصر ہے اس کے باوجود ہمارے ہی ووٹ سے جیت کر ہمارے علاقے کے عوام خواب و حسرت کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جب کسی کونے میں کوئی ترقیاتئ کام ہوجائے تو مہدی شاہ کی تعریف اور PPP کے نعرے لگانے پہنچ جاتے ہیں مگر غریب عوام کی فریاد سننے کا ٹائم نہیں ملتا۔ صرف PPP کے معرے لگانے اور مہدی شاہ کی تعریف کرنے سے وفاداری ثابت نہیں ہوتی اپنے وفاداری ثابت کرنے کےلیے آپ نے ووٹ لیتے وقت ہم سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کربا ہوگا۔ خدا را صرف اپنے خاص بندوں کی تعریف سے نکل کر کچھ ہمارا بھی سوچیں۔ الیکشن کے وقت بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ تعلیم، بجلی، روٹ وغیرہ کے نعرے لگانے والے الیکشن کے نعد ایسے غائب ہوجاتے ہیں کہ سارا سال ہم ڈھونڈتے پھرتے ہیں تب بھی نہیں ملتے۔ سکردو کے حلقہ 2 ہونے کے نابے ہمارے اس علاقے میں تمام سہولیات میسر ہونی چاہیے مگر اس پسماندہ علاقہ میں نہ ہی تعلیمی نظام بہتر ہے نہ ہی سڑکیں مظبوط اور نہ ہی مریضوں کےلیے ہسپتال کی کوئی سہولت موجود ہے۔ کواردو قمراہ کا علاقہ اگرطہ تمام تر سہولیات سے محروم ہے مگر یہاں کے عوام بےوفا نہیں۔ مجھے اس بات کا خوب اندازہ ہورہا ہت کہ ہم کس قدر پیچھے رہ چکے ہیں کواردو کی اتنی بڑی آبادی پر صرف ایک ہائی اسکول کا ہونا ناکافی ہے اور خصوصا لڑکیوں کےلیے اور بھی زیادہ مسئلہ ہے کہ مڈل کے بعد نہیں پڑھ سکتیں کیونکہ ہمارے علاقے میں لڑکیوں کےلیے مڈل سے آگے کا سکول ہی نہیں ہے بلکہ مڈل تک کا بھی نہیں یہ تو ہمارے کچھ بزرگ حضرات کی مرہون منت ہے جو آپس میں مل بیٹھ کر مڈل سکول چلارہے ہیں گورنمنٹ کی طرف سے ان پر بھی کوئی توجہ نہیں ہے۔ لہذا ہمارے علاقے میں کم از کم لڑکوں کےلیے کالج اور لڑکیوں کےلیے میٹرک کی سطح تک تعلیم حاصل کرنے کی سہولت انتہائی ضروری ہے کیونکہ باقی تمام ترقیاتی کام تعلیم پر ہی منحصر ہے اگر تعلیمی نظام بہتر ہوجائے تو باقی اتنا مشکل نہیں ہوتا۔ اور اگر ایسا نہیں کرسکتے تو ایسے لوگوں کو آئندہ آنے والے انتخابات میں ہمارے علاقے سے ووٹ مانگنے کا کوئی حق نہیں۔ آج تک ہمیں اندھیروں میں رکھا گیا مگر اب ہم سمجھ چکے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔

عرش والے میری توقیر سلامت رکھنا🤲🤲

فرش کے سارے خداوں سے الجھ بیٹھا ہوں

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page