3 مئی یوم آزادی صحافت
- S M Mosavi
- Mar 31, 2020
- 5 min read
تحریر: ایس ایم موسوی
3 مئی 2018 روزنامہ سلام
دنیا بھر میں آج اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو کے زیر اہتمام یوم آزادی صحافت منایا جا رہا ہے۔ذرائع ابلاغ کو معاشرے کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے،اسلئے ہر سال3 مئی کو عالمی سطح پر اس چوتھے ستون کا عالمی دن منا یا جاتا ہے۔ عالمی یوم آزادی صحافت کواقوام متحدہ نے 1993میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں طے کیا تھا۔ اسی یوم کے حوالے سے نمیبیا میں اک سیمینار بھی منعقد ہوا۔ جس میں عوام کی بات کو مختلف ذرائع سے حصول کے بعد آزادانہ انداز میں سامنے لانے کیلئے عمل پر زور دیا گیا۔ آزادی پریس کی اہمیت کو بڑھانے اور اسے جاری رکھنے کیلئے تب سے اب تلک اس دن کو دنیا بھر کی صحافی برادری بھرپور اپنے انداز میں مناتی آئی ہے۔وطن عزیز سمیت پوری دنیا میں یکم مئی کو مزدور وں کا عالمی دنجبکہ 3مئی کو عالمی یوم آزادی صحافت منایا جاتا ہے۔ مختلف سمینار، مذاکرئے، مظاہرے اور تقاریب سمیت اس حق کے حصول کیلئے قراردیں بھی پیش اور پاس کی جاتی ہیں۔ ان صحافیوں سمیت اسی شعبے سے متعلق تمام ان افراد کو حراج تحسین پیش کیاجاتا ہے جنہیں اسی شعبے میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے نتیجے میں اپنی زندگیوں کی قربانی دینی پڑی۔ جنہیں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ اس دن اہل صحافت اس اس بات کی عہد تجدید کرتے ہیں کہ وہ ایک آزاد، ذمے داراور انتہاپسندوں کے ہولناک حملوں، دیگر پریشر گروپس اور پر تشدد عناصر یا ریاستی دباؤ سے بے خوف رہتے ہوئے ذمہ درانہ اطلاعات عوام تک پہنچانے کے ساتھ ان کی بنیادی حق کے لیے لڑتے رہیں گے جب کہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی یکسوئی سے جاری رکھنے کا بھی عزم کرتے ہیں۔اس دن کو منانے کا مقصد جہاں آزادی صحافت کی اہمیت افادیت صحافتی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالنا ہے وہاں معاشرے میں حق اور سچ کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عوام میں سیاسی مذہبی اور اخلاقی و سماجی شعورکی آگاہی بھی فراہم کرنا ہے۔اس دن عالمی یوم آزادی صحافت میں نمایاں اور کامیاب صحافیوں کو ان کی قربانیوں سمیت آگے لایا جاتا ہے اور عوام سمیت حکمرانوں کو یہ بتا یا جاتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کا کردار کس قدر اہمیت کا حامل ہے اور اس کے ساتھ کسی بھی معاشرے میں ایک چوتھے ستون کی حیثیت سے وہ کس ذمہ داری کے ساتھ اپنے کاموں کو سرانجام دیتے ہیں۔ قیام پاکستان کی مہم میں بھی مولانا محمد علی جوہر جیسے متعدد لکھاریوں اور صحافیوں نے بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے آزادی کا احساس مسلمانوں میں اجاگر کرنے اور اس کے ساتھ اسے آگے بڑھانے کیلئے احسن انداز میں اپنے کاموں کو سرانجام دیا۔پاکستان میں ایک دور ایسا بھی گذرا کہ جب صحافی اپنی بات کو لکھتے اور بولتے ہوئے بہت سوچ بچار سے کام لیا کرتا تھا ایک ٹی وی چینل ہوا کرتا تھا کہ جس میں ساری خبریں حکومت کی اور مثبت انداز میں ہی پیش کی جاتی تھیں تاہم وقت گزرنے کے ساتھ،ساتھ صحافت کو آزادی ملتی رہی جس کے باعث اخبارات میں اضافے کے ساتھ ٹی وی چینل میں بھی اضافہ ہوا۔عوام آواز کے ساتھ ان کے مسائل، باصلاحیت عوام کی پذیرائی، غلط کاموں کی روک تھام اور مثبت کی ترویج و اشاعت کو منظم انداز میں آگے لایا گیا۔ اس وقت بھی ا گر دیکھا جائے تو قومی ٹی چینل کے بجائے عوام کی بڑی تعداد ان ٹی وی چینل کو زیادہ دیکھنا پسند کرتی ہے جس میں انہیں آزادی دیکھائی دیتی ہے۔ اس پیشے کی اہمیت کا احساس دنیائے کرکٹ کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی شاہد آفریدی کو بھی ہے جنہوں تعلیم کے میدان میں اپنی خدمات جامعہ کراچی کے اسی شعبے میں پیش کیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ شعبہ ابلاغ کے ذمہ داران اس دن کو منانے کے ساتھ اس بات کو اپنے سامنے مستقل رکھیں کہ انہیں کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت جہاں کہیں بھی مسلمان مظلوم نظر آرہے ہوں، ان کی خبروں کو اپنے قلموں سیکسی بھی طرح سے ازخود یاکسی کے دباؤمیں آکر ختم یا کم نہیں کریں گے بلکہ وہ معاشرے کے چوتھے ستون کی ہی حیثیت سے احسن انداز میں ان کیلئے کام کریں گے۔ ایک صحافی جب حق اور سچ کیلئے لکھے گا، اس کیلئے کھڑا ہوگا، اسی حوالے سے خبر دیگا تو اس عمل کے مثبت اثرات بڑھنے کے ساتھ مترب ہوتے چلے جائیں گے، دنیا بھر میں صحافیوں نے حقائق کی تشہیر، خبر کے حصول اور دوران ڈیوٹی اپنے جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال 110 صحافی فرائض کی ادائیگی کے دوران مارے گئے۔جبکہ روزنامہ جنگ کی ایک رپورٹ کے مطابق فقد پاکستان میں ایک سال کے اندر صحافیوں اور میڈیاہاوسزپر 157 حملے اور 5 فعال صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے،جس میں35 فیصد اسلام آباد، 17 فیصد پنجاب، 16فیصد سندھ، 14فیصد بلوچستان، 10فیصد پختونخواہ، اور 8فیصد فاٹا میں ہوئے،یہ تو ان شہروں کی بات ہے جوپاکستان کے آئینی صوبہ اور آئینی حقوق رکھنے والے افراد کی ایسے میں پاکستان کے غیر آئینی صوبے کی بات کرنا ہی فضول سمجھتا ہوں میرے گلگت بلتستان جسے ستر سالوں سے تمام تر بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے تو یہی ایک آزادی صحافت کے متعلق بات کرنا شائد نامعقول ہوگا یہاں کے صحافی حضرات کو جو مشکلات در پیش ہے ان کو لکھنے کی گنجائش بھی نہیں اور اگر کوئی لکھے توشنوائی بھی نہیں، یہاں اندھیری نگر میں اندھوں کی راج ہے سوشل میڈیا پر کی جانے والی کمنٹس اور سٹیٹس کو جواز بنا یہاں کے لوگوں کو پابند سلاسل کیا جاتا ہے،جس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں،میرے خیال میں پاکستان بھر میں سب سے زیادہ صحافت اور صحافیوں کا یہاں پر خطرہ ہے۔صحافت معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے، اگر سچائی کے ساتھ صحافت کی کارگزاری ہوگی تو یہ زمانے کی روش و رفتار اور عمرانی ضرورتوں کو پورا کرنے کی صلاحیت بھی رکھے گا۔جہاں ہم پریس کی آزادی کی بات کرتے ہیں، وہیں ہمارے ملک میں کسی بھی آزادنہ رپورٹ شائع کرنے یا اس پر بات کرنے سے پہلے بہت سے عوامل سے گزرنا پڑتا ہے، دہشت گردوں، عسکری ونگز اور ایجنسیز کی جانب سے ہونے والے رویوں اور ایکشن کے بعد پاکستان کو صحافیوں کیلئے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔حملے، دھمکیاں، اغوا،جبری برطرفیاں، تنخواہوں کی عدم ادائیگیاں،یہ وہ حالات ہیں جس میں صحافی اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کے لوگوں کو با خبر رکھنے کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں، دنیا کی سب سے بڑی سیکولر ریاست ہونے کا دعویٰ کرنے والے بھارت میں بھی صحافی اور صحافی تنظیموں کی حالت مختلف نہیں، جہاں حکومت اور مذہبی انتہا پسندی پر آواز بلند کرنے پر قتل کردیا جاتا ہے، جب کہ معروف چینل این ڈی ٹی وی سمیت کئی چینلز کو پابندی کے باعث بند بھی کیا گیا۔عالمی رپورٹ کے مطابق ،شام اورعراق صحافیوں کے لیے خطرناک ترین جبکہ ایشیا میں بھارت صحافیوں کے لیے خطرناک ثابت ہوا۔ دنیا کے کئی ممالک میں آزادی صحافت پر مکمل جبکہ متعدد ممالک میں جزوی پابندی عائد رہی۔ یونیسکو کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ادارہ نے 2030 کے لیے استحکام پذیر ترقیاتی مقاصد کے حصول کا عہد کررکھا ہے تاکہ دنیا سے غربت کا خاتمہ ہو، نوع انسانی کو خوشحالی نصیب ہو،امن عالم کے آدرش کو فروغ حاصل ہو اور کرہ ارض کے تحفظ کے لیے مذکورہ مقاصد پر پر جوش انداز میں کام کیا جائے۔تاہم یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوگا جب اطلاعات کا معیار بلند تر ہو اور صحافت آزاد اور ہر قسم کے خوف و خطر اور ہولناک حملوں سے محفوظ ہو جب کہ عالمی صورتحال اس کے برعکس ہے۔





Comments