5 اکتوبر عالمی یوم اساتذہ
- S M Mosavi
- Apr 1, 2020
- 10 min read
تحریر: ایس ایم موسوی
6 اکتوبر 2018 روزنامہ سلام، بیدار
پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ''اساتذہ کا عالمی دن'' یا ''ورلڈ ٹیچرزڈے'' ہرسال 5 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔یوم اساتذہ منانے کا مقصد معاشرے میں اساتذہ کے اہم کردار کو اجاگرکرنا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے دنیا بھرمیں کئی سیمینارز، کانفرنسیں اورتقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ دنیا بھر میں معیار تعلیم کی بہتری بھی ان ہزاریہ پروگرامز کا حصہ ہے۔ اس عظیم مقصد کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ معاشرے میں اساتذہ کو ان کا جائز مقام ملے اور انہیں دور جدید میں نظام تعلیم میں ہونے والی تبدیلیوں سے وقتًا فوقتًا باخبر رکھا جائے۔کہتے ہیں استاد روحانی باپ ہوتا ہے جو طلباء کی ذہنی نشو نما کرتا ہے۔معاشرے میں جہاں ماں باپ کا کردار بچے کے لیے اہم ہے، وہاں استاد کو بھی اہم مقام حاصل ہے۔ ماں باپ بچوں کو لَفظ بہ لفظ سکھاتے ہیں، ان کی اچھی طرح سے نشوونما کرتے ہیں، ان کو اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں مگر استاد وہ عظیم رہنما ہے جو آدمی کو انسان بنا دیتا ہے، آدمی کو حیوانیت کے چُنگل سے نکال کر انسانیت کے گُر سے آشنا کرواتا ہے۔ استاد آدمی کو یہ بتاتا ہے کہ معاشرہ میں لوگوں کے ساتھ کیسے رشتے قائم رکھنے چاہئیں۔ استاد، ایک معمولی سے آدمی کو آسمان تک پہنچاتا ہے۔والدین کے بعد استاد کوسب سے زیادہ محترم حیثیت حاصل ہے، بادشاہ ہوں یا سلطنتوں کے شہنشاہ، خلیفہ ہوں یا ولی اللہ سبھی اپنے استاد کے آگے ادب و احترام کے تمام تقاضے پورے کرتے نظر آئیں گے ان ہی شفیق ہستیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہر سال 5 اکتوبر کو اساتذہ کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔والدین بچوں کی پرورش اور اساتذہ ذہنی پرورش کرکے انہیں مستقبل کا کار آمد شہری بناتے ہیں۔ 2009ء میں عالمی یوم اساتذہ کے حوالے سے یہ ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ 2015ء تک دنیابھر میں تعلیم کو عام کیا جائے گااور بلند معیار تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں پیشہ ور اساتذہ کو ان کا جائز مقام ملے اورانہیں دورجدید میں نظام تعلیم میں ہونے والی تبدیلیوں سے وقتًا فوقتًا باخبر کیا جائے۔اقوام متحدہ کے ہزاریہ ترقیاتی اہداف میں بھی تعلیم کے شعبے کیلئے کئی اہداف کا تعین کیا گیا ہے جن میں دنیا بھر میں اس کا فروغ اور تمام ملکوں اور علاقوں کے افراد کی اس تک رسائی ممکن بنانا بھی شامل ہے۔چونکہ کسی بھی انسان کی کامیابی کے پیچھے اچھے استاد کی بہترین تربیت کار فرما ہوتی ہے۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے استاد میسر آجاتے ہیں۔ ایک معمولی سے نوخیز بچے سے لے کر ایک کامیاب فرد تک سارا سفر اساتذہ کا مرہون منت ہے۔ وہ ایک طالب علم میں جس طرح کا رنگ بھرنا چاہیں بھر سکتے ہیں۔ استاد ایک چراغ ہے جو تاریک راہوں میں روشنی کے وجود کو برقرار رکھتا ہے۔ اُستاد ایک چراغ ہے جو تاریک راہوں میں روشنی کے وجود کو برقرار رکھتا ہے۔ اُستاد وہ پھول ہے جو اپنی خوشبو سے معاشرے میں امن، مہرومحبت و دوستی کا پیغام پہنچاتا ہے۔ اُستاد ایک ایسا رہنما ہے جو آدمی کو زندگی کی گمراہیوں سے نکال کر منزل کی طرف گامزن کرتا ہے۔معاشرے میں جہاں ماں باپ کا کردار بچے کے لیے اہم ہے، وہاں استاد کو بھی اہم مقام حاصل ہے۔ ماں باپ بچوں کو لَفظ بہ لفظ سکھاتے ہیں، ان کی اچھی طرح سے نشوونما کرتے ہیں، ان کو اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں مگر استاد وہ عظیم رہنما ہے جو آدمی کو انسان بنا دیتا ہے، آدمی کو حیوانیت کے چُنگل سے نکال کر انسانیت کے گُر سے آشنا کرواتا ہے۔ استاد آدمی کو یہ بتاتا ہے کہ معاشرہ میں لوگوں کے ساتھ کیسے رشتے قائم رکھنے چاہئیں۔ استاد، ایک معمولی سے آدمی کو آسمان تک پہنچا دیتا ہے۔ استاد مینار نور ہے جو اندھیرے میں ہمیں راہ دکھلاتا ہے۔ ایک سیڑھی ہے جو ہمیں بلندی پر پہنچادیتی ہے۔ ایک انمول تحفہ ہے جس کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ایک محقق کا قول ہے کہ ’’استاد باشاہ نہیں ہوتا لیکن بادشاہ پیدا کرتا ہے۔‘‘ نیل آرم اسٹرانگ چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان کے طور پر مشہور ہے، اس نے بھی کبھی کسی استاد کے ہاں حروف تہجی سیکھے ہوں گے۔ اس نے بھی کسی استاد سے دوسروں کو سلام کرنے کی عادت سیکھی ہوگی۔ دنیا کی عظیم شخصیات جن کو دیکھنے کے لیے ہم بے چین رہتے ہیں، ان کو کسی استاد نے ہی اس مقام تک پہنچایا ہے۔آج اگر ہم سقراط کو سچ کا علمبردار کہتے ہیں جس کی وجہ سے آج دنیا میں سچائی اور حق کا نام زندہ ہے، اس نے بھی کسی استاد کے پاس پہلا لفظ سیکھا ہوگا۔ اگر آج ہم بات بات پہ ارسطو، افلاطون یا جبران کا قول پڑھ کر رائے دیتے ہیں، یہ بھی استاد کا کمال ہے جس نے ایسی عظیم شخصیات پیدا کیں۔ آج ہم دنیا کے جس عظیم مفکر و تخلیق کاروں کی سوچ، فکر اور نظریے کے ماننے والے ہیں، انہوں نے بھی یقیناًکسی استاد سے ہی ا، ب، پ سیکھا ہے۔کیونکہ
چونکہ استادافراد کی تربیت کرکے ایک مہذب معاشرہ تشکیل دیتا ہے گویا بادشاہ لوگوں پر حکومت کرتے ہیں جب کہ بادشاہوں پر معلّمین کی حکومت ہوتی ہے۔ مصور پاکستان،شاعر مشرق علامہ محمد اقبال ؒ نے معلّم کی حیثیت،عظمت اور اہمیت کو بہت احسن انداز میں بیان کیا ہے کہ استاددراصل قوم کا محافظ ہوتاہے کیونکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو سنوار نا اور ان کو ملک و ملت کی خدمت کے قابل بنانا ان ہی کے سپرد ہے،سب محنتوں میں اعلٰی درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے بیش قیمت کارگزاری معلّموں کی ہے،معلّم کا فرض سب سے زیادہ مشکل اور اہم ہے کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سر چشمہ اس کی محنت ہے۔معلّم کی یہ عظمت،مقام و مرتبہ اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ صفات حسنہ اور اخلاق حمیدہ کا جامع،صبر واخلاص کا پیکر،علم و تحقیق کے خمیر میں گوندا ہواہو۔استاد کا مطمع نظر رضا خداوندی، انسانیت کی تربیت اور نونہالان قوم کو علم ومعرفت سے روشناس کرانے کا جذبہ ہونا چاہیے۔ معلّم کے قول و عمل میں یکسانیت،صداقت،شجاعت،قوت برداشت،معاملہ فہمی،تحمل مزاجی اور استقامت جیسے اوصاف نمایاں ہونے چاہیے کیونکہ شاگرد استاد کا عکس ہوا کرتے ہیں۔بزرگوں کا قول ہے کہ اساتذہ نیک تو طلبہ بھی نیک،اساتذہ خود اپنے بڑوں کے قدردان تو طلبہ خود ان اساتذہ کے قدر دان ہوں گے العرض اساتذہ کرام شریعت اور سنت کے پابند،اپنے منصب کے قدر دان،طلبہ پر مشفق اورجذبہ خیر سگالی سے سرشارہوں تو ان کے ہاتھوں تربیت پانے والی نسلیں بھی ان ہی صفات حمیدہ کی حامل ہوں گی۔ معلّم کا جذبہ یہ ہونا چاہیے کہ میرے ذریعے معاشر ے میں ایسے نونہال تیار ہو جائیں جو امت محمدیہ ﷺ کی نشاۃ ثانیہ کا فریضہ سرانجام دے سکیں، وہ ایسے تناور درخت کی مانند ہوں جو سب کو چھاؤں اور پھل دیں،جوتحقیق و جستجو کے میدانوں کے شاہسوار اور علم کے شناور ہوں،جو دنیا کو امن و سلامتی کادرس اور محبت کا پیغام دینے والے ہوں۔ایک معلّم کی یہ آرزو ہونی چاہیے کہ میری ساری زندگی کی محنت اور جگر سوزی اس لیے ہے کہ قیامت کے دن میرا حشر معلّمین، امت کے معماروں،نگرانوں،قائدین اور رہبروں کے ساتھ ہو۔اللہ رب العزت نے انسان کی تخلیق کو احسن تقویم ارشادفرمایاہے،مصوری کا یہ عظیم شاہکار دنیائے رنگ وبو میں خالق کائنات کی نیابت کا حقدار بھی ٹھہرا۔اشرف المخلوقات، مسجود ملائکہ اور خلیفۃ اللہ فی الارض سے متصف حضرت انسان نے یہ ساری عظمتیں اور رفعتیں صرف اور صرف علم کی وجہ سے حاصل کی ہیں ورنہ عبادت و ریاضت،اطاعت و فرمانبرداری میں فرشتے کمال رکھتے تھے،ان کی شان امتثال کو اللہ کریم نے قرآن پاک میں بیان فرمایاہے کہ وہ اللہ کی کسی بات میں نافرمانی نہیں کرتے اور ان کو جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ (التحریم۔6)۔علم،عقل و شعور، فہم وادراک،تمیز، معرفت اور جستجو وہ بنیادی اوصاف تھے جن کی وجہ انسان باقی مخلوقات سے اشرف واعلیٰ اور ممتازقرار دیا گیا۔یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ حصول علم درس و مشاہدہ سمیت کئی خارجی ذرائع سے ہی ممکن ہوتا ہے،ان میں مرکزی حیثیت استاد اور معلّم ہی کی ہے،جس کے بغیر صحت مند معاشرہ کی تشکیل ناممکن ہے،معلّم ہی وہ اہم شخصیت ہے جو تعلیم وتربیت کا محور،منبہ ومرکز ہوتا ہے،ترقی یافتہ قوموں اور مہذب معاشروں میں استاد کوایک خاص مقام و مرتبہ اور نمایاں حیثیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ مہذب،توانا،پرامن اور باشعور معاشرے کا قیام استاد ہی مرہون منت ہے۔کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں استاد کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، یہی وہ محبت بھری ہستیاں ہیں جو کبھی نرم تو کبھی گرم ہوکر طلبا کی صلاحیتوں کو ابھارتی ہیں۔اساتذہ کے رویے جتنے خوبصورت ہونگے وہ اتنا ہی شاگردوں کے محبو ب اور قریب ہونگے۔
مگر بدبختی سے ہمارے معاشرے میں استادسے زیادہ کسی کرپٹ اور چور سیاسی پارٹی کے رہنما کا احترام کیا جاتاہے۔ ہمارے معاشرے میں استاد کو عام آدمی کی طرح جانا جاتا ہے اور حکومت کی جانب سے بھی استاد کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا رہی۔ اشفاق احمد لکھتے ہیں، ’’برطانیہ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر مجھ پرجرمانہ عائد کیا گیا، میں مصروفیات کی وجہ سے چالان جمع نہ کر سکا تو مجھے کورٹ میں پیش ہونا پڑا۔ کمرہ عدالت میں جج نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ نے کیوں چالان جمع نہیں کیا، تو میں نے کہا کہ میں ایک پروفیسر ہوں اکثر مصروف رہتا ہوں اس لیے میں چالان جمع نہیں کر سکا، تو جج نے بولا the teacher is in the court، اور جج سمیت سارے لوگ احتراماً کھڑے ہوگئے، اسی دن میں اس قوم کی ترقی کا راز جان گیا۔‘‘اس بات سے ظاہر ہے کہ دوسرے ملک جو آج ترقی کر چکے ہیں اور ہر لحاظ سے ہم سے آگے نکل چکے ہیں ان کی ترقی، امن و خوش حالی سب سے بڑا راز یہی ہے کہ وہاں ایک معلم کو ملک کے وزیراعظم سے بھی زیادہ عزت حاصل ہے۔ حضرت علی کا قول ہے کہ ’’اگر کوئی مجھے ایک لفظ بھی سکھا دے تو میں اس کو اپنا استاد مانتا ہوں۔‘‘ شعبہ تعلیم میں سب سے اہم جز استاد ہے، ہر طالب علم آج اپنے استاد کو سلام پیش کرے، انہیں تحفے دیں، کارڈ دیں اور ان سے روشن مستقبل کی دعائیں لیں۔کیونکہ شاعر کہتا ہے کہ
استاد قوموں کی تعمیر میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اچھے لوگوں کی وجہ سے اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور اچھے معاشرے سے ایک بہترین قوم تیار کی جا سکتی ہے۔ اساتذہ اپنے آج کو قربان کر کے بچوں کے کل کی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ دیگر معاشروں اور مذاہب کے مقابلے میں اگر اسلام میں استاد کے مقام کے بارے میں ذکر کیا جائے تو اسلام اساتذہ کی تکریم کا اس قدر قائل ہے کہ وہ انہیں روحانی باپ کا درجہ دیتا ہے۔ کسی بھی انسان کے والدین اس کو آسمان سے زمین پر لے کر آتے ہیں لیکن استاد اس کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے نتیجے میں اسے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ طالب علم کو آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچانے میں اساتذہ بہت نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شمار جگہوں پر اساتذہ کے احترام کا حکم دیا۔کتنے خوبصورت الفاظ ہیں یہ کسی کہ ایک استاد کی تعریف ان چند لفظوں میں سمیٹ دی گئی ،مگر بدقسمتی سے پاکستان میں معلم کو وہ شہرت و مقام حاصل نہیں ہے جو ہونا چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں استاد کی اہمیت نہ کل تھی اور نہ آج ہے۔ یہاں استاد کو معاشرے کے عام انسان کی طرح جانا جاتا ہے۔ اس وجہ یہ ہے کہ ہم ترقی یافتہ اکیسویں صدی میں رہ کر بھی اٹھارویں صدی جیسی زندگی بسر کر رہے ہیں۔پاکستان میں تعلیمی نظام صوبائی معاملات میں شامل ہے اور بیشتر صوبائی حکومتیں تعلیم کے لیے کئی ترغیبات بھی دیتی ہیں مگر مطلوبہ نتائج نہیں ملتے۔ معیار تعلیم ہے کہ ہر دن پست ہوتا جا رہا ہے۔ سرکاری اسکول اور کالج بنجر اور ان کے کلاس روم ویران کیوں ہیں؟ استاد کے کام کو ’’پیغمبری پیشہ‘‘ کہنے کی روایت بھی تسلیم لیکن کیا اساتذہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے ان مقولوں اور روایتوں پر عمل کر رہے ہیں یا معاشرے کے دیگر طبقات کی طرح استحصال کے عمل میں حصہ دار بن رہے ہیں۔صوبائی حکومتوں کے زیر انتظام محکمہ تعلیم ہے جس کے ملازمین کی کثیر تعداد اساتذہ پر مشتمل ہے۔ یہ سب سرکاری خزانے سے تنخواہیں پاتے ہیں جن میں وقتاً فوقتاً اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ پھر بھی سرکاری تعلیمی ادارے ویران اور کوچنگ سینٹرز آباد رہتے ہیں۔ اساتذہ کی ان داروں سے عدم دلچسپی جہاں وہ باقاعدہ ملازمت کرتے ہیں اور عوام کے ٹیکسز سے جمع ہونے الی رقم سے تنخواہ پاتے ہیں اس وقت اور تکلیف دہ صورت اختیار کر لیتی ہے جب قوم انھی اساتذہ کو نجی ٹیوشن سینٹرز اور کوچنگ سینٹرز پر بڑی تندہی اور انہماک سے کام کرتے ہوئے دیکھتی ہے۔ وہاں وہ وقت کی پابندی کرتے ہیں اور انتظامیہ کے ہر حکم پر سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ اگر یہ سب نجی اداروں یا ان کے مالکان سے ملنے والی تنخواہوں اور مراعات کا تقاضا ہے تو پھر سرکاری خزانے سے ملنے والی تنخواہوں اور مراعات کے تقاضے کیا ہوئے؟ ماضی میں اساتذہ کی تنخواہیں کم تھیں لیکن ان کا احترام بہت زیادہ تھا اب تنخواہوں میں قدرے اضافہ ہو چکا ہے لیکن احترام میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ معاشرتی اقدار کا زوال بھی ہو سکتا ہے لیکن اس زوال کو روکنے کے لیے اساتذہ کو بھی اپنا طرز عمل تبدیل کرنا ہو گا۔ اساتذہ آج بھی اپنے طلبا کے آئیڈیل ہیں اور پاکستان اپنی بقا اور ترقی کے لیے اساتذہ پر انحصار کرتا ہے۔ اس اعتماد کو بحال رکھنا اور مسابقت کے اس دور میں ثابت قدم رہنا اساتذہ ہی کو زیب دیتا ہے وہ ہمت ہار بیٹھیں تو پوری قوم ماضی کی تاریکیوں میں گم ہو جاتی ہے۔ آج کا دن اساتذہ کو ان کی اہمیت اور افادیت کا احساس دلادے تو یہی ہماری کامیابی ہے اور یہی اس عالمی دن کا مقصد ہے۔یہاں کے اساتذہ جو قوم کے معمار تیار کرتے ہیں، ان کی تنخواہ بہت کم ہے۔ جس سے ان کے گھر کا خرچہ تو پورا ہوجاتا ہے، لیکن ایک خوش حال زندگی گزارنے کے لیے انہیں دشوار گزار راستوں پہ چلنا پڑتا ہے۔ ایک معلم کے گھر کا ماہانہ خرچہ جب تنخواہ سے زیادہ ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ پڑھانے کے ساتھ ساتھ کوئی اورکوشش بھی کرتا ہو گا۔ یوں اس کا ذہن دوطرفہ ہو جاتا ہے، اور وہ درست طریقے سے پڑھانے کا اہل نہیں ہوتا۔اور کسی بھی قوم کی ترقی نسل نو کی تعلیم و تربیت پر منحصر ہے کسی دانشور نے کہا کہ اگر کسی معاشرے کی زوال چاہتے ہوتو وہاں کے تعلیمی نظام میں خلل ڈال دو اور جوانوں میں فحاشیت کو عام کرو تو ہتھیار اٹھائے بغیر جنگ جیت سکتے ہو۔شائد یہی وجہ ہو کہ آج ہمارے معاشرے میں کچھ استاد ایسے بھی ہیں جن کی بچوں کو تربیت دوسروں سے نفرت کرنا سکھانا ہوتا ہے۔ کچھ استاد نفرت سے چند قدم آگے بڑھ کر تکفیر کرنا سکھاتے ہیں اور نتیجہ کافر کافر کھیلنے تک پھیل جاتا ہے۔ پھر اس سے آگے کیا ہوتا ہے وہ آپ سبھی جانتے ہیں۔معاشرے کو امن پسند بنانا ہو یا فتنہ پھیلانا ہو استاد ہی اس کے ذمہ دار ہوتے ہیں استاد بچے کی درست تربیت کرے گا تو اس کا نام روشن ہو گا قوم و ملت کا سر فخر سے بلند ہو گا اور اگر استاد نفرت سکھائے گا تو شاگرد اسی کی پیروی کرتے ہوئے امن کی تباہی کا باعث بنے گا۔ہمیں ایسے اساتذہ کا راستہ روکنا ہو گا، ان سے اظہار بیزاری کرنا ہو گا کہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے ورنہ نتیجہ ایک ہی ہے، کافر کافر کھیلنا طاغوت طاغوت کھیلنا یا ایک دوسرے کو کوفی کوفی کہنا۔ #آخر_میں_ایک_طالب_علم_ہونے_کے_ناطے_اس_کاللم_کی_توسط_سے_ان_تمام_اساتیذ_کی_خدمت_میں_خراج_عقیدت_پیش_کرتا #ہوں_جن_سے_میں_نے_ایک_لفظ_بھی_سیکھا_ہو، اور ساتھ ہی حکومتِ وقت سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا استاد کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے معاشرے میں ان کے حقوق کا تحفظ کرے، اساتذہ کے بچوں کو مفت تعلیم دے، نیز انہیں دیگر سہولیاتِ زندگی فراہم کرے تاکہ ہمارا معاشرہ بہتر ترقی کی جانب گامزن ہو سکے۔





Comments