top of page

آئمہ کی ''ولادت'' ہوتی ہے یا نزول و ظہور؟

  • Writer: S M Mosavi
    S M Mosavi
  • Apr 6, 2020
  • 5 min read

تحریر: ایس ایم موسوی

روزنامہ ترجمان، سلام، بیدار، پناہ، نیوز مارٹ روالپنڈی 06 اپریل 2020

کچھ سالوں سے ایک خاص طبقہ شیعوں میں ایک لفظی بحث چھیڑے ہوئے ہیں اور ایڑی چوٹی کا زور لگا کر کہتے ہیں کہ ائمہ معصومین ؑکی ولادت نہیں بلکہ نزول اور ظہور ہوتا ہے ولادت تو ہم انسانوں کی ہوتی ہے۔ ان کے پاس دلیل کے طور پر کہنے کو یہی ملتا ہے کہ ائمہ کا تعلق نور سے ہے اور نور یا ظاہر کرتا ہے یا نازل ہوتا ہے ولادت نہیں ہوتی۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ائمہ کی ولادت عام طور پر ہونے والی ولادتوں سے مختلف ضرور ہے لیکن اس کو نزول یا ظہور کا نام دینا کہیں سے بھی ثابت نہیں۔ چونکہ ہم پیروکار ہیں ہم نے وہی کچھ کہنا اور عمل کرنا ہے جس کی خود ائمہ نے ہمیں حکم دی ہو اس کے علاوہ اگر ہم اپنی طرف سے کسی چیز کو شامل کریں گے تو وہ نافرمانی ہوگی۔ ائمہ خود اپنی ولادت کے بارے میں کئی مقامات پر 'ولدت ' کا لفظ استعمال کیا ہے کسی بھی معصوم نے اپنی یا دوسرے کسی معصوم کی ولادت کے بارے میں لفظ نزول یا ظہور کا لفظ استعال نہیں کیا۔ قران نے بھی انبیا اور ائمہ کی ولادت کے حوالے سے 'ولدت' کا ہی لفظ استعمال کیا ہے۔ قران مجید میں کل 24 انبیاء کا ذکر ہے ان میں سب سے زیادہ حضرت عیسی کا ذکر ہے اور حضرت عیسی کی ولادت کے بارے میں فرماتے ہیں سلام علی یوم ولدت یعنی اپنے روز ولادت پر انہوں نے سلام بھیجا ہے یہاں لفظ ظہور یا نزول کا استعمال نہیں ہوا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت عیسی ایسا نبی ہے جس کی ولادت ایسی نہیں ہوئی جیسے سب کی ہوتی ہے۔ بغیر باپ کے دنیا میں آگئے اگر ظہور یا نزول کہنا ہوتا تو یہاں سب سے زیادہ مناسب تھا۔ مگر یہاں لفظ 'ولدت' آیا ہے۔ تو یہاں یہ سوال آتا ہے پھر یہ نزول اور ظہور کی روایات اچانک کہاں سے آٹپکی ہے تو آئے ذرا ہم اس کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ لفظ ظہور امام زمانہ کے ساتھ مختص ہے اہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ امام زمانہ عج کی ولادت ہوچکی اس وقت پردہ غیبت میں ہیں اور ایک دن آپ ظہور فرمائیں گے۔ ہم آپ کے ظہور کا انتظار کررہے ہیں اور اس انتظار کو بھی ہم عبادت سمجھتے ہیں۔ سازشی عناصر اب اس لفظ ظہور کو ہر ائمہ کی ولادت کے ساتھ کثرت سے استعمال کرکے ہمارے اس عقیدے کو جو امام زمانہ کے متعلق ہے کمزور کیا جارہا ہے۔ چونکہ جب ہر معصوم کا ظہور ہی ہونا ہے تو ہم کس ظہور کا انتظار کر رہے ہیں؟ امام زمانہ کی ولادت(یا ظہور کا عقیدہ رکھنے والوں کے نزدیک) امام کا ظہور تو ۱۵ شعبان ۵۵۲ھ کو ہوچکی ہے۔ اب یہاں مزید کسی ظہور کا انتظار کرنا بے مقصد ہوجاتا ہے۔ جبکہ آپ کے ظہور کے متعلق بے شمار احادیث موجود ہیں کہ آپکا ظہور آخری زمانے میں ہوگا۔ لہذا اگر کچھ لوگ یہ مانتے ہیں کہ معصوم کا نزول یا ظہور ہوتا ہے تو انکو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ امام زمانہ عج ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ اور اس کا سب سے بڑا نقصان یہی ہوگا کہ مومنین کے ذہن میں امام زمانہ کے ظہور کی جو خصوصیت اور چاہت ہے وہ بلکل ختم ہوجائے گی۔اسی طرح ظہور و نزول کے قائل افراد کو زیارت وارثہ کابھی انکار کرنا ہوگا کیونکہ زیارت وارثہ میں امام معصوم ع نے فرمایا -اشھد انک کنت نورا فی الاصلاب الشامخۃ والارحام المطھرۃ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ بلند ترین اصلاب اور پاکیزہ ترین ارحام میں نور الہی بن کر رہے۔ (امام معصوم ع تو کسی چیز کے ہونے کی گواہی دیں اور یہ لوگ صاف انکار کریں، تو کیا کسی شیعہ کو یہ نظریہ قابل قبول ہوگا؟ ہرگز نہیں)یا اسی طرح امام معصوم ع فرماتے ہیں کہ اشھد ان الائمۃ من ولدک کلمۃ التقویٰ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپکی اولاد کے امام سب کلمہ تقوی ہیں۔ یہ بات یاد رہے کہ (صلب و رحم اور اولاد کا تعلق ولادت) سے ہوتا ہے نا کہ نزول و ظہور سے۔ اور جہاں ظہور و نزول ہو وہاں ان الفاظ کا یعنی اصلاب و ارحام کے استعمال ہرگز نہیں کیے جاتے۔ دوسری بات یہ کہ وہ تمام زیارتیں اور دعائیں جو معارف ایمان و عقائد سے بھرپور ہیں اور جن میں دشمنان اسلام اور دشمنان محمد وآل محمد پر لعن کی گئی ہے ان تمام سے انکار کردیا جائے چونکہ جب کسی نے شھید ہی نہیں کیا تو لعنت کس بات کی؟ ولادت کی جگہ ظہور یا نزول لانے کا اصل مقصد ولادت کے عقیدے کو ختم کرنا اور پھر شھادت سے بھی انکاری کرانا ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے جب کوئی پیدا ہی نہیں ہوا تو قتل بھی نہیں ہوگا۔ اور دشمن یہی چاہتا ہے کہ جن کے ہاتھ ائمہ کے خونِ ناحق سے رنگین ہوا ہے ان کے مکروہ چہرے کو دنیا سے چھپایا جائے۔ لہذا اس خون ناحق کو رائیگاں جانے سے بچانے کے لیے ہمیں بصیرت سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ورنہ بے بصیرت لوگوں کے ہاتھوں ہی امام وقت کا قتل ہوجاتا ہے اور اسے اتنی بڑی گناہ کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ ہم بڑے شوق سے شمر کو برا بھلا تو کہتے ہیں مگر اس کی بے بصیرتی اور نادانی سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔ شمر کو یہ معلوم تھا کہ حسینؑ حق پر ہے۔ مگر اس کی بے بصیرتی نے اسے امام وقت کو شھید کرنے پر مجبور کردیا۔ اسی طرح ہم بھی اگر بصیرت کا مظاہرہ نہیں کریں گے تو بعید نہیں کل کو ہمارے امام ہی ہمارے ہاتھوں شھید ہوجائے۔ دوسری اہم بات مسلمان خاص کر فقہ جعفریہ کے نزدیک جو جزبہ شھادت پایا جاتا ہے وہ دشمن کے لیے ناقابل شکست چلینج بن چکا ہے۔ حسین ابن علی ؑ نے اپنے پیروکاروں کو ذلت کی زندگی پر شھادت کو فوقیت دینے کا طریقہ سکھایا ہے یہی جزبہ ایمانی آج دشمنوں کو تسخیر کرنے کے لیے کافی ہے اس لیے اب اس پر مختلف انداز میں حملہ کرکے اس عقیدے کو بھی کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی طرح ایک گروہ عقیدت میں اس حد تک آگئے نکل گئے ہیں کہ امام علیؑ کی ولادت کے دن یوم علی کے نام پرمیوزیکل شو کا انعقاد کرنا شروع کردیا ہے۔ معاذاللہ کیا یہی ہمارا عقیدہ ہے؟ عقیدت میں تو ہم اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ معصیت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ لیکن نصرت کے میدان میں صدیاں گزرنے کے باوجود بھی آج ائمہ یکتا و تنہا نظر آتے ہیں۔ ابن ملجم کا واقعہ تو سب کو معلوم ہے کہ وہ عقیدے میں اس قدر غرق تھا کہ ایک وقت تھا وہ مولا علیؑ سے دوری برداشت نہیں کرتا تھا مگر اس کی بے بصیرتی کی وجہ سے وقت نے اسی کے ہاتھوں مولا کو شھید کروادیا۔ کیا مولا علیؑ کے ماننے والے ایسے ہوسکتے ہیں؟ کیا ہمارے ان اعمال سے مولا خوش ہونگے؟ ہمیں اس طرف توجہ دینے کہ ضرورت ہے کہ ہمارا تعلق کس مکتب سے ہے؟ ہم کہاں جارہے ہیں؟ اور کس موڑ پر کھڑے ہیں؟ ہم عقیدت کے نام پر اس حد تک اندھے ہوچکے ہیں کہ ولادت کے لفظ سنتے ہیں آگ بگولا ہوجاتے ہیں،اور ائمہ کے متعلق ولادت یا پیدا ہونے کی بات کرنے والوں کا توہین کرنے کے جرم میں گردنین اڑادینے کے لیے بھی تیارہوجاتے ہیں۔ لیکن اتنے بڑے عقیدت مندوں کو کبھی حسینؑ ِ وقت کی ہل من کی صدا سنائی نہیں دیتی۔ اور اگر سنائی بھی دے تو اپنے کانوں کو زبردستی بند کرکے تسبیح کا سہارا لیکر التماس دعا کرتے رہتے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ ہم نے دشمن کی سازشوں کو سمجھا ہی نہیں ہے ہم نے دشمنوں کو بہت آسان سمجھا ہوا ہے دوسرے لفظوں میں ہمیں دشمنوں کی پہچان ہی نہیں ہے۔ دشمن ہمارے عقیدے پر ایسے وار کررہے ہیں کہ ہمیں محسوس بھی ہونے نہیں دے رہا اور ہم لاشعوری طور پر اپنے عقیدے خراب کررہے ہیں۔

Comments


+989017529577

Subscribe Form

  • Facebook

©2020 by Karakarum News. Proudly created with Wix.com

bottom of page